زمین و آسمان کی ارتقائی تخلیق

  • زمین و آسمان قرآنِ مجید کی ایک مستقل  تعبیر ہے اس کون و مکاں، تمام کائنات اور تخلیق  کے لئے
  • قرآن مجید کے مطالعے سے یہ حقیقت  واضح ہوتی ہے کہ کائنات کی تشکیل و تعبیر کا سلسلہ چھ  دن میں مکمل ہوا
  • آسمان و زمین کی چھ دنوں میں تخلیق کا مضمون قرآن مجید میں سات مرتبہ آیا ہے (سورہ الاعراف -آیت 54، سورہ یونس-آیت 3، سورہ ہود -آیت 7، سورہ الفرقان- آیت 59، سورہ السجدہ -آیت 4، سورہ ق -آیت 38، سورہ الحدید- آیت 4، سورہ فصِلت ۔ آیت 9 تا 12)
  • سورہ فصلت سے یہ بات سامنے آتی ہے  کہ زمین و آسمان دو دن کی مدت میں تخلیق ہوئے، زمین میں موجود چیزیں چار دن کی مدت میں تخلیق ہوئیں
  • چھ دنوں  سے کیا مراد  ہے؟
  • قرآن ِ مجید میں لفظ ” یوم ”  استعمال ہوا ہے جس کے معروف معنی  ایک روز یا دن کے  ہیں لیکن یہاں یہی ہمارے شب و روز کے  چھ دن مراد لینا  معقول نہیں ہوگا ، اس لئے کہ چوبیس گھنٹوں پر محیط دن کی تخلیق تو آسمان وزمین اور شمس وقمر کی تخلیق کے بعد ہوئی ہے اور یہاں  تو خود زمین اور جملہ آسمانی کرّوں، کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں اور خلاؤں کی پیدائش کا زمانہ بیان ہو رہا ہے، زمین اور سورج کی تخلیق سے قبل ایسے دن کا تصور غیر معقول ہے جو چوبیس گھنٹے پر محیط ہو۔

کیا ” یوم ” سے مراد کوئی اور عرصہ ٔ زمان لیا جا سکتا ہے ؟

  • عربی زبان میں اس کی گنجائش ہے کہ لفظ ” یوم ” سے مراد دَور یا وقفہ لیا جائے۔عربی زبان میں ” یوم ” اس گھڑی یا وقت کے متعین حصے کوکہتے ہیں جو وقت کے دوسرے حصے سے مختلف اور نمایاں ہو،چنانچہ”ایام العرب”  کا مفہوم ہے عربوں کی مشہور جنگیں
  • ہماری زمین کی اپنے محورAxis))  پر ایک گردش  مکمل  ہونےسے ہمارا چوبیس گھنٹے کا ایک رات دن وجود میں آتا ہے. اسی طرح ہر سیارے کا دن دوسر ے سے مختلف ہے  اورہماری کہکشاں (Milky way Galaxy) 20   کروڑ سال میں  ایک چکر پورا  کرتی ہے
  • قرآنِ مجید نے یوم  کا لفظ  وقت کی ایک تغیر پذیر لمبائیvariable length of time))  کے لئے اِستعمال کیا ہے:
  • قرآنِ مجید میں ارشاد ہوا   وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ  ۲۲/۴۷   اورتیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہواکرتا ہے
  • دوسری جگہ ارشاد فرمایا   فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ  ۷۰/۴   ….. ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے
  • اس سے معلوم ہوا کہ یوم کا مفہوم محض چوبیس گھنٹے کادن نہیں بلکہ اس کا مفہوم اس سے وسیع تر ہے، اس سے مراد بہت طویل زمانے،  ادوار، مرحلے یا  periods of creation  ہو سکتے ہیں

تخلیق کائنات؟

  • قرآن ِمجید کی ان آیات پر غور کرنے سے یہ معلوم ہو تا ہے  کہ :
  • کائنات محض حادثاتی (accidental) طور پر معرضِ وُجود میں نہیں آئی بلکہ یہ اللہ ربّ العزّت کے اِرادے اور اُس کی قدرتِ کاملہ کا نتیجہ ہے
  • اس کائنات کا حیرت  انگیز نظم  و ضبط  اور  نظام یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُس کا وجود قدرتِ اِلٰہیہ کی کامل منصوبہ بندی کے تحت ہی قائم ہے
  • کائنات کی تخلیق و اِرتقاء ایسا مرحلہ وار عمل تھا جو بتدریج 6 اِرتقائی اَدوار میں مکمل ہوا  ( جس کی بہت زیادہ  تفصیل قرآنِ مجید میں بیان نہیں ہوئی، اس کے مقابل  بائبل میں یہ مرحلہ وار تخلیق اتنی تفصیل کے ساتھ ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات نے اس پر سوالیہ نشان لگا دیئےہیں)
  • قرآن کی آیات  سے  ہمیں کائنات  کی تخلیق کے  تین  حصے معلوم ہوتے ہیں (۱) زمین کی   پیدائش(Earthly Creation)، (۲) آسمانوں کی پیدائش(Heavenly Creation)، (۳) خلا کی پیدائش (Intermediary Creation) – ان سب کو قرآن نے اس آیتِ کریمہ میں  بیان کیا ہے ’’خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا‘‘ اُس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے تخلیق فرمایا (سورۃُ السجدہ)-                   قرآن مجید  میں۱۰  مقامات پر   زمین و آسمان اور ان کی درمیان میں جو کچھ ہے  اس کی پیدائش کا  ذکر آیا ہے
  • یہاں زمین( کی پیدائش) سے مراد محض یہ سیارہ (earth) مراد نہیں بلکہ  جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ  اللہ  تعالیٰ  نے ایسی کئی اور زمینیں بھی  پیدا فرمائی ہیں
  • اَللهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ (الطلاق-12) اللہ وہی ہے جس نے سات آسمان اور ان ہی کی طرح (سات) زمینیں پیدا کیں۔
  • آسمانوں کی طرح زمینیں بھی متعدد ہیں اگر سات کا عدد آسمانوں (بالائی طبقات) کے لئے محض تعدد اور کثرت plurality)) کے معنی میں تصور کیا جائے تو زمین کی طرح کے اور طبقات اور سیارگان مراد ہو سکتے ہیں
  • تخلیقِ کائنات میں جو  وقت کا ذکر ہے اس کو ہمارے لئےموجودہ پیمانوں سے معلوم (quantify) کرنا  ممکن نہیں اس لئے کہ اب ہمیں معلوم ہے کہ  وقت ایک اضافی چیز ہے Time is relative ))،  زمین پر ، خلا میں ، کسی بلیک ہول میں  وقت بالکل مختلف چیز ہو گی (اسی کو Gravitational time dilation  کہا گہا ہے)
  • قرآن کی وہ آ یات  جن میں ایک  یوم کو   ہمارے ایک  ہزار سال  اور دوسری جگہ ۵۰ ہزار سال کا کہا گیا  وہ وقت  کی اضافیت(Relativity)پہ دلیل  ہیں

oزمین و آسمان کی تخلیق  کا سائنسی نظریہ:

  • فلکی طبیعیات کے ماہرین ابتدائے کائنات کی وضاحت ایک ایسے مظہر کے ذریعے کرتے ہیں جسے وسیع طور پر قبول کیا جاتا ہے اور جس کا جانا پہچانا نام ’’ بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہے۔     جس کے مطابق ابتدا میں(تقریباً 15 ارب سال قبل) یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت (گولے) کی شکل میں تھی۔ پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بگ بینگ ہوا، جس کا نتیجہ کہکشاؤں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر کئی کروڑ سال تک کائنات میں صرف توانائی بکھری رہی اور پھر رفتہ رفتہ درجہ حرارت کم ہونے کے بعدوہ سورج ،چاند، ستاروں اور دوسری اشکال میں ڈھل گئی۔
  • اس سائنسی  نظریے سے یہ واضح ہوتا ہے  کہ مختلف کہکشاؤں ، سیاروں، ستاروں اور  دیگر  تمام اجرامِ فلکی اس عظیم دھماکے سے لیکن  اس  دھماکے کے کروڑوں اور اربوں سال بعد وجود میں آئے
  • قرآن ِ مجید  کی ایک  آیت(الانبیاء -21) اور بگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت  موجود  ہے أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ : ’’ اور کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘

سائنس کے متبعین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآنی لفظ  ” سماء” یعنی آسمان  سائنسی لحاظ سے کوئی چیز نہیں  تو پھر قرآن میں اس کا ذ کر کیا معنی  رکھتا ہے ؟

  • ائنات کے لئے
  • یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے  ،یہ سائنس کی کو ئی درسی  کتاب نہیں ( جس میں سائنسی اصطلاحات اور ان کی  تعریفیں بیان کی گئی ہوں)،  قرآن نے اپنے مخاطبین اور خاص کو اولین مخاطبین کے فہم کے مطابق وہ اصطلاحات استعمال کی ہیں جن کو سمجھنا ہر دور کے انسان کے لئے کوئی مشکل نہ ہو  اور چونکہ یہ سراسر حق ہے اس لئے اس کے حقائق اور اس کی اصطلاحات سادہ اور آسان ہونے کے باوصف کبھی غلط نہ ہوں گی
  • آسمان کا لفظ قرآن میں متعدد معنی میں استعمال ہوا ہے، کہیں اِس سے مُراد بادل ہیں تو کہیں بارش۔ کہیں اِس کا اِستعمال کرۂ ہوائی کے معنی میں ہوا ہے تو کہیں بالائی کائنات کے معنی میں۔ الغرض کرۂ ارضی کی فضائے بسیط سے لے کر عالمِ طبیعی کی آخری حدوں تک وسیع و عریض کائنات کے تمام گوشوں پر لفظِ سمآء کا اِطلاق ہوتا ہے۔گویا زمین  کے علاوہ باقی ساری کائنات کے لیے  اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے  اور یوں  سماوات  و الارض کی اصطلاح پوری کالسَّمَآء کا لفظ سَمَا یَسْمُو سے ہے، جس کے معنی بلندی کے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے کسی بھی چیز کے اُوپر جو کچھ ہے وہ اُس چیز کا سمآء ہے، اس اِعتبار سے لفظِ ’ سمآ ‘ کا اِطلاق کرۂ ارض کے گِرداگِرد موجود تمام کائنات پر ہوتا ہے اور زمین کے علاوہ تمام کائنات اور اَجرامِ سماوِی عالمِ سماوات میں شامل ہیں۔
  •  اسلامی تعلیمات کا اہم اور بنیادی ماخذ قرآن مجید ہے اور انسان قرآن مجید کا بنیادی موضوع ہے، انسان کو بار بار اس بات کی دعوت دی گئی کہ وہ ارد گرد میں پیش آنے والے واقعات، حالات اور تغیرات سے باخبر رہے اور ان پر تفکر و تدبر کرے ، اللہ کی طرف سے عطا کردہ علم وعقل اور قوت و شعور سے کائنات کے ظاہری و باطنی رازوں پر سوچے
  • دنیا کے دیگر مذاہب کے برعکس اسلام نے عقل پر پہرے بٹھانے کی بجائےعالمِ ارض و سما میں غورو فکر کرنے اورتسخیر کائنات کو بندہ مومن کی بنیادی صفات میں سے شمار کیا ہے
  • قرآن کریم میں بے شمار ایسی آیات پائی جاتی ہیں جن میں لیل ونہار کی گردش، آسمان وزمین کی تخلیق، سمندروں میں کشتیوں کے چلنے اور ہواؤں کے آنے جانے میں بھرپور انداز میں غور وفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے
  • ” قرآن جہاں ہمیں علم (سائنس) کو ترقی دینے کی دعوت دیتا ہے وہاں خود اس میں قدرتی حوادث سے متعلق بہت سے مشاہدات و شواہد ملتے ہیں اور اس میں ایسی تشریحی تفصیلات موجود ہیں جو جدید سائنسی مواد سے کلی طور پر مطابقت رکھتی ہیں۔ یہودی، عیسائی تنزیل میں ایسی کوئی بات نہیں” ( ڈاکٹر موریس بکائیے)
  • اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ کائنات، حیات اور انسان کے بارے میں سائنس جو حقیقتیں سامنے لاتی ہے، ان سے قرآن کی بعض ان آیات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے جن میں کسی نہ کسی طرح ان حقائق سے تعرض کیا گیا ہوتا ہے، سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ ، “جلد ہم انھیں اپنی نشانیاں آفاق (دنیا) میں بھی اور خودان کی ذات میں بھی دکھائیں گے حتی کہ ان کے لیے واضح ہو جائے گا کہ بے شک یہ (قرآن ) حق ہے “
  • اس آیت میں اللہ رب العزت نے انسان کی داخلی نشانیوں Internal Signs)) اور کائنات کے اندر مختلف جگہ بکھری ہوئی باہری نشانیوں External Signs)) کو دکھائیں گے ۔ جن کو دیکھ کر بندہ خود ہی بے تحاشہ پکار اٹھے گا کہ جو چیز اللہ تبارک وتعالی نے بتادی ہے وہ سب حق ہے
  • قرآن نے ان علوم کی طرف جو دعوت دی ہے وہ کائنات کے مظاہرمیں تفکر و تدبر اور دنیا کی نعمتوں سے مفید ہونے اوراس کی چیزوں سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت پر مشتمل ہے
  • قرآنِ مجید کی سینکڑوں آیات ایسی ہیں  جو  سائنسی علوم سے متعلق ہیں ان سے مکمل صرف ِ نظر کر کے آگے گذر جانا قرآن مجید کے ایک بڑے حصے سے غیر متعلق ہو جانا ہے
  • مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان آیات  میں غور و فکر اور تحقیق کریں  اور اس کی روشنی میں  انسانوں کو قرآنی تعلیمات سے  منور کریں
  • ” یہ قرآن کے اسی انداز اوراسلوب کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے دور عروج میں آفاق و انفس کے تمام گوشوں اور پہلوؤں سے متعلق سائنس کے جملہ شعبوں کے ذخیرہ معلومات کو ہند و یونان سے اخذ کیا اور پھر نہ صرف یہ کہ انہیں ترقی دے کر بام عروج تک پہنچایا بلکہ متعدد نئے علوم و فنون ایجاد کئے اور فی الجملہ قافلہ انسانیت کو زمانہ وسطیٰ کی جہالت کی تاریکیوں اور توہمات کے اندھیروں سے نکال کر مشاہدہ و تجربہ، تحقیق و تفتیش اور ایجاد و اختراع کی شاہراہ پر ڈال دیا”(ڈاکٹر اسرار احمد، مطالعہ فطرت اور ایمان)
  • اسلام  اور سائنسی علم یا سائنسی رویوں  میں کوئی تضاد نہیں ، اسلام نہ صرف سائنسی انداز فکر کی دعوت دیتا ہے بلکہ سائنس کے لیے پیشوا  کا کردار ادا کرتے ہوئے تحقیقات کے نئے باب بھی کھولتاہے۔
  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور عالمگیر دین ہے اس نے زندگی کے تما م مسائل کے متعلق اصول و قواعد وضع کیے ہیں ۔ معاشیات، معاشرت، طب، انجینئرنگ، حکمت، سائنس، صحافت، بزنس، سیاست اور بے شمار علوم کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں۔ قرآن مجید کی 750 آیات یعنی نواں حصہ مظاہر فطرت پر غوروخوض کرنے کی دعوت دیتا ہے اور اس غوروفکر کو بندہ مومن کی بنیادی صفات میں شمار کرتا ہے۔
  • جب یہ حقیقت ہے کہ قرآنی تعلیمات کا 9/1 حصہ سائنس سے متعلق ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سائنس اور اسلام میں کسی قسم کا کوئی تصادم ہوسائنس تو اسلام کی نقیب ہے اس کی ایجادات سے اسلام کی حقانیت مزید واضح ہو جاتی ہے
  • اگر دور حاضر کے مسلمان فلاسفہ اوردانشور شعوری سائنسز کو بھی باقی علوم کی طرح جگر سوزی کے ساتھ پروان چڑھائیں تو کچھ بعید نہیں کہ شعوری سائنسز بھی مادی و حیاتیاتی علوم کی طرح بنی نوع انسان کو الہامی علوم کی صداقت کی طرف لے آئیں