معانی اور مفہوم: سلام سے مراد سلامتی ، امن اور عا فیت ہے امام راغبؒ نے اس کے معانی ” ظاہری اور باطنی آفات و مصائب سے محفوظ رہنا ” بتائے ہیں (التعري من الآفات الظاهرة والباطنة – مفردات غريب القرآن عن امام راغبؒ) سلامتی میں انسان کی ساری زندگی، اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں، گویامخاطب کو سلام کا مطلب ہوا کہ “تمہاری دنیا اور آخرت کی زندگی کے تمام معمولات اور انجام ،امن اور عافیت …
Read More »سورۃ آل عمران کا تاریخی پس منظر
جب یہ سورت نازل ہوئی تو سورۃ البقرہ میں جس شہادت گہہ الفت سے متنبہ کیا گیا تھا اب مسلمان پوری طرح اس میں قدم رکھ چکے تھے جنگ بدر میں اہل ایمان کو جو فتح حاصل ہوئی تھی، اس نے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور قبیلوں کو چوکنا کر دیا تھا اور ان مین سے کئی اس نئی تحریک کے خلاف یکجا بھی ہوگئےتھے ان حالات کا مدینے کی معاشی حالت پر بھی نہایت برا اثر پڑ رہا تھا۔ جو پہلے ہی مہاجرین کی آمد سے دباؤ میں تھے پھر جنگ نے ان حلات کو مزید دگر دوں کر …
Read More »تہذیبی ترقی میں انبیاء علیہ السلام کا کردار
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زمین و فضا، پانی و ہوا، اور دھات و مٹی میں چھپے وسائل کو دریافت کرتا آیا ہے مگر ہر دور میں کچھ ایسے فیصلہ کن موڑ (turning points) آئے ہیں جنہوں نے انسانی تہذیب کا رخ بدل دیا ، یہ وہ ایجادات یا انکشافات تھے جنہیں آج ہم “Groundbreaking innovations ” یا انقلاب آفریں خیالات کہتے ہیں قرآنِ کریم نے ان میں سے کئی کا ذکر کیا ہے تاکہ واضح ہو کہ علم، تحقیق، اور ایجادات نہ صرف مباح ہیں بلکہ اسلامی عبادت …
Read More »لوہے کا دور اور داؤد علیہ السلام
تاریخی اعتبار سے لوہے کا دور (Iron Age) تقریباً 1200 قبل مسیح میں شروع ہوا، اور زیادہ تر محققین کے مطابق حضرت داؤدؑ اسی عہد کے پیغمبر(اور بادشاہ) تھے، جن کا زمانہ تقریباً 1000 قبل مسیح کے آس پاس ہے۔ اس سے پہلے انسان پیتل Bronze)) استعمال کرتا تھا، جو نرم اور کم پائیدار تھا۔ لوہے کے استعمال نے زراعت، صنعت، اور عسکری قوت میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ آج کے آثارِ قدیمہ archaeology)) کے شواہد، مثلاً Tel Dan اور Hazor کے مقامات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میںIron Metallurgy اپنی ابتدائی انتہا کو پہنچی،یعنی قرآن …
Read More »اسماءِ حسنیٰ
اسماء حسنی ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں:اللہ تعالیٰ کے بہترین نام۔ یہ اصطلاح ، قرآن کی چار سورتوں میں استعمال ہوئی ہے: سورہ طہ آیت ۸، سورہ حشر آیت ۲۴، سوره اَعراف آیت ۱۸۰ اور سوره اِسراء آیت ۱۱۰ میں آیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وہ مقدس نام جو اس کے کمالات، بزرگی، جلال اور جمال کو سب سے بہترین صورت میں بیان کرتے ہیں۔ وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا، اور اللہ ہی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں، پس اسے ان ناموں سے پکارو (الأعراف: 180) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً …
Read More »حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ – سورۃ الانبیاء
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ سورۃ الانبیاء(آیات 51-73) میں انبیاء کے متواتر ذکر کے درمیان ایک کلیدی مقام پر آیا ہے، جس کا سورت کے مرکزی مضمون کے ساتھ گہرا ربط ہے سورت کا محور توحید کی دعوت ہے، جسےتمام انبیاء کا مشترکہ پیغام کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اور یہ واقعہ گویا توحید کے عالمی منشور کی حیثیت رکھتا ہے، جو سورت کے مرکزی موضوع کو بڑی جامعیت کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دعوتِ حق کے لیے دائمی طور پر مشعلِ راہ ہے یہ واقعہ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے کس حصے سے متعلق …
Read More »-
حق کے معانی
اس کا مادہ ح ق ق ہے ، حَقَّ يحِقّ ، حَقًّا و حَقّةً و حُقُوقًا – مطابق ہونا ، ہم آہنگ ہونا ۔کسی چیز کا اس طرح موجود ہونا، واقع ہو جانا اور ثابت ہو جانا کہ اس کے واقع ہونے پر اس کے وجود سے انکار نہ کیا جا سکے قرآن مجید میں لفظ حَقّ 247مرتبہ اسم کی شکل (Nominal form) میں اور 40مرتبہ مشتقات (Derived form) میں استعمال ہوا باری تعالیٰ کا ایک نام الحق ہے، ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ – یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (22:6) اللہ کی …
Read More » -
فِيْهِ ذِكْرُكُمْ – اس میں تمہارا ہی ذکر ہے
-
قرآن میں ” نور” کا استعمال
-
اسماءِ حسنیٰ
اسماء حسنی ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں:اللہ تعالیٰ کے بہترین نام۔ یہ اصطلاح ، قرآن کی چار سورتوں میں استعمال ہوئی ہے: سورہ طہ آیت ۸، سورہ حشر آیت ۲۴، سوره اَعراف آیت ۱۸۰ اور سوره اِسراء آیت ۱۱۰ میں آیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وہ مقدس نام جو اس کے کمالات، بزرگی، جلال اور جمال کو سب سے بہترین صورت میں بیان کرتے ہیں۔ وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا، اور اللہ ہی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں، پس اسے ان ناموں سے پکارو (الأعراف: 180) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً …
Read More » -
قرآن کریم کی سائنسی تفسیر کیا ناممکن العمل ہے ؟
-
قرآن مجید اور اس کی سائنسی تفسیر
-
نوجوان: تاریخ کے انقلابات کے معمار
-
زمین و آسمان کی ارتقائی تخلیق
-
سورۃ آل عمران کا تاریخی پس منظر
جب یہ سورت نازل ہوئی تو سورۃ البقرہ میں جس شہادت گہہ الفت سے متنبہ کیا گیا تھا اب مسلمان پوری طرح اس میں قدم رکھ چکے تھے جنگ بدر میں اہل ایمان کو جو فتح حاصل ہوئی تھی، اس نے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور قبیلوں کو چوکنا کر دیا تھا اور ان مین سے کئی اس نئی تحریک کے خلاف یکجا بھی ہوگئےتھے ان حالات کا مدینے کی معاشی حالت پر بھی نہایت برا اثر پڑ رہا تھا۔ جو پہلے ہی مہاجرین کی آمد سے دباؤ میں تھے پھر جنگ نے ان حلات کو مزید دگر دوں کر …
Read More » -
تہذیبی ترقی میں انبیاء علیہ السلام کا کردار
-
لوہے کا دور اور داؤد علیہ السلام
-
حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ – سورۃ الانبیاء
-
نُورٌ عَلیٰ نُورٍ(نور پر نور)
-
روزِ قیامت اعمال کا تولا جانا
oا عمال کا وزن کیا جانا −وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ قیامت کے روز وزن کیا جانا حق ہے ( الاعراف:۸) −وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ اور ہم قیامت کے دن انصاف کاترازوقائم کریں گے (الانبیاء:۴۷) −چونکہ انسانی ذہن اور چیزوں کو سمجھنے کے ذرائع بہت محدود ہیں اس لیے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ میزان کی صحیح صحیح کیفیت سمجھنا مشکل ہے ، جیسے وہ ترازو کیسا ہوگا، اس کے پلڑوں کی نوعیت کیا ہوگی، اعمال کو کیونکر تولا جا سکے گا وغیرہ؟ ان پر ایسے ہی مجملاً ایمان رکھنا چاہیے جس طرح حدیث جبریل میں ذکر …
Read More »
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر