oا عمال کا وزن کیا جانا
−وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ قیامت کے روز وزن کیا جانا حق ہے ( الاعراف:۸)
−وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ اور ہم قیامت کے دن انصاف کاترازوقائم کریں گے (الانبیاء:۴۷)
−چونکہ انسانی ذہن اور چیزوں کو سمجھنے کے ذرائع بہت محدود ہیں اس لیے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ میزان کی صحیح صحیح کیفیت سمجھنا مشکل ہے ، جیسے وہ ترازو کیسا ہوگا، اس کے پلڑوں کی نوعیت کیا ہوگی، اعمال کو کیونکر تولا جا سکے گا وغیرہ؟ ان پر ایسے ہی مجملاً ایمان رکھنا چاہیے جس طرح حدیث جبریل میں ذکر ہے
oمیزان پہ کیا تولا جائے گا ؟
−اس ضمن میں کئی اقوال ہیں ( جو قرآن و احادیث سے ثابت ہیں)- ان میں میزان پہ (۱)انسان کا وزن کیا جانا، (۲) اعمال کےصحیفوں/ رجسٹرڈ کا وزن کیا جانا ، (۳) اعمال کا وزن کیا جانا شامل ہیں ، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ سب ایک ہیں چاہے وہ انسان ہوں، اعمال کے صحیفے ہوں یا خود اعمال جو چیز ان کو ترازو پر وزنی بنائے گی وہ اعمال کی قدر و قیمت ہے
oمیزان پہ کیا تولا جائے گا ؟
.1انسان کا وزن کیا جانا- ابوہریرہؓ سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن ایک بہت بڑے موٹے تازے آدمی کو لایا جائےگا لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس اس کاوزن ایک مچھرکے پر کےبرابر بھی نہ ہوگا۔ پھرآپﷺ نے فرمایا تم یہ آیت پڑھو:فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (الکهف:۱۰۵)یعنی ہم قیامت کے دن ایسے(نافرمان) لوگوں کا کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
.2اعمال کےصحیفوں/ رجسٹرڈ کا وزن کیا جانا -اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پردوفرشتے مقرر کردیئے ہیں جو اس کا ہر قول وفعل لکھ رہے ہیں :ارشاد ربانی ہے: إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (17) مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (18) (ق)، جب دوفرشتے لکھنے والے اس کے دائیں اور بائیں طرف بیٹھ کر ہر چیز تحریرکررہے ہیں
قیامت کے دن یہی اعمال کے رجسٹر تقسیم ہونگے اور ان کا وزن کیاجائے گا ، وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا (بنی اسرائیل:13) ، اور ہم نے ہر انسان کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکادیا ہے، جسے ہم روز قیامت ایک کتاب کی شکل میں نکالیں گے انسان اپنی اس کتاب کو اپنے سامنے کھلاہوا پائے گا… اور ان ہی صحائف اعمال کا قیامت کے دن وزن کیاجائے گا۔
oمیزان پہ کیا تولا جائے گا ؟
.3اعمال کا وزن کیا جانا- متعدد نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ روزِ قیامت اعمال کا وزن کیا جائے گا اعمال کو مجسم شکل میں پیش کیا جائے گا اور ان کا وزن ہو گا
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں (لیکن) میزان میں بھاری (اور) اللہ کو پیارے ہیں سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ العظیم ( بخاری)
حضرت ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاسبحان اللہ ترازو کے آدھے پلڑے کو اور الحمد للہ پوری ترازو کو بھر دے گا
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمام آسمان و زمین اور ان کے اندر کی موجودات اور دونوں کے درمیان کی کائنات اور زمینوں کے نیچے کی مخلوقات سب کو لا کر میزان کے ایک پلڑے میں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھ دی جائے تو یہ ان سب سے وزنی ہوگی (طبرانی)
oمیزان پر بھاری اعمال
−سُبْحَانَ اللّهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّهِ الْعَظِيم کا کلمہ
− لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ ۔ ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا حضرت نوح ؑ نے اپنی وفات کے وقت دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا میں تم کو لا الٰہ الا اللہ (کے یقین رکھنے اور اعتراف کرنے) کا حکم دیتا ہوں کیونکہ آسمانوں اور زمین کو مع اس کی موجودات کے اگر میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللہ کو رکھا جائے تو یہ (موخر الذکر) پلڑا بھاری پڑے گا ( حاکم)
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا موسیٰ اگر تمام آسمان اور میرے علاوہ ان کی ساری موجودات اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں ہوں اور دوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللہ ہو تو یہ ان (آسمان و زمین) کو لے جھکے گا (یعنی ان کا پلڑا اونچا ہوجائے گا)
−حسنِ خلق – رسول اللہ ﷺنے فرمایا حسن اخلاق سے زیادہ بھاری ، میزان میں کوئی چیز نہیں (ہو گی) ۔ (ابوداؤد،ترمذی اور ابن حبان )- رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوذر ؓسے) فرمایا ابوذر : کیا میں تجھے دو خصلتیں ایسی بتاؤں جو پشت پر تو ہلکی ہیں (یعنی جن کو اٹھانا آسان ہے) مگر میزان میں تمام دوسری چیزوں سے بھاری ہوں گی ، فرمایا حسن خلق اور زیادہ خاموشی کو اختیار کر قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان دونوں کے برابر مخلوق کا کوئی عمل نہیں۔
oمیزان پر بھاری اعمال
− اولاد کی وفات پر صبر کرنا
− الحمدلله،الله اکبر،لاالٰه الاالله،سبحان الله كہنا ، رسول اللہ ﷺکے غلام ابوسلام(ابوسلمیٰ)سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:واہ واہ پانچ چیزیں تو میزان میں بہت ہی بھاری ہونگی :لاالٰہ الااللہ ، اللہ اکبر ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، کسی کی نیک اولاد فوت ہوجائے اور والدین اس پر(صبر کرتے ہوئے)اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امیدرکھیں۔ (مسنداحمد ،طبرانی کبیر ،طبرانی اوسط)
−مسلمان کےجنازے اور تدفین میں شرکت- سیدناابوھریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:جو آدمی ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلے(یعنی نماز جنازہ میں شریک ہو) اور تدفین تک ساتھ رہے تو اسے دوقیراط ثواب ملتا ہے،اور جوصرف نماز جنازہ میں شرکت کرے اور تدفین سے پہلے لوٹ آئےتو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے،ہر ایک قیراط احدپہاڑ کے برابر ہے(بخاری)
−ندامت/خشیت سے رونا- آپ ﷺکی خدمت میں ایک شخص (بیٹھا) رو رہا تھا اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے اور پوچھا یہ کون ہے حضور ﷺنے فرمایا فلاں شخص ہےجبرائیل علیہ السلام نے کہا اولاد آدم کے تمام اعمال کا وزن ہوسکتا ہے صرف رونے کا وزن نہیں ہوسکتا اللہ ایک آنسو سے آگ کے سمندر کو بجھا دے گا۔ (مسنداحمد)
oاعمال کے علاوہ جن چیزوں کو تولا جائیگا
−گھر والوں کا نان نفقہ – حضرت جابر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا قیامت کے دن بندہ کی ترازو میں سب سے پہلے اس نفقہ کو رکھا جائے گا جو بندہ نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا ہوگا-(طبرانی)
−جہاد کا سامان- ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے اللہ کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے اور ایمان رکھتے ہوئے کوئی گھوڑا (اپنے جہاد یا دوسرے مسلمان مجاہد کے لئے) روک رکھا ہوگا تو اس گھوڑے کا کھانا پینا لید اور پیشاب (ایک روایت میں اس کا چارہ اور اس کے نشاناتِ راہ بھی) قیامت کے دن اس کی میزان (کے نیکیوں کے پلڑے) میں رکھے جائیں ۔ ( بخاری و مسلم)
−قربانی کا خون اور گوشت- حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت فاطمہ ؓسے فرمایا اٹھو اور اپنی قربانی (ذبح) ہونے کے وقت اس کے پاس خود موجود رہو جو قطرہ اس کے خون کا ٹپکے گا وہ تمہارے لیے ہر گناہ کی مغفرت کا سبب ہوگا۔ خوب سن لو اس کا خون اور گوشت لا کر ستر گنا کر کے تمہاری میزان میں (قیامت کے دن وزن کے وقت) رکھ دیا جائے گا۔ یہ سن کر ابو سعیدؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ حکم آل محمد (ﷺ) کے لیے مخصوص ہے؟ فرمایا آل محمد (ﷺ) کے لیے بھی ہے اور عام مسلمانوں کے لیے بھی
−اللہ کی راہ میں دیا ہو مال ( نیکیوں کے پلڑے میں ڈالا جائے گا) – طبرانی
−قیامت کے دن علماء کی روشنائی اور شہیدوں کے خون کا وزن کیا جائے گا (حدیث)
oترازو کے پلڑے کو بھرنے کے لیے آپ ﷺ کی دعا
نبی کریم ﷺ قیامت کے دن ترازوکے نیکی والے پلڑے کو بھرنےیاوزنی کرنے کیلئے سوتے وقت مندرجہ ذیل دعاپڑھتے تھے:
« اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِیْ وَاخْسَأْ شَيْطَانِي، وَفُكَّ رِهَانِي، وَثَقِّلْ مِيزَانِي، وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِى الْأَعْلَى »
(مستدرک حاکم :۱۹۸۲،۲۰۱۲ وصحیح طبرانی کبیر: ۵۹،۷ ۵۸، صحیح الجامع الصغیر للالبانی:۴۶۴۹)
اے اللہ!تو میرے گناہ بخش دے(یہ امت کو تعلیم ہے ورنہ آپﷺ تومعصوم عن الخطاءہیں)میرے (ساتھ متعین)شیطان کو ذلیل(ناکام) کردے، میری گردن کو(جہنم سے) آزاد کردے اور میرے ترازوکوبھاری کردے اور مجھے(فرشتوں کی) اعلیٰ محفل میں شامل کردے۔
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر