اسْتِعَاذَة کا مادہ (ع و ذ)ہے اور یہ بابِ استفعال ( X ) کا مصدر ہے ، جو کسی چیز کے ہاں پناہ لینے اور اس سے قوت لینے وغیرہ کا معنی دیتا ہے ۔ استعاذة کے لغوی معنی ہیں ’’پناہ طلب کرنا ‘‘ کسی کی پناہ میں آنا ۔ اصطلاح میں استعاذہ ہر شر اور شر والی چیز سے اللہ کی پناہ لینے اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق رکھنے کو کہتے ہیں سورہ نحل کی آیت نمبر 98 جس میں قرآن مجید کی تلاوت کے وقت شیطان کے وسوسے سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا …
مزید پڑھیںعذابِ قبر
سورۃ النحل کی ( ذیل میں دی گئی ) آیت ۲۹ اور کئی دیگر آیات صریح طور پر عذاب وثواب قبر کا ثبوت دیتی ہیں:(جب) فرشتے ان لوگوں کی جانیں نکالتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ فرمانبرداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی براعمل نہیں کرتے تھے۔ ہاں کیوں نہیں یقیناً اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے جو تم عمل کیا کرتےپس تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو۔ تو یقیناً تکبر کرنے والوں کا بہت برا ٹھکانہ ہے عذاب قبر کا عقیدہ قرآن ،احادیث اور …
مزید پڑھیںموضوعاتی اہمیت اور عملی رہنمائی کے اعتبار سے سورۃ نور کے حفظ کرنے والے مقامات
آیات 11– 16 – واقعۂ افک اور افواہ کے آداب آیت 19 – فحاشی کی اشاعت سے تنبیہ (إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا…) جدید میڈیا اور معاشرتی اخلاق کے تناظر میں آیات 27–28 استیذان (اجازت) اور پرائیویسی (لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا…) گھریلو پرائیویسی اور اجازت کے قرآنی اصول۔ آیات 30–31 غضِ بصر، عفت، ستر اور زینت (قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ… وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ…) سورۃ النور کے سب سے بنیادی اخلاقی احکام میں سے ہیں۔ آیات 32–33 نکاح اور استعفاف ( وَ أَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ…اور وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا…) خاندانی …
مزید پڑھیںسورۃ النور کی تعلیمات کا انفرادی، خاندانی اور اجتماعی اطلاق
سورۃ النور کی مجموعی تعلیمات کو عملی زندگی پر منطبق کیا جائے تو اس کے احکام کو تین دائرے ہیں: (۱)فرد کی اصلاح، (۲) خاندان کی حفاظت، (۳) معاشرے/ریاست کی ذمہ داری۔ سورۃ النور کی تعلیمات کا انفرادی زندگی پراطلاق! فت و پاکدامنی اختیار کرنا اور ہر قسم کی جنسی بے راہ روی سے بچنا۔ نگاہوں کی حفاظت (غضِ بصر) کرنا اور غیر ضروری یا شہوت انگیز نظر سے اجتناب کرنا۔ حفظِ فروج یعنی جنسی پاکیزگی اور شرعی حدود کی حفاظت کرنا۔ لباس، وضع قطع اور معاشرت میں حیا، ستر اور وقار اختیار کرنا۔ زینت کی غیر ضروری نمائش اور …
مزید پڑھیںاسلامی اجتماعیت، قیادت اور نظامِ اجتماعی کے قرآنی اصول
اسلامی اجتماعیت کا جامع قرآنی تصور قرآنِ کریم کی مجموعی تعلیمات سے اسلامی اجتماعیت کا جو تصور سامنے آتا ہے، وہ محض افراد کے اجتماع یا سیاسی اقتدار کا نام نہیں بلکہ ایمان، توحید، عدل، شوریٰ، امانت، معروف میں اطاعت، باہمی تعاون، نظم و ضبط اور اللہ کے سامنے جواب دہی پر قائم ایک جامع اجتماعی نظام ہے اسلامی اجتماعیت کی تشکیل خود ایک قرآنی تصور ہے؛ قرآن اہلِ ایمان کو صرف انفرادی نیکی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ انہیں ایک امت، منظم جماعت اور باہمی تعاون رکھنے والی اجتماعیت کی صورت میں بھی دیکھتا ہے، جس میں مشترک مقصد، …
مزید پڑھیںقصہ نوح علیہ السلام کے اسباق و رموز
حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک اولوالعزم رسول، جنہوں نے کم و بیش ایک ہزار سال تک اللہ کی طرف دعوت دینے کا افریضہ سر انجام دیا، قرآنِ کریم کی ۲۹ سورتوں میں آپ کا تذکرہ اور آپ کی زندگی کے مختلف گوشوں کا بیان ہے آپ کی زندگی ، آپ کی دعوت اور اسلوبِ دعوت، آپ کی استقامت اور عزیمت اور آپ سے متعلق بیان کردہ قصص میں ایمان والوں کی بے شمار اسباق و نصائح موجود ہیں : دعوت الی اللہ ایک فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لیے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے …
مزید پڑھیں-
قرآن مجید میں قسم/قسم اٹھانے کے لیے الفاظ
حروفِ قسم : حروف ِ قسم ہیں ، عربوں میں بطور عادت یا تکیہ کلام استعمال کیے جاتے ہیں، یا بعض اوقات کلام میں تاکید اور زور پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں ، اگر ان کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس کو بطور شہادت پیش کرنا مقصود ہوتا ہے 1۔ وَاو: اس کو واؤ قسمیہ(واو القسم ) کہتے ہیں – مثالیں: (۱) وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ، (۲) وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، (۳) وَٱلۡعَصۡرِ 2۔تَاء (ت) : اس کو تا قسمیہ (تاء القسم ) کہتے ہیں – تَ (اسمیہ) صرف اللہ کے ساتھ قسم کھانے کے لیے …
مزید پڑھیں -
علوم القرآن
-
ہلاک کرنا/ہلاک ہونا کے لیے قرآن میں آئے 13 الفاظ
-
اسماءِ حسنیٰ
اسماء حسنی ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں:اللہ تعالیٰ کے بہترین نام۔ یہ اصطلاح ، قرآن کی چار سورتوں میں استعمال ہوئی ہے: سورہ طہ آیت ۸، سورہ حشر آیت ۲۴، سوره اَعراف آیت ۱۸۰ اور سوره اِسراء آیت ۱۱۰ میں آیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وہ مقدس نام جو اس کے کمالات، بزرگی، جلال اور جمال کو سب سے بہترین صورت میں بیان کرتے ہیں۔ وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا، اور اللہ ہی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں، پس اسے ان ناموں سے پکارو (الأعراف: 180) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً …
مزید پڑھیں -
قرآن کریم کی سائنسی تفسیر کیا ناممکن العمل ہے ؟
-
قرآن مجید اور اس کی سائنسی تفسیر
-
نوجوان: تاریخ کے انقلابات کے معمار
-
زمین و آسمان کی ارتقائی تخلیق
-
قصہ نوح علیہ السلام کے اسباق و رموز
حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک اولوالعزم رسول، جنہوں نے کم و بیش ایک ہزار سال تک اللہ کی طرف دعوت دینے کا افریضہ سر انجام دیا، قرآنِ کریم کی ۲۹ سورتوں میں آپ کا تذکرہ اور آپ کی زندگی کے مختلف گوشوں کا بیان ہے آپ کی زندگی ، آپ کی دعوت اور اسلوبِ دعوت، آپ کی استقامت اور عزیمت اور آپ سے متعلق بیان کردہ قصص میں ایمان والوں کی بے شمار اسباق و نصائح موجود ہیں : دعوت الی اللہ ایک فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لیے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے …
مزید پڑھیں -
قصہ نوح علیہ السلام
-
سورۃ آل عمران کا تاریخی پس منظر
-
تہذیبی ترقی میں انبیاء علیہ السلام کا کردار
-
لوہے کا دور اور داؤد علیہ السلام
-
عذابِ قبر
سورۃ النحل کی ( ذیل میں دی گئی ) آیت ۲۹ اور کئی دیگر آیات صریح طور پر عذاب وثواب قبر کا ثبوت دیتی ہیں:(جب) فرشتے ان لوگوں کی جانیں نکالتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ فرمانبرداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی براعمل نہیں کرتے تھے۔ ہاں کیوں نہیں یقیناً اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے جو تم عمل کیا کرتےپس تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو۔ تو یقیناً تکبر کرنے والوں کا بہت برا ٹھکانہ ہے عذاب قبر کا عقیدہ قرآن ،احادیث اور …
مزید پڑھیں -
روزِ قیامت اعمال کا تولا جانا
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر