“نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” (نور پر نور) آیتِ نور کا وہ مرکزی جملہ ہے جو پوری تمثیل کا خلاصہ اور نتیجہ ہے۔ مفسرین نے اس کی متعدد تشریحات کی ہیں اور ہر تشریح ایک نئے پہلو سے ایمان کی روشنی کو واضح کرتی ہے۔ یہ تشریحات باہم متعارض نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں – امام رازیؒ نے “مفاتیح الغیب” میں لکھا کہ “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کا جملہ اگرچہ مختصر ہے لیکن اس میں اتنی معنوی گہرائی ہے کہ اس پر مستقل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔مفسرین کی چند تشریحات پہلی تشریح: فطرت کا نور + وحی کا نور …
Read More »قرآن میں ” نور” کا استعمال
1۔ اللہ کے لیے “نور” اللہ تعالیٰ نے خود کو “نور” کہا ہے – یہ قرآن کا سب سے اعلیٰ اور بنیادی استعمال ہے جس سے باقی تمام انوار کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ (اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (النور: ۳۵)یہ آیت تمام قرآنی انوار کی اصل اور جڑ ہے۔ باقی تمام انوار – قرآن کا نور، نبی ﷺ کا نور، ایمان کا نور – سب اسی مرکزی نور سے پھوٹتے ہیں۔ جس طرح سورج روشنی کا منبع ہے اور چاند، ستارے اور آئینے اسی سے روشن ہوتے ہیں – اسی طرح اللہ …
Read More »حیا، خلوت اور عفت کے اسلامی نظام کا عصری اطلاق
سورة النور کی آیات 27 تا 34 اسلامی معاشرت کے لیے ایک نہایت مربوط اور عملی نظام پیش کرتی ہیں۔ یہ آیات صرف پردے یا لباس کے چند احکام تک محدود نہیں، بلکہ گھر، نگاہ، گفتگو، تعلقات، نکاح، عفت، معاشی ذمہ داری اور کمزور طبقات کے تحفظ تک ایک مکمل اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔ آج کے دور میں ان آیات کا صحیح اطلاق اسی وقت ممکن ہے جب ہم انہیں ایک جامع معاشرتی نظام کے طور پر سمجھیں، نہ کہ صرف چند ظاہری پابندیوں کے طور پر۔ گھروں میں داخلے کے آداب اور تحفظِ خلوت: ان آیات میں …
Read More »حیا اور شخصیت سازی
حیا کیا ہے؟ حیا ایک ایسی فطری اور اخلاقی کیفیت ہے جو انسان کو برائی، بے حیائی اور غیر مناسب اعمال سے روکتی ہے۔ یہ ایک داخلی احساس ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ، اپنے نفس اور دوسرے انسانوں کے سامنے شرم و احتیاط پیدا کرتا ہے حیا صرف لباس یا ظاہری وضع قطع تک محدود نہیں بلکہ یہ گفتگو، رویے، نظر اور طرزِ عمل میں بھی جھلکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور اسے انسانی شخصیت کی خوبصورتی سمجھا جاتا ہے ایک باحیا انسان ہمیشہ اپنے اعمال کو پرکھتا …
Read More »اسلام میں محارم رشتے
محرم وہ رشتہ ہے جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو، مثلاً ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ وغیرہ یہ حرمت تین بنیادوں پر آتی ہے: نسب، رضاعت، اور مصاہرت۔ نسبی تعلق (Blood relation): وہ خونی رشتے جو پیدائش اور خاندان کے ذریعے قائم ہوتے ہیں، جیسے ماں، باپ، بہن، بھائی، بیٹی، بیٹا وغیرہ۔ رضاعت کا تعلق (Milk relation) : بچپن میں کسی عورت کا دودھ پینے سے قائم ہونے والا شرعی رشتہ، جس کی وجہ سے بعض رشتے نسبی رشتوں کی طرح محرم بن جاتے ہیں۔ مصاہرت (Marriage relation / In-laws):نکاح کے ذریعے قائم ہونے والے رشتے، جیسے ساس، …
Read More »آیتِ استخلاف – ایمان، اقتدار اور بندگیِ کا جامع تصور
سورۃ النور کی آیت 55 کو آیتِ استخلاف کہا جاتا ہے جو قرآنِ کریم کی ایک عظیم اور مشہور آیتِ کریمہ ہے اس کو ” آیتِ استخلاف ” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو زمین میں خلافت (یعنی اقتدار، حکومت، استحکام اور امن) دینے کا واضح وعدہ فرمایا ہے۔(جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال انجام دیں، اللہ انہیں زمین میں جانشینی عطا فرمائے گا، ان کے دین کو مضبوطی سے قائم کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا) الٰہی وعدہ اور اس کی شرائط: یہ آیت …
Read More »-
سال کے لیے قرآن مجید میں استعمال ہونے والے 4 الفاظ
.1عَام: وہ سال جس میں وسعت اور فراوانی ہو ، خیر و عافیت کا سال۔ انہی معنی کی وجہ سے اسے عید کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے كُل عَام وَ اَنْتُم بَخَير- خدا کرے تمہارا یہ سال خیر و عافیت سے گذرے ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ -اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے (12:49) .2سَنَةٌ : سختی کا سال ، تکلیف، خشک سالی اور قحط کا سال۔ پھر قحط کے معنی میں …
Read More » -
ہلاک کرنا/ہلاک ہونا کے لیے قرآن میں آئے 13 الفاظ
-
حق کے معانی
-
نوجوان: تاریخ کے انقلابات کے معمار
اصحاب کہف کی عمر ( نوجوانی) کا تذکرہ کیوں؟ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی قرآن کریم میں اصحابِ کہف کے واقعے میں(سورۃ الکہف-13) خاص طور پر نوجوانوں (فِتْيَةٌ) کا ذکر کیا گیا ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ صحیح راہ پر آ جائیں تو نہ صرف خود کامیاب ہوتے ہیں بلکہ پوری قوم کے لیے روشنی کا مینار بن جاتے ہیں۔ قرآن میں نوجوانوں کے ذکر کی خاص اہمیت ہے، جو کئی پہلوؤں کو واضح کرتی ہے: 1. نوجوانوں میں عام طور پر …
Read More » -
زمین و آسمان کی ارتقائی تخلیق
-
یاجوج ماجوج – (Gog and Magog)
-
نُورٌ عَلیٰ نُورٍ(نور پر نور)
“نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” (نور پر نور) آیتِ نور کا وہ مرکزی جملہ ہے جو پوری تمثیل کا خلاصہ اور نتیجہ ہے۔ مفسرین نے اس کی متعدد تشریحات کی ہیں اور ہر تشریح ایک نئے پہلو سے ایمان کی روشنی کو واضح کرتی ہے۔ یہ تشریحات باہم متعارض نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں – امام رازیؒ نے “مفاتیح الغیب” میں لکھا کہ “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کا جملہ اگرچہ مختصر ہے لیکن اس میں اتنی معنوی گہرائی ہے کہ اس پر مستقل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔مفسرین کی چند تشریحات پہلی تشریح: فطرت کا نور + وحی کا نور …
Read More » -
غزوہ بنی مصطلق
-
ناموں کے بارے میں ہدایات
-
فضیلتِ انبیاء و رُسل
-
والدین کے حقوق
-
روزِ قیامت اعمال کا تولا جانا
oا عمال کا وزن کیا جانا −وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ قیامت کے روز وزن کیا جانا حق ہے ( الاعراف:۸) −وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ اور ہم قیامت کے دن انصاف کاترازوقائم کریں گے (الانبیاء:۴۷) −چونکہ انسانی ذہن اور چیزوں کو سمجھنے کے ذرائع بہت محدود ہیں اس لیے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ میزان کی صحیح صحیح کیفیت سمجھنا مشکل ہے ، جیسے وہ ترازو کیسا ہوگا، اس کے پلڑوں کی نوعیت کیا ہوگی، اعمال کو کیونکر تولا جا سکے گا وغیرہ؟ ان پر ایسے ہی مجملاً ایمان رکھنا چاہیے جس طرح حدیث جبریل میں ذکر …
Read More »
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر