عذابِ قبر

  • سورۃ النحل کی ( ذیل میں دی گئی ) آیت ۲۹ اور کئی دیگر آیات صریح طور پر عذاب وثواب قبر کا ثبوت دیتی ہیں:(جب) فرشتے ان لوگوں کی جانیں نکالتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ فرمانبرداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی براعمل نہیں کرتے تھے۔ ہاں کیوں نہیں یقیناً اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے جو تم عمل کیا کرتےپس تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو۔ تو یقیناً تکبر کرنے والوں کا بہت برا ٹھکانہ ہے
  • عذاب قبر کا عقیدہ قرآن ،احادیث اور اجماع سے ثابت ہے, اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ عذاب قبر برحق ہے اور اس پر قرآن  کے علاوہ  متعدد احادیث  بھی دلالت کرتی ہیں
  • تاہم  منکرین احادیث اور بعض مستشرقین نے  اس کا انکار کیا ہے کہ  قبر میں مردوں کو عذاب قبر ہوتا  ہے ، ان کا اس بات پہ اصرار ہے کہ  مرنے کے بعد ( قبر/برزخ) کا عالم بالکل عدم محض کا عالم ہے جس میں کوئی احساس اور شعور نہ ہوگا۔ اور کسی قسم کا عذاب یا ثواب نہ ہوگا
  • سورۃ النحل  میں آیت ۲۸ سے ۳۲  تک میں  کفار کی روحیں قبض کرنے  اور ان کو  پیش آمدہ برے حالات  کی خبر دیتے ہیں فرشتے ، اسی طرح  متقین کی روحیں  قبض کرنے  اور ان کو پیش آمدہ اچھے حالات کی خوشخبری دی جاتی ہے  جو برزخ کی زندگی، احساس، شعور ، عذاب اور ثواب کا  واضح اور کھلا ثبوت ہے (اس کے علاوہ  دوسرے مقامات پر بھی اس طرح کے براہین موجود ہیں جن کا ذکرآگے کیا گیا ہے)
  • قرآن اور حدیث دونوں سے موت اور قیامت کے درمیان کی حالت کا ایک ہی نقشہ معلوم ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ موت محض جسم و روح کی علیحدگی کا نام ہے نہ کہ بالکل معدوم ہوجانے کا
  • جسم سے علیٰحدہ ہوجانے کے بعد روح معدوم نہیں ہوجاتی بلکہ اس پوری شخصیت کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو دنیا کی زندگی کے تجربات اور ذہنی و اخلاقی اکتسابات سے بنی تھی۔ اس حالت میں روح کی شعور، احساس، مشاہدات اور تجربات کی کیفیت خواب سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ یہ مجرم روح سے فرشتوں کی باز پرس اور پھر اس کا عذاب اور اذیت میں مبتلا ہونا اور دوزخ کے سامنے پیش کیا جانا، سب کچھ اس کیفیت سے مشابہہ ہوتا ہے جو ایک قتل کے مجرم پر پھانسی کی تاریخ سے ایک دن پہلے ایک ڈراؤنے خواب کی شکل میں گزرتی ہوگی۔ اسی طرح ایک پاکیزہ روح کا استقبال، اور پھر اس کا جنت کی بشارت سننا، اور جنت کی ہواؤں اور خوشبوؤں سے متمتع ہونا ایک خوشگوار خواب کی طرح ہو گا ( اور نفخ صور پر وہ کہیں گے کہ یہ کس نے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے اٹھا دیا؟)
  • امام بخاری ؒنے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الجنائز کا عنوان “بابُ ما جاءَ فی عذابِ القبر” لگا کر اس کی تائید کی ہے اور  ثبوت میں قرآن کی یہ آیت پیش کیا ہے

وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ، (الانعام:93)

کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ “لاؤ، نکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے

  • امام بخاری ؒ نے عقیدہ ٔعذاب قبر کے برحق ہونے  کے ساتھ ساتھ  اس بات کو بھی بیان کیا ہے کہ  گناہ گاروں ،عاصیوں  اور کافروں پر عذابِ آخرت کی شروعات روح کے نکلنے کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے:

فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ‎﴿٤٥﴾‏ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ‎﴿٤٦﴾‏

آخرکار اُن لوگوں نے جو بری سے بری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آ گئے، دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی تو حکم ہو گا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو – (سورة المومن/الغافر)

یہ قبر (برزخ) کے عذاب کا سب سے واضح  ثبوت ہے ( امام رازی نے  اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ عذابِ قبر پر استدلال ہے اس لیے کہ فرعون و آلِ فرعون کو یہ آگ پر پیش کیا جانا قیامت کے دن ہونا مراد نہیں لیا جاسکتا، كيونكہ آگے اس بات کی وضاحت  کر دی گئی ہے ،اور نہ ہی اس سے دنیا میں آگ کا پیش کیا جانا مراد لیا جا سکتا ہے، کیونکہ دنیا میں ان کے ساتھ ایسے نہیں ہوا، لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ یہ آگ کا پیش کیا جانا موت کے بعد اور قیامت سے پہلے ہوگا اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرعون اور آل فرعون کے لیے قبر میں عذاب قبر ثابت ہے

امام  رازی  کے علاوہ بھی دیگر جید مفسرین سلف  جن میں امام مجاہد، عکرمہ، محمد بن مقاتل اور محمد بن کعب، امام قرطبی ، ابن کثیر سب اس آیتِ کریمہ سے  عذابِ قبر کے اثبات کے قائل ہیں

امام بخاری ؒ نے قرآن کے ان چار مقامات کو  عذابِ قبر کی واضح دلیل بتایا ہے ۔سورۃ الانعام- آيت:93، سورۃ التوبة – آيت:101، سورۃ غافر – آيت:45-46 ،  سورۃ ابراهيم – آيت:27

  • وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ ۔

تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے [9:101]

اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، امام قتادہ اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ دوہرے عذاب سے مراد “عذاب ِ قبر”ہے۔

  • جناب زید بن ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺایک مرتبہ بنو نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے کہ اچانک آپﷺکا خچر بدکا اورقریب تھا کہ آپﷺکو گرادے ناگہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں معلوم ہوئیں۔رسول اللہ ﷺنے ارشاد  فرمایا کہ ان قبر والوں کو کوئی جانتاہے۔ایک شخص نے کہا میں (جانتاہوں) آپؐ نے پوچھا کہ یہ کب مرے ہیں؟وہ بولا شرک کے زمانے میں، تو آپﷺنے فرمایا:

إِنَّ هَذِهِ الأمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ

یہ میت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے پس اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم(مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑدو گے تو میں ضرور اللہ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تم کو بھی قبر کاعذاب سنادے جس  طرح میں سنتا ہوں”(صحیح مسلم کتاب الجنۃ ومشکاۃ المصابیح ومسنداحمد 190/5 ومصنف ابن ابی شیبه 373/3)

  • وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ ۔

تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے [9:101]

اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، امام قتادہ اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ دوہرے عذاب سے مراد “عذاب ِ قبر”ہے۔

  • جناب زید بن ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺایک مرتبہ بنو نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے کہ اچانک آپﷺکا خچر بدکا اورقریب تھا کہ آپﷺکو گرادے ناگہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں معلوم ہوئیں۔رسول اللہ ﷺنے ارشاد  فرمایا کہ ان قبر والوں کو کوئی جانتاہے۔ایک شخص نے کہا میں (جانتاہوں) آپؐ نے پوچھا کہ یہ کب مرے ہیں؟وہ بولا شرک کے زمانے میں، تو آپﷺنے فرمایا:

إِنَّ هَذِهِ الأمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ

یہ میت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے پس اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم(مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑدو گے تو میں ضرور اللہ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تم کو بھی قبر کاعذاب سنادے جس  طرح میں سنتا ہوں”(صحیح مسلم کتاب الجنۃ ومشکاۃ المصابیح ومسنداحمد 190/5 ومصنف ابن ابی شیبه 373/3)

  • عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَی بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَکَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ قَالَ کَذَا کَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ فَقَالَ مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ فَمَتَی مَاتَ هَؤُلَائِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاکِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَی فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ (صحیح مسلم)

سیدنا ابوسعید خدری ؓسے روایت ہے،….رسول اللہ ﷺبنی نجار کے باغ میں ایک خچر پر جا رہے تھے، ہم آپ ؐکے ساتھ تھے، اتنے میں وہ خچر بھڑکا اور قریب ہوا کہ آپﷺکو گرا دے۔ وہاں پر چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ” کوئی جانتا ہے یہ قبریں کن کن کی ہیں ؟ “ ایک شخص بولا : میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا :” کب مرے ؟ “ وہ بولا : شرک کے زمانہ میں۔ آپﷺنے فرمایا : ” اس امت کا امتحان ہو گا قبروں میں، پھر اگر تم دفن کرنا نہ چھوڑ دو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تم کو قبر کا عذاب سنا دیتا جو میں سن رہا ہوں۔ “ بعد اس کے آپ ﷺہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی جہنم کے عذاب سے۔ “ لوگوں نے کہا : پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی جہنم کے عذاب سے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا : ” پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی قبر کے عذاب سے۔ “ لوگوں نے کہا : پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی قبر کے عذاب سے۔ آپ ﷺنے فرمایا : ”: پناہ مانگو اللہ کی چھپے اور کھلے فتنوں سے۔ “ لوگوں نے کہا : پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی چھپے اور کھلے فتنوں سے۔ آپ ﷺنے فرمایا : ” پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی دجال کے فتنہ سے۔ “ لوگوں نے کہا : پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی دجال کے فتنہ سے۔

  • اس حدیث سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ میت کو اس ارضی قبر میں عذاب ہوتاہے اور نبی  ﷺکی یہ تمناتھی کہ جس طرح آپﷺعذاب قبر کوسنتے ہیں اس طرح آپﷺکی امت بھی عذاب قبر کو سنے لیکن  پھر اس خوف سے کہ لوگ عذاب قبر کی شدت کو سن کرمردے ہی دفن کرنا چھوڑ دیں گے لہذا آپ ﷺنے  یہ دعا نہ فرمائی۔

حضرت  عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:القَبرُ أوَّلُ مَنازلِ الآخِرةِ، قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے – (الترمذی،ابن ماجه،مشکاة المصابیح)

  • عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ – ‌صحيح البخاري – حدیث 1377

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہﷺاس طرح دعا کرتے تھے ” اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتاہوں”

  • حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ “نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مردے (کافر، مشرک، منافق) اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں اور ان (کے چیخنے چلانے) کی آوازیں سارے چوپائے سنتے ہیں ”  (طبراني، المعجم الکبير)
  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہماسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا ،  “ان دونوں کو (قبروں میں) عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی بناء پر نہیں۔ پھر فرمایا ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب کے قطروں سے احتیاط نہیں کرتا تھا۔ ”  (الصحيح بخاري، کتاب الجنائز)
  • حضرت  ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اِرشاد فرمایا:
  • ” جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اس کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ میت نیک ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہیں ہوتی تو اپنے گھر والوں سے کہتی ہے کہ ہائے بربادی مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ اس میت کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے اور اگر کوئی انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے”(الصحيح بخاري، کتاب الجنائز)
  • عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ –

(الصحيح بخاري، کتاب الجنائز و صحیح مسلم)

  • حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور پھر کہا اللہ تم کو قبر کے عذاب سے بچائے۔ عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے عذاب قبر کا حال پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں قبر کا عذاب (برحق ہے‘‘۔یہ الفاظ امام منذر نے بیان کئے ) عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس واقعہ کے بعد میں نے کبھی رسول اللہ ﷺکو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺنے کوئی نماز پڑھی ہو اور قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو
  • حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ صحابہ کو یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ (مسلم )

اے اللہ  میں تری پنہ مانگتا ہوں عذاب جہنم سے ‘ عذاب قبر سے‘ زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے شر (اور فتنہ) سے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّال ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:”جب کوئی تم میں سے نماز میں تشہد پڑھے تو چار چیزوں سے پناہ مانگے”

 

یہ بھی دیکھیں

روزِ قیامت  اعمال کا تولا جانا

oا عمال کا وزن کیا جانا −وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ  قیامت کے روز  وزن  کیا …