قصہ نوح علیہ السلام

نوح علیہ السلام کا قصہ  قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے، قرآن مجید کی کل ۲۹ سورتوں میں ، حضرت نوح علیہ السلام کا  نام  ۴۳ مرتبہ آیا ہے اور ایک سورت کا نام بھی آپ کے نام پر،

  • حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ  ایمان، دعوت،  مصیبتوں پر بے پناہ صبر، استقامت  اور عظیمت کی ایک عظیم داستان ہے
  • حضرت نوح علیہ السلام اولو العزم پیغمبروں میں سے ہیں، قرآن  مجید میں حضرت نوح  علیہ السلام کو پہلے صاحب شریعت اور صاجب کتاب پیغمبر کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے ،   آپ پہلے پیغمبر ہیں جن کی نبوت کے زمانے میں  دعوتِ حق  جھٹلانے والوں پر عذاب نازل ‌‌ہوا ۔
  • اسلامی روایات میں حضرت نوح علیہ السلام  کو حضرت آدم ؑ، شیثؑ اور ادریسؑ کے بعد چوتھا پیغمبر جانا جاتا ہے
  • حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو چالیس برس کی عُمر میں نبوّت عطا فرمائی اور سورۃ العنکبوت( 14)کے مطابق آپ نے اپنی قوم  میں  دعوت کا فریضہ 950 برس  ادا کرتے رہے ، قرآنی تصریح کے مطابق اُن کی عُمر نو سو پچاس برس سے متجاوز ہوئی۔
  • حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ایک مشرک قوم تھی  اور ” ود “، ” سواع “، ” یغوث “، ” یعوق ” اور ” نسر” نامی مختلف بتوں کی پوجا کرتے تھے  (وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا (71/23)۔ اور کہتے رہے کہ تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا اور وَدّ اور سُوَاع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر (نامی بتوں) کو (بھی) ہرگز نہ چھوڑنا)
  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ یہ (وَد، سُواع، یغوث، یعوق، نسر) حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک آدمیوں کے نام ہیں، جب وہ وفات پاگئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ جن جگہوں پر وہ اللہ والے بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بنا کر رکھ دو اور ان بتوں کے نام بھی ان نیک لوگوں کے نام پر ہی رکھ دو۔لوگوں نے عقیدت کے طور پر ایسا کردیا لیکن ان کی پوجا نہیں کرتے تھے، جب وہ لوگ دنیا سے چلے گئے اور علم بھی کم ہوگیا تو ان مجسموں کی پوجا ہونے لگ گئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
  • حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اُس سرزمین میں رہتی تھی جس کو آج ہم عراق کے نام سے جانتے ہیں۔ ]عراق میں  صابیون (Sabians )کے نام سے ایک چھوٹا سا گروہ پایا جاتا ہے، جن کا ایک مستقل دین ہے… اُن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم حضرت نوح علیہ السلام کی کتاب، اور اُن کے دین پر عمل پیرا ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایک زمانے میں حضرت نوح علیہ السلام کی پوری کتاب ہمارے پاس موجود تھی، لیکن اِمتدادِ زمانہ کے سبب اَب وہ ناپید ہے… اُس کے مندرجات صرف چار پانچ سطروں میں ہمارے پاس موجود ہیں، جن میں اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ ’’خطباتِ بہاولپور‘‘ ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم[
  • حضرت نوح  علیہ السلام  کا قصہ محض قصہ گوئی کی خاطر بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس  کے بیان کرنے  کا مقصدکفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم محمد ﷺ کے ساتھ وہی رویہ اختیار کر رہے ہو جو حضرت نوح  علیہ السلام  کے ساتھ ان کی قوم نے اختیار کیا تھا، اور اس رویے سے اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں بھی وہی انجام دیکھنا پڑے گا جو ان لوگوں نے دیکھا

قوم  نوح  ؑ کی خرابی

  • قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کے جِس صالح نظام ِ زندگی پر حضرت آدم علیہ السلام اپنی اولاد کو چھوڑ گئے تھے، اُس میں سب سے پہلا بگاڑ حضرت نوح علیہ السلام کے دَور میں رونما ہوا  اور  ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مامور فرمایا۔
  • قرآنِ مجید کے دوسرے مقامات سے ہمیں معلوم ہوتا  ہے کہ  آپ کی قوم  نہ تو اللہ کے وجود کی منکر تھی، نہ اس سے ناواقف تھی اور نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا، بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ مبتلا ہوگئی تھی، شرک کی گمراہی تھی
  •  اُنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں اور عبادت کے حق میں شریک بنالیا تھا۔ پھر اس بنیادی گمراہی سے بے شمار خرابیاں اس قوم میں پیدا ہوگئیں:
  • شرک کے نتیجے میں انسان کے اندر سب سے پہلی خرابی غیر ذمہ داری کا پیدا ہونا  ہے ، جس کے سبب انسان یہ سمجھتا ہے کہ دنیاوی “ہستی” کا دامن پکڑا ہو اہے،  جس کا سہارا تھاما ہوا ہے… وہ دنیا میں بھی اُس کو مشکلات سے بچائے گا اور آخرت میں بھی وہی سفارش کریگا، اور اللہ تو ویسے بھی غفور و رحیم ہے… اس لیے گناہ ، شرک اور بے راہ روی پر شیر اور دلیر ہوجاتا ہے
  • دوسری بڑی خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ ایک جھوٹے خدا کو ماننے سے سینکڑوں جھوٹے خدائوں کو ماننا پڑتا ہے، یہ جھوٹے خدا تمام مذہبی، سیاسی اور معاشی اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں، ان جھوٹے خداؤں کی نمائندگی  کے لیے ایک خاص (استحصالی) طبقہ پیدا ہو جاتا ہے( جس سے انسان  اونچ نیچ، اور طبقات میں تقسیم ہو جاتے ہیں)- اجتماعی زندگی  میں ظلم و فساد بھر جاتا ہے
  • تیسری بڑی خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ اپنے دائرے میں ہر شخص خدائی کرنے لگتا ہےاس طرح جس کی لاٹھی اُس کی بھینس… اور قبضہ سچا دعویٰ جھوٹا کا اصول پوری سوسائٹی میں جاری ہوجاتا ہے، نتیجتاً  پیدا ہونے والی کشمکش معاشرے کی تباہی کا سبب بنتی ہے

قصہ نوح علیہ السلام   کی عالمگیریت

نوح علیہ السلام ( اور ان کے زمانے میں آنے والے طوفان  )کا قصہ   توحید ی مذاہب (monotheistic religions)کے علاوہ دنیا کے دیگر کئی مذاہب اور  قوموں میں  بیان کیا جاتا ہے۔ ان  میں

  • بابل کی تاریخوں، ہند کے رزمیوں، ویلز، اسکینڈی نیویا، لتھونیا، چین ،  یونان ، بلاد ما بين النهرين (Mesopotamian)کہانیوں، قدیم مصری اقوام میں، جزائر  انڈیمان   کالاپانی شامل ہیں
  • قصۂ نوح   ؑ / ایک  عالمگیر طوفان یا اس سے قصے سے ملتی جلتی روایات یونان ، مصر، ہندوستان کی ہندو تہذیب اور چین کے  علاوہ   برما، ملایا، جزائر شرق الہند، آسٹریلیا، نیوگنی اور امریکہ  کے اصل باشندوں میں بھی ایسی ہی روایات قدیم زمانہ سے چلی آ رہی ہیں ۔
  • قدیم سمیری داستانوں میں مٹی کی تختیوں(Hieroglyph) پر جلج موس کا اور اس کے طوفان کا ذکر ہے اور اس بڑی کشتی کی تفصیل درج ہیں،  قدیم  کسدی(Chaldeans ) روایات میں میں بھی  اس طوفان  اور اس میں بچ جانے والوں کا ذکر  ہے، اس طرح قدیم پاک و ہند میں ہنود روایات ملتی ہیں۔ مہا بھارت میں طوفان کے ہیرو رشی منو کا ذکر ہے۔ اور طوفان اور کشتی کا بھی

دنیا کے مختلف  خطوں  کی  انسانی آبادیوں میں  طویل زمانے سے   کم و بیش ایک جیسے  قصے  کے پائے جانے  کی ممکنہ طور پر تین  وجوہات ہو سکتی ہیں

  1. یہ قصہ اُس عہد سے تعلق رکھتا ہے جبکہ پوری نسلِ آدم کسی ایک ہی خطہ زمین میں رہتی تھی اور پھر وہاں سے نکل کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی۔ اسی وجہ سے تمام قومیں اپنی ابتدائی تاریخ میں ایک ہمہ گیر طوفان کی نشان دہی کرتی ہیں، اگرچہ مرورِ ایام سے اس کی حقیقی تفصیلات انہوں نے فراموش کر دیں اور اصل واقعہ پر ہر ایک نے اپنے اپنے تخیل کے مطابق افسانوں کا ایک بھاری خول چڑھا دیا۔
  2. جو لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے انہوں نے اس واقعہ کی تفصیل لکھ ڈالی
  3. اللہ نے جو آسمانی کتابیں نازل فرمائیں ان میں اس واقعہ کا اسی طرح ذکر کیا گیا جس طرح کہ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا
  4. بنی  اسرائیل  میں اس واقعہ کا چرچا زیادہ اس لیے رہا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار کروایا تھا جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۳(ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعْ نُوحٍ) سے ظاہر ہے
  5. امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ مسخ ہوتا گیا اور مختلف علاقوں میں مختلف داستانوں کی شکل اختیار کرتا گیا۔ لیکن چار باتیں مختلف شکلوں ہی میں سہی لیکن مشترک رہیں۔
  •  طوفان سے بچنے کے لیے ایک بڑی سی کشتی کا استعمال کیا گیا۔ کشتی کی تفصیلات مختلف داستانوں میں مختلف رہیں۔
  • کشتی میں ایک بزرگ شخصیت اور ان کی بیوی سوار تھے۔ ان کے نام مختلف داستانوں میں مختلف ہیں
  • کشتی میں انسانوں کے علاوہ دوسرے جاندار بھی سوار کروائے گئے جن کی تفصیل مختلف ملتی ہیں
  • کشتی طوفان کے اختتام پر ایک پہاڑ کی چوٹی پر جا ٹھہری۔ پہاڑ کی چوٹی کا نام مختلف داستانوں میں مختلف ہے

طوفان نوح کا زمانہ

طوفان نوح کے زمانے کے حوالےسے بہت  سی  غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور ان غلط فہمیوں کی بنیادی وجہ آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام اور نوح علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کا تعین ہے

بائبل( عہد نامہ عتیق) کے حوالے سے ڈاکٹر موریس بُکائی (Maurice Bucaille) نے  تاریخوں، سلسلۂ  انساب وغیرہ کا ایک چارٹ پیش کیا ہے ،  اس چارٹ کے مطابق:

  •   نوح علیہ السلام، آدم علیہ السلام کی پیدائش کے ۱۰۵۶ ویں سال پیدا ہوئے
  •  بائبل ہی کے  مطابق جب نوح علیہ السلام کی عمر ۶۰۰ سال کی ہوئی تو طوفان کا واقعہ پیش آیا
  • نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش میں (۸۹۲) سال کا فرق ہے
  • چونکہ طوفان کے وقت نوح کی عمر ۶۰۰ سال تھی اس لیے ابراہیمؑ کی پیدائش طوفان کے (۲۹۲) سال بعد ہوئی – اور ۱۸۵۰ قبل مسیح کو ابراہیمؑ کا دور بتایا جاتا ہے
  • اس حساب سے (۱۸۵۰+۲۹۲=۲۱۴۲) قبل مسیح میں طوفان کا وقوع ہونا چاہیے
  • اس طرح  نوح علیہ  السلام  کا سنِ پیدائش اندازاً  ۳۱۹۸ قبل مسیح بنتا ہے۔ اگر  اس میں ۲۰۲۳   عیسوی سال ملا دیئے جائیں تو زمین پر انسان کی عمر صرف ۵۲۲۱ سال بنتی ہے

اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے زمین کو بڑی شان سے پیدا کرنے کا اہتمام اس لیے فرمایا کہ اُس زمین پر انسان کو صرف  ۵-۶ ہزار سال رہنے بسنے دے؟بائبل میں  ان تاریخوں کے تعین سے یہ بات بھی محال نظر آتی ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد ۵-۶ ہزار سال میں تقریباً ایک لاکھ ۲۴ ہزار انبیاء و رسل مبعوث ہوئے،ڈاکٹر موریس بُکائی  کا استدلال ہے کہ یہ واقعہ کسی بھی طرح بائبل کے حساب سے اکیسویں صدی ق م میں پیش آہی نہیں سکتا بلکہ اس کو پیش طویل زمانے گذرے ہیں،

 نوح علیہ السلام  کی دعوت ِ اللہ

  • اللہ کی طرف دعوت انبیاء علیہم السلام کا بنیادی فریضہ ہے ، تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کو معبو د برحق، وحدہٗ لاشریک ماننے کی دعوت دی (سورۃ الاعراف، الانعام، اور سورۃ  ہود  میں  اس کا تفصیلی تذکرہ)
  • نوح علیہ السلام نے بھی اپنی  قوم کو یہی دعوت دی ،

لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ،

بیشک ہم نے نوح علیہ السلام کو  ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے کہا: اے میری قوم (کے لوگو!) تم اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، یقیناً مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

  • دعوت کے میدان میں نوح علیہ السلام  ایک نمایاں مقام  رکھتے ہیں  اور آپ اس حوالے سے عظیمت کا مینار ہیں، قرآن مجید میں کسی نبی کی مدتِ تبیلغ کا صراحت سے ذکر نہیں کیا گیا لیکن نوح  علیہ السلام کے ضمن میں یہ بات صراحت سے موجود ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو برس  دعوت دی
  • آپ علیہ السلام کی دعوت کے تین نکات  تھے:

(۱) عبادتِ رب: کفر و شرک چھوڑ دو ،اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو ،

(۲) استغفار: اللہ  کی طرف پلٹ آؤ،تقویٰ کو اپنا شعاربنا لو،جب تم متقی اور  پرہیز گار بن جاؤ گے تو فسق و فجور،ظلم و ستم ، لوٹ کھسوٹ، جھوٹ اور غیبت، خود غرضی اور حرص کی  پالیدگیوں سے تمہارا دامن پاک ہوجائےگا، تم پر زمین اور آسمان سے نعمتوں کی بارش ہو گی

(۳)اطاعتِ رسول:  تم میری اطاعت کرو ،تمہارے رب نے مجھے مرشد و رہنما بنا کر مبعوث فرمایا ہے میں تمہیں سیدھی راہ پر لے چلوں گا اور  منزل مراد تک پہنچادوں

  • آپ نے اپنی قوم کو دن کو بھی دعوت دی اور رات کو بھی ، اعلانیہ بھی دعوت دی اور چپکے چپکے بھی، اسلوب بدل بدل کے دعوت دی ۔ مسلسل انکار، تکذیب، استہزاء، اور ظلم و ستم  کے باوجود  دعوت کے فریضے میں ایک ہزار سال میں بھی کوئی کمی نہ آئی

Check Also

قصہ نوح علیہ السلام کے اسباق و رموز

حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک اولوالعزم رسول، جنہوں نے  کم …