عذابِ قبر

  • سورۃ النحل کی ( ذیل میں دی گئی ) آیت ۲۹ اور کئی دیگر آیات صریح طور پر عذاب وثواب قبر کا ثبوت دیتی ہیں:(جب) فرشتے ان لوگوں کی جانیں نکالتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ فرمانبرداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی براعمل نہیں کرتے تھے۔ ہاں کیوں نہیں یقیناً اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے جو تم عمل کیا کرتےپس تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو۔ تو یقیناً تکبر کرنے والوں کا بہت برا ٹھکانہ ہے
  • عذاب قبر کا عقیدہ قرآن ،احادیث اور اجماع سے ثابت ہے, اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ عذاب قبر برحق ہے اور اس پر قرآن  کے علاوہ  متعدد احادیث  بھی دلالت کرتی ہیں
  • تاہم  منکرین احادیث اور بعض مستشرقین نے  اس کا انکار کیا ہے کہ  قبر میں مردوں کو عذاب قبر ہوتا  ہے ، ان کا اس بات پہ اصرار ہے کہ  مرنے کے بعد ( قبر/برزخ) کا عالم بالکل عدم محض کا عالم ہے جس میں کوئی احساس اور شعور نہ ہوگا۔ اور کسی قسم کا عذاب یا ثواب نہ ہوگا
  • سورۃ النحل  میں آیت ۲۸ سے ۳۲  تک میں  کفار کی روحیں قبض کرنے  اور ان کو  پیش آمدہ برے حالات  کی خبر دیتے ہیں فرشتے ، اسی طرح  متقین کی روحیں  قبض کرنے  اور ان کو پیش آمدہ اچھے حالات کی خوشخبری دی جاتی ہے  جو برزخ کی زندگی، احساس، شعور ، عذاب اور ثواب کا  واضح اور کھلا ثبوت ہے (اس کے علاوہ  دوسرے مقامات پر بھی اس طرح کے براہین موجود ہیں جن کا ذکرآگے کیا گیا ہے)
  • قرآن اور حدیث دونوں سے موت اور قیامت کے درمیان کی حالت کا ایک ہی نقشہ معلوم ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ موت محض جسم و روح کی علیحدگی کا نام ہے نہ کہ بالکل معدوم ہوجانے کا
  • جسم سے علیٰحدہ ہوجانے کے بعد روح معدوم نہیں ہوجاتی بلکہ اس پوری شخصیت کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو دنیا کی زندگی کے تجربات اور ذہنی و اخلاقی اکتسابات سے بنی تھی۔ اس حالت میں روح کی شعور، احساس، مشاہدات اور تجربات کی کیفیت خواب سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ یہ مجرم روح سے فرشتوں کی باز پرس اور پھر اس کا عذاب اور اذیت میں مبتلا ہونا اور دوزخ کے سامنے پیش کیا جانا، سب کچھ اس کیفیت سے مشابہہ ہوتا ہے جو ایک قتل کے مجرم پر پھانسی کی تاریخ سے ایک دن پہلے ایک ڈراؤنے خواب کی شکل میں گزرتی ہوگی۔ اسی طرح ایک پاکیزہ روح کا استقبال، اور پھر اس کا جنت کی بشارت سننا، اور جنت کی ہواؤں اور خوشبوؤں سے متمتع ہونا ایک خوشگوار خواب کی طرح ہو گا ( اور نفخ صور پر وہ کہیں گے کہ یہ کس نے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے اٹھا دیا؟)
  • امام بخاری ؒنے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الجنائز کا عنوان “بابُ ما جاءَ فی عذابِ القبر” لگا کر اس کی تائید کی ہے اور  ثبوت میں قرآن کی یہ آیت پیش کیا ہے

وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ، (الانعام:93)

کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ “لاؤ، نکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے

  • امام بخاری ؒ نے عقیدہ ٔعذاب قبر کے برحق ہونے  کے ساتھ ساتھ  اس بات کو بھی بیان کیا ہے کہ  گناہ گاروں ،عاصیوں  اور کافروں پر عذابِ آخرت کی شروعات روح کے نکلنے کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے:

فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ‎﴿٤٥﴾‏ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ‎﴿٤٦﴾‏

آخرکار اُن لوگوں نے جو بری سے بری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آ گئے، دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی تو حکم ہو گا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو – (سورة المومن/الغافر)

یہ قبر (برزخ) کے عذاب کا سب سے واضح  ثبوت ہے ( امام رازی نے  اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ عذابِ قبر پر استدلال ہے اس لیے کہ فرعون و آلِ فرعون کو یہ آگ پر پیش کیا جانا قیامت کے دن ہونا مراد نہیں لیا جاسکتا، كيونكہ آگے اس بات کی وضاحت  کر دی گئی ہے ،اور نہ ہی اس سے دنیا میں آگ کا پیش کیا جانا مراد لیا جا سکتا ہے، کیونکہ دنیا میں ان کے ساتھ ایسے نہیں ہوا، لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ یہ آگ کا پیش کیا جانا موت کے بعد اور قیامت سے پہلے ہوگا اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرعون اور آل فرعون کے لیے قبر میں عذاب قبر ثابت ہے

امام  رازی  کے علاوہ بھی دیگر جید مفسرین سلف  جن میں امام مجاہد، عکرمہ، محمد بن مقاتل اور محمد بن کعب، امام قرطبی ، ابن کثیر سب اس آیتِ کریمہ سے  عذابِ قبر کے اثبات کے قائل ہیں

امام بخاری ؒ نے قرآن کے ان چار مقامات کو  عذابِ قبر کی واضح دلیل بتایا ہے ۔سورۃ الانعام- آيت:93، سورۃ التوبة – آيت:101، سورۃ غافر – آيت:45-46 ،  سورۃ ابراهيم – آيت:27

  • وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ ۔

تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے [9:101]

اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، امام قتادہ اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ دوہرے عذاب سے مراد “عذاب ِ قبر”ہے۔

  • جناب زید بن ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺایک مرتبہ بنو نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے کہ اچانک آپﷺکا خچر بدکا اورقریب تھا کہ آپﷺکو گرادے ناگہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں معلوم ہوئیں۔رسول اللہ ﷺنے ارشاد  فرمایا کہ ان قبر والوں کو کوئی جانتاہے۔ایک شخص نے کہا میں (جانتاہوں) آپؐ نے پوچھا کہ یہ کب مرے ہیں؟وہ بولا شرک کے زمانے میں، تو آپﷺنے فرمایا:

إِنَّ هَذِهِ الأمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ

یہ میت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے پس اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم(مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑدو گے تو میں ضرور اللہ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تم کو بھی قبر کاعذاب سنادے جس  طرح میں سنتا ہوں”(صحیح مسلم کتاب الجنۃ ومشکاۃ المصابیح ومسنداحمد 190/5 ومصنف ابن ابی شیبه 373/3)

یہ بھی دیکھیں

دل کو نور کا اہل بنانا – عملی رہنمائی اور اطلاق

دل کی اہمیت آیتِ نور اور نور سے متعلق مسنون دعاؤں سے معلوم ہوتا ہے …