نوجوان: تاریخ کے انقلابات کے معمار

اصحاب کہف کی عمر ( نوجوانی) کا تذکرہ کیوں؟

اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ  اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی

قرآن کریم میں اصحابِ کہف کے واقعے میں(سورۃ الکہف-13) خاص طور پر نوجوانوں (فِتْيَةٌ) کا ذکر کیا گیا ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ صحیح راہ پر آ جائیں تو نہ صرف خود کامیاب ہوتے ہیں بلکہ پوری قوم کے لیے روشنی کا مینار بن جاتے ہیں۔ قرآن میں نوجوانوں کے ذکر کی خاص اہمیت ہے، جو کئی پہلوؤں کو واضح کرتی ہے:

1. نوجوانوں میں عام طور پر جوش، ولولہ، اور نظریاتی پختگی کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ جب وہ کسی سچائی کو تسلیم کرلیتے ہیں تو پھر کسی بھی دباؤ یا خوف کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہوتے۔

2. تاریخ میں ہمیشہ نوجوان ہی بڑی تبدیلیوں کے اصل محرک رہے ہیں۔ وہ مفادات کے بوجھ تلے دبے نہیں ہوتے، نہ ہی مصلحت پسندی ان کا شعار بنتی ہے۔ بیوی بچوں کی کمزوریاں انہیں لاحق نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جب ایک بار وہ حق کے لیے کھڑے ہو جائیں تو کوئی بھی خطرہ انہیں روک نہیں سکتا۔  یہ اس حقیقت کی طرف رہنمائی کا اشارہ ہے کہ اگر نوجوان سچائی کو اپنا لیں تو وہ معاشرے میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

3. نوجوانوں کی ان طبعی خصوصیات کے ساتھ اگر ایمان اور اللہ پر توکل بھی شامل ہوجائیں تو یہ ’سونے پہ سہاگہ‘ جیسا ہو گا

اصحابِ کہف کا واقعہ قیامت تک کے لیے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر وہ حق پر قائم رہیں، اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو اللہ کی مدد ان کے شاملِ حال ہوگی۔ امت مسلمہ کی بقا اور ترقی کا دارومدار بھی اس بات پر ہے کہ نوجوانوں کی درست تربیت کی جائے اور انہیں سچائی کی راہ پر استقامت سے کھڑا ہونے کا درس دیا جائے۔

تاریخ نوجوان ہمیشہ سے انقلابات اور بڑی تبدیلیوں کے اصل محرک رہے ہیں۔ انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی، نظریاتی تحریکوں کی قیادت کی، اور اقوام کی تقدیر بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا:

  • اصحابِ کہف: کی مثال تو خود قرآنِ کریم نے بیان کی جنہوں نے کفر و شرک کے اندھیرے میں توحید کی شمع روشن کی
  • حضرت اسامہ بن زیدؓ: اسلامی تاریخ میں حضرت اسامہ بن زیدؓ کی مثال ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہیں نبی کریم ﷺ نے ایک اہم لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا، حالانکہ وہ اس وقت صرف 18 سال کے تھے۔ ان کی قیادت میں مسلمانوں نے رومی سلطنت کے خلاف کامیاب مہم سر کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان قیادت بھی تاریخ کے دھارے کو بدل سکتی ہے
  • محمد بن قاسم : صرف 17 سال کی عمر میں سندھ پر حملے کے لیے روانہ ہوئے اور انہوں نے نہایت حکمت و بہادری سے اس علاقے کو فتح کر لیا۔ ان کی قیادت میں مسلمانوں نے سندھ میں عدل و انصاف کا نظام قائم کیا اور ظلم و جبر کے شکار لوگوں کو آزادی دلائی۔
  • برصغیر کی تحریک آزادی: برصغیر میں آزادی کی تحریک میں نوجوانوں نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی اور انہیں اپنی تقدیر بدلنے کے لیے بیدار کیا۔ 1930 کی دہائی میں علی گڑھ، دہلی اور لاہور کے تعلیمی اداروں کے نوجوانوں نے تحریک پاکستان کو نئی جہت دی اور قیامِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔
  • الجزائر کی جنگِ آزادی: الجزائر کی فرانسیسی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں بھی نوجوانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ 1954 میں شروع ہونے والی اس تحریک میں ہزاروں نوجوانوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، جس کے نتیجے میں 1962 میں الجزائر کو آزادی ملی۔
  • ایرانی انقلاب (1979): کایران کے اسلامی انقلاب میں نوجوانوں نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔ شاہ ایران کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے، جو آیت اللہ خمینی کی قیادت میں متحد ہو کر انقلاب کا باعث بنے۔
  • عرب بہار (Arab Spring) : 2010-2011 کے دوران عرب دنیا میں جمہوریت اور آزادی کے لیے جو تحریکیں چلیں، ان میں نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر سرگرم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر مصر، تیونس، لیبیا، اور شام میں نوجوانوں کی قیادت میں عوامی بیداری پیدا ہوئی،ہے
  • جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی جدوجہد: نیلسن منڈیلا کی قیادت میں جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک میں نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ 1976 میں سویٹو میں ہونے والے طلبہ کے احتجاج نے عالمی سطح پر جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف شعور پیدا کیا، جو بالآخر 1994 میں نیلسن منڈیلا کی کامیابی اور نسل پرستی کے خاتمے کا سبب بنا۔
  • 2023-24 میں اسرائیل  کی  فسلطینیوں کی نسل کشی: کے خلاف  احتجاج  اور دنیا میں شعور بیدار کرنے  میں مغربی ممالک میں یونیورسٹیوں کے نوجوان طالب علموں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اپنی زندگی اور تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگا کر یہ کام کیا

نوجوانوں کے اس خصوصی ذکر سے امت مسلمہ کے اصحاب اقتدار اور ارباب علم و فضل کو شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر وہ اس امت کی تاریخ اور اس کے تسلسل کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں نوجوان نسل سے کبھی بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں جہاں سے ان کے دل و دماغ کے بگاڑ کے اسباب پیدا ہوتے ہیں ان کا سختی سے انسداد کرنا امت کے بڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ نوجوانوں کے بگڑنے سے قوم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر وہ بطور قوم کے آبرومندی سے زندگی نہیں گزار سکتے

Check Also

یاجوج  ماجوج – (Gog and Magog)

لفظ “یَأْجُوج وَ مَأْجُوج “عربی زبان میں سامی زبانوں، غالباً   عبرانی زبان سے آیا ہے۔ …