علوم القرآن

  • قرآن مجید بنیادی طور پر  دعوت کی ایک  کتاب ہے ؛ انسان کو دعوتِ الٰہی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی قوم کو جب انذار کیا اور ان تک حق کاپیغام پہنچایا تو قرآن کریم ہی آپ کا آلۂ انذار اور ذریعہ دعوت تھا
  • قرآنِ مجید  میں  اس کی اصل اس کی دعوت، اس کے دلائل اور مطالبات کی تفصیل ہے  کہ یہ کتاب کیا دعوت  دیتی ہے ، اس دعوت کی اساسات کیا ہیں ، کن اخلاقی قدروں کو یہ کتاب  اجاگر کرتی ہے ،  قانون کی سطح پر  اس کے کیا مطالبات ہیں، کس قسم کی شخصیت کی تشکیل اس کے پیشِ نظر  ہے ؟ یہ سب اور ان سے متعلقہ لوازمات قرآنِ مجید  کے مضامین ہیں
  • قرآنِ مجید اگرچہ  ہزاروں آیات پر مشتمل ایک الہامی کتاب ہے  لیکن قرآن کے مضامین تعداد میں کافی کم ہیں
  • مختلف مفسرین ِقرآن نے اپنے اپنے علم کے مطابق مضامین قرآن کی تعدادبیان کی ہے، ان میں  حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  کے بیان کردہ  پانچ   بنیادی مضامین ِ قرآن  اہمیت کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہیں جو انہوں نے  اپنے اصول التفسیر پر شاہکار رسالے الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں بیان کئے ہیں، ان کو علومِ خمسہ یا علومِ پنجگانہ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے

ان کے مطابق   قرآنِ مجید کے مضامین کو بنیادی طور پر  پانچ علوم  میں تقسیم کیا جا سکتا ہے علمِ احکام، علمِ مناظرہ  ، علمِ تذکیر بآلاءِ اللہ، علمِ تذکیر بایّامِ اللہ، علمِ تذکیر بالموت

قرآن مجید کے یہی پانچ بنیادی علوم ہیں جن کومختلف الفاظ و اسالیب میں قرآن کی مختلف سورتوں میں پیش کیا گیا ہے جو  قرآنِ مجید کے اعجازِ بیان کا منتہائے کمال ہے

1. عِلْمُ الْاَحْکَامْ:

قرآنِ مجید میں انسانوں کی فلاح کے لیے جو احکام بیان کیے گیے ہیں انکا جاننا ’’عِلْمُ الْاَحْکَامْ ‘‘ کہلاتاہے ۔  ان احکام میں واجب، مستحب، مکروہ، حلال و حرام شامل ہیں ۔ ان احکام کا تعلق عبادات(نماز، روزہ، حج زکوۃ)، مناکحات(نکاح، طلاق، خلع وغیرہ) ، معاملات (تجارت، وصیت، وراثت وغیرہ)، ریاست سے متعلق، دستوری قانون، فوجداری قانون (حدود)، پروسیجرل لاء (الادب القاضی) اور بین الاقوامی قانون (السیر) شامل ہیں۔

یہ احکام دوقسم کے ہیں۔(۱) اوامر: اس سے مراد وہ احکام ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہو ( اس میں عبادات اور معاملات  کی تمام  اقسام شامل ہیں (۲) نواھی: اس سے مراد وہ احکام ہیں جن سے کسی کام کے کرنے سے منع کیا گیا ہو، جو بنی نوعِ انسان کے لیے مضر ہیں اور ان کے کرنے سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً:شراب خوری، سودخوری،قتلِ عمد، جؤا وغیرہ

قرآن میں آیاتِ احکام  کی  تعدادتقریباً  500 ہے

2. عِلْمُ الْمُخَاصِمَه:

علم مناظرہ – علم المخاصمه سے مراد تقابل ادیان(comparative study of religions)  یا مذاہب گروہوں کے عقائد سے بحث و مباحثہ کرتا ہے  اس علم میں ان قرآنی آیات کا  علم  شامل ہے جن میں گمراہ اقوام مشرکین، یہود،نصاریٰ اور مُنافقین کے باطل عقائد کو واضح کیا گیا ہو اور ان کے عقائد کو قرآن مجید اور سنت نبوی کی روشنی میں ردکیا گیا ہو ( اس میں شرکیہ عقائد کا ابطال، توحید کا اثبات، عقیدہ آخرت اور حیات بعد الموت پر دلائل، صاریٰ کے عقیدہ تثلیث، مسیح علیہ السلام کی الوہیت، ابنیت اور مصلوبیت کا رد ، منافقین کا نفاق اور اخلاص کی ترغیب شامل ہیں)

  3. عِلْمُ التَّذْکِیْرَبِالٰاءِ الله:

اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور نشانیوں یعنی تخلیقِ ارض و سما اور  اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا  بیان اور اس کا علم ( اس کے تحت  آفاق و انفس میں بکھرے دلائل، اس کی کمالِ قدرت، اس کی بے مثال صناعت و خلق ، جیسے زمین و آسماں کی تخلیق ، رات اور دن کے بدلنے، ہواؤں کے چلنے، بادلوں کے برسنے ، ان کے ذریعے مردہ زمین کے زندہ ہونے، سمندروں، پہاڑوں، صحراؤں، چوپایوں اور اس طرح کے بے شمار مظاہر میں لا تعداد نشانیاں اور ان پر  دلائل  شامل ہیں)

4. عِلْمُ التَّذْکِیْرِبِاَیَّامِ اللّٰه:

اس علم سے مراد قرآن مجید میں گزشتہ گمراہ اقوام کی تباہی وبربادی کی وجوہات کا علم ہے، اس کو علمِ قصص بھی  کہا جاتا ہے، اس میں  تباہ شدہ اقوام کی تباہی کی علت اخلاقی بتائی گئی ہے یعنی  سرکشی اور رسولوں کی دعوت کا انکار

ان واقعات کے بیان کرنے  کا  مقصد (۱) افراد  و  اقوام کو زمانہ کے ناقابلِ تغیر اصولوں سے آگاہ کرناانذار اور عبرت آموزی ہے اور مخاطبین کو  متنبہ کیا گیا کہ اگر وہ بھی اسی روش پر گامزن رہے جس پر یہ تباہ شدہ قومیں چلتی رہیں تو سنت اللہ کے مطابق ایک دن ان کو بھی اسی انجامِ بد سے دوچار ہونا ہے

ان تاریخی واقعات کے بیان سے قرآن کی ایک غرض یہ بھی کہ اہلِ ایمان اس سے یاد دہانی حاصل کریں(وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِين)

5. عِلْمُ التَّذْکِیْرِ بِالْمَوْت وَمَابَعْدَه:

اس علم کا تعلق وقوع قیامت، حشر و نشر، پرسشِ اعمال اور جزا و سزا یعنی جنت اور دوزخ کے احوال و مقامات کے بیان سے ہے۔ موت اور اس کے مابعد کے حقائق کا ذکر کرکے دراصل انسان کی ذمہ داری کو متحقق اور ثابت کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ انسانی اعمال فانی نہیں ہیں بلکہ ان پر اس کی ابدی کامیابی کا انحصار ہے

علوم  القرآن پر  لکھی  گئی کتب

علوم القرآن میں وہ تمام مباحث شامل ہوتے ہیں جن کا قرآن کریم سے کسی نہ کسی طرح تعلق ہو، خواہ وہ  فہم قرآن کے لیے ضروری ہوں یا نہ ہوں

  1. الاتقان فی علوم القرآن(اردو ترجمہ) –  علامہ جلال الدین سیوطیؒ
  2. مباحث فی علوم القرآن(اردو ترجمہ) -مناع القطانؒ
  3. علوم القرآن  ( دو جلدیں) مولانا گوہر الرحمن ؒ
  4. علوم القرآن (اردو ترجمہ) – ڈاکٹر صبحی صالح     ؒ
  5. علوم القرآن  – مولانا محمد تقی عثمانی   ؒ
  6. مجموعہ علوم القران – نواب سید محمد صدیق حسن خانؒ
  7. منازل العرفان فی علوم القران (اردو)- مولانا  محمد مالک کاندھلوی
  8. محاضراتِ قرآنی –  ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
  9. احسن البیان فی علوم القرآن –  ڈاکٹر حسن الدین ا حمد

Check Also

قرآنِ کریم میں مذکور نسبی یا خونی رشتے

لفظ  -واحد جمع اردو معنی أَبٌ آبَاءٌ باپ؛ بعض مواقع پر باپ دادا اور آباؤ …