اِستعاذہ

  • اسْتِعَاذَة کا مادہ   (ع و ذ)ہے اور یہ  بابِ استفعال  ( X )  کا مصدر ہے ، جو کسی چیز کے ہاں پناہ لینے اور اس سے قوت لینے وغیرہ کا معنی دیتا ہے   ۔ استعاذة کے لغوی معنی ہیں ’’پناہ طلب کرنا ‘‘  کسی کی پناہ میں آنا ۔
  • اصطلاح میں استعاذہ ہر شر اور شر والی چیز سے اللہ کی پناہ لینے اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق رکھنے کو کہتے ہیں
  • سورہ نحل کی آیت نمبر 98 جس میں قرآن مجید کی تلاوت کے وقت شیطان کے وسوسے سے  اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے، کو آیت اِستعاذہ کہا جاتا ہے ۔  اسے تعوذ بھی کہا جاتا ہے
  • سورۃ  الفلق  اور  سورۃ الناس کو معوذتین  کہا جاتا  ہے اس لیے کہ ان دو سورتوں میں متعدد شرور سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے

 فَإِذَا قَرَ‌أْتَ الْقُرْ‌آنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ ۔

پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کر

اس آیت کا مصداق   خاص ہے   اور وہ ہے قرآن کی تلاوت( اور نماز کی ابتداء  بھی ، جو سورۃ الفاتحہ سے کی جاتی ہے)

  • سورۃ نحل کی اس آیت کے علاوہ بھی  قرآن مجید میں کئی مقامات ہر  شیطان مردود سے پناہ مانگنے کی ترغیب
  • وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿٢٠٠﴾

الأعراف۔ اور اگر آپ كو كوئی وسوسہ شیطان كی طرف سے آنے لگے تو اللہ كی پناہ مانگ لیا كیجئے بلا شبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے

استعاذہ کا حکم اور اس کے الفاظ

  • سورہ نحل کی آیت نمبر  98 سے  فقہائے کرام نے استنباط  کرتے ہوئےقرآن کریم  کی تلاوت اور نماز میں قرأت کی ابتدا کے وقت  استعاذہ  کو مستحب قرار  دیا ہے  یعنی ان مواقع پر شیطانِ مردود کے شر اور اس کی وسوسہ انگیزیوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ اور حفاظت طلب کرنا
  • تعوذ ایک مستحب عمل ہے، فرض یا واجب نہیں ہے ، اس لیے اس کو نہ پڑھنے سے گناہ گار نہیں ہوگا،برکا ت سے محرومی ہ گی
  • قرآنِ مجید نے تعوذ کے لیے کوئی الفاظ مخصوص نہیں کیے ، جس میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے  اللہ کی پناہ طلب کرنے کے لیے مختلف الفاظ  ادا کیے جا سکتے ہیں  جن سے مدعا پوار ہو جائے
  • زیادہ تر  مفسرین ، علماء  و فقہائے کرام  نے

  “أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ الشَیْطَانِ الرَّجِیْم  “

کہنے کی ترغیب دی ہے۔ کیونکہ اس میں سورۃ نحل میں دیئے گئے  اللہ  تعالیٰ کے حکم  (نص) کے الفاظ  آ جاتے  ہیں – حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ،ابو ہریرہ ؓاور جبیر بن نفیر ؓنے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نےیہی الفاظ قرأت شروع کرتے وقت کہے ہیں، امام ابو حنیفہ ؒ، امام مالکؒ اور امام شافعی ؒنے انہی الفاظ  کو ترجیح دی ہے

  • اسی طرح “أَسْتَعِیذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیم‏” کے الفاظ بھی کہے جا سکتے ہیں اس  کےبھی وہی معنی ہیں جو أَعُوذُ بِالله… کے ہیں
  • أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ

کے الفاظ بھی ادا کیے جاتے ہیں ، جن کو امام سفیان ثوریؒ،  امام اوزاعیؒ،  اور امام احمدبن حنبل ؒ نے ترجیح دی ہے

  •  أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ وهَمزِهِ ونفخِهِ ونفثِهِ

کے الفاظ بھی حدیث میں آئے ہیں (أحمد، والترمذي)

استعاذہ کی حکمت

  • ابلیس نے جب اللہ کی بارگاہ میں تکبر اور تمرد کی راہ اختیار کی اور پھر اللہ نے اسے مردود و ملعون قراردیا تو اس نے  آدم اور نسل آدم کو گمراہ کرنے کا حلف اٹھایا  (قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ‎، اس نے کہا “تیری عزت کی قسم، میں اِن سب لوگو ں کو بہکا کر رہوں گا) [38:82]، دیگر کئی مقامات پر بھی اس کا ذکر۔ شیطان کے شرور ، اس کے  وساس، اس کے دجل و فریب ، اس کی تلبیس کی آندھیوں میں انسان محض اپنی عقل و فہم سے  محفوظ و مامون نہیں رہ سکتا ، اسے یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد ، استعانت اور پناہ کی ضرورت ہے  جو استعاذے کی صورت میں طلب کی جاتی ہے
  • یہ پناہ  قلبی اور دلی پناہ ہے یعنی انسان اپنے دل میں یہ احساس کرے کہ اس نے خدا کی پناہ مانگی ہے تاکہ قرآن کو صحیح سمجھنے میں مانع چیزوں میں تمام شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکیں – انسان جب زبان سے  أَعُوذُ بِاللَّهِ کے الفاظ ادا کرے تو ساتھ ساتھ ان الفاظ اور ان کی روح سے ہم آہنگ  قلبی کیفیت کو بھی یقینی بنائے
  • استعاذے کی ایک اور حکمت یہ بھی ہے کہ  شیطانِ رجیم جس سے پناہ مانگی جا رہی ہے اخلاقی رذائل کی ایک مجسم صورت ہے استعاذے سے  انسان خود کو بری خصلتوں  اور اخلاقِ رذیلہ سے بچنے کی خواہش رکھے
  • شیطان، اللہ کی رحمت سے دوری، ملامت اور شقاوت پر دلالت کرتا ہے، استعاذے میں یہ تعلیم موجود ہے کہ انسان شقاوت اور  اللہ تعالیٰ  سے دوری سے پناہ مانگے- اور اللہ کے قرب اور سعادت کی تمنا کرے (جس میں اظہار ِ تذلل بھی ہے)
  • استعاذے کی ایک عملی حکمت یہ ہے کی انسان کو اپنی  عجز اوربے بسی  کا علم ہو جائے اور وہ سمجھ لے کہ دین و دنیا کے منافع کے حصول اور نقصانات سے بچنے پر خود قادر نہیں ہے جب تک اللہ کا احسان اور فضل شامل  نہ ہو

تعوذ کی  مسنون دعائیں

  • یہ وہ دعائیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی پناہ مانگی گئی ہو۔ نبی کریم ﷺ سے ایسی سینکڑوں دعائیں مروی ہیں جن میں مختلف شرور، برائیوں، اعمالِ سو، اخلاقی رذائل، بلیات، شیاطینِ جن و انس وغیرہ سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے
  • تعوذ کی ایسی کچھ مسنون دعائیں استفادے کے لیے ذیل میں دی جا رہی ہیں:

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْاَخْلَاقِ وَالْاَعْمَالِ وَالْاَهوَاءِ  –

اے ﷲ! بے شک میں برے اخلاق ، برے اعمال اور بری خواہشات سے تیری پناہ مانگتا ہوں -( سنن الترمذی،:3591)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ-

اے اللہ ! میں سستی و کاہلی ، بڑھاپے ، بزدلی و کم ہمتی ، بخیلی و کنجوسی ، بڑھاپے کی برائی ، دجال کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ( سنن ابي داود)

  • اللهمَّ إنِّي أعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاء –

اے اللہ ! میں مصیبت کی سختی ، تباہی تک پہنچ جانے ، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ( سنن  نسائی)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ:

اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت دی ہوئی پلٹ جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور سب تیرے غضب والے کاموں سے ( سنن الترمذی)

  • بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ:

– الله کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے ( ابوداؤد)

  • أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ الله التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

میں اﷲ کے تمام کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے ( ابوداؤد)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ

– اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت دی ہوئی پلٹ جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور سب تیرے غضب والے کاموں سے ( سنن الترمذی)

  • اللّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أو أُظْلَمَ –

اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے ( أبو داود)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي

– اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے ، اپنی آنکھ کے شر سے ، اپنی زبان کے شر سے ، اپنے دل کے شر سے ، اور اپنی شرمگاہ  (مادہ منویہ)کے شر سے ( أبو داود)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَدَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا

– اے اللہ! میں ایسے نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، ایسے دل سے جس میں خوف الٰہی نہ ہو، ایسے علم سے جو مفید اور نفع بخش نہ ہو اور ایسی دعا ہے جو قبول نہ ہو ( مسلم)

  • اللَّهمَّ إنِّي أعوذُ بِكَ منَ الجوعِ ، فإنَّهُ بئسَ الضَّجيعُ ، وأعوذُ بِكَ منَ الخيانةِ ، فإنَّها بئستِ البِطانةُ

– اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی  ہے اور  پناہ مانگتا ہوں  خیانت سے کہ  وہ بد ترین  خفیہ خصلت ہے ( أبو داود)

  • اللَّهُمَّ إنّي أعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السُّوءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السُّوءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوءِ، وَمِنْ جَارِ السُّوءِ في دَارِ الْمُقامَةِ

– اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، برے وقت سے، برے ساتھی سے، اور  رہنے کی  جگہ میں  برے پڑوسی سے  ( طبرانی)

  • اللّهُـمَّ إِنِّـي أَعـوذُ بِكَ مِـنْ عَذابِ القَـبْر، وَمِـنْ عَذابِ جَهَـنَّم، وَمِـنْ فِتْـنَةِ المَحْـيا  وَالْمَمَاتِ، وَمِـنْ شَـرِّ فِتْـنَةِ المَسيحِ الدَّجّال

اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں ( بخاری و  مسلم) –(آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تشہد میں ان چار چیزوں  سے ضرور اللہ کی پناہ طلب کیا کرو)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا

– اے اللہ! میں (دیوار کے نیچے) دب جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اونچائی سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، ڈوب جانے اور جل جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان موت کے وقت مجھے بہکا دے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری موت تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے آئے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے میری موت ہو ( نسائی )

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

– اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں۔ ( سنن ابن ماجہ و سنن ابی داود)  ( اور یہ دعا بھی جو صبح و شام کی دعاؤں میں ہے-

  • ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي , اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي , وَآمِنْ رَوْعَاتِي , وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ , وَمِنْ خَلْفِي , وَعَنْ يَمِينِي , وَعَنْ شِمَالِي , وَمِنْ فَوْقِي , وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي”

  • اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

– اے اللہ ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر ، اے اللہ ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر ، اے اللہ ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ( صحیح بخاری)

  • اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ

اے اللہ ! جنون (پاگل پن) ، جذام ، برص اور برے امراض سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ( سنن ابی داود)

یہ بھی دیکھیں

موضوعاتی اہمیت اور عملی رہنمائی کے اعتبار سے سورۃ نور کے حفظ کرنے والے مقامات

آیات  11– 16  – واقعۂ افک اور افواہ کے آداب آیت 19 – فحاشی کی …