.1عَام: وہ سال جس میں وسعت اور فراوانی ہو ، خیر و عافیت کا سال۔ انہی معنی کی وجہ سے اسے عید کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے كُل عَام وَ اَنْتُم بَخَير- خدا کرے تمہارا یہ سال خیر و عافیت سے گذرے
ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ -اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے (12:49)
.2سَنَةٌ : سختی کا سال ، تکلیف، خشک سالی اور قحط کا سال۔ پھر قحط کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہ لفظ
وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ -ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا (7:130)
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا -ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس سال کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا (29:14)- اس آیت میں ساڑھے نوسو برس جو نوحؑ کی قوم سے مخالفت اور تکلیف میں گذرے انہیں سَنَةٌ سے تعبیر کیا گیا اور نبوت سے پہلے پچاس سال جن میں کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں تھی انہیں عَام سے
تقویم، وقت اورزمانے کا حساب رکھنے کے لیے بھی سَنَةٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ( جس سے اس بات کی طرف اشارہ کہ خوشحالی کے دن، تنگی و پریشانی کے دنوں سے بالعموم کم ہی ہوا کرتے ہیں
.3حَوْل: (حَالَ) ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا ، حال کی جمع حالات – حَول: سال کا پورا چکر ( کسی سال کی ایک معینہ تاریخ سے لے کر اگلے سال کی اسی تاریخ تک کا عرصہ حَول ہے – زکوۃ بھی حول کے حساب سے دی جاتی ہے اور رضاعت و طلاق میں بھی حول کا حساب رکھا جاتا ہے وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ – -(وہ متوفی شوہر) اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں (2:240)
.4حِجَج : (اس کا واحدحَجَّة)- حَجَّ کے معنی بار بار آنا، بکثرت آمدو رفت رکھنا- حَجَّة ، حَجَّ سے مشتق (اسم مرّہ)ہے ، حج چونکہ سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے لہذا سال کو بھی حج کہ دیا جاتا ہے – قدیم زمانے میں لوگ حجوں کے حساب سے ہی سالوں کی گنتی کرتے تھے-( سال گننے کا ایک موٹا موٹا طریقہ، جو عربوں میں مروّج تھا)
قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ (اس کے باپ نےموسیٰؑ سے) کہا “میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو (28:27)
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر