- اسماء حسنی ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں:اللہ تعالیٰ کے بہترین نام۔
- یہ اصطلاح ، قرآن کی چار سورتوں میں استعمال ہوئی ہے: سورہ طہ آیت ۸، سورہ حشر آیت ۲۴، سوره اَعراف آیت ۱۸۰ اور سوره اِسراء آیت ۱۱۰ میں آیا ہے
- یہ اللہ تعالیٰ کے وہ مقدس نام جو اس کے کمالات، بزرگی، جلال اور جمال کو سب سے بہترین صورت میں بیان کرتے ہیں۔
وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا،
اور اللہ ہی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں، پس اسے ان ناموں سے پکارو (الأعراف: 180)
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ
اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو شخص ان کو محفوظ رکھے (سمجھے، یاد کرے، ان پر عمل کرے) وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (بخاری، مسلم)
کیا اللہ تعالیٰ کے صرف ننانوے نام ہیں ؟
- یہ حدیث تحدید(limitation) کے لیے نہیں، بلکہ شرف و فضیلت کے لیے ہے۔یعنی: ان ۹۹ ناموں کا خاص اجر و ثواب ہے، نہ کہ اللہ کے کل نام صرف اتنے ہیں۔
- امام نوویؒ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے نام صرف ۹۹ ہیں؛ بلکہ یہ کہ جو شخص ان ۹۹ ناموں کو یاد کرے، سمجھے اور ان کے مطابق عمل کرے، اس کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ یعنی یہ فضیلت مخصوص ان ۹۹ ناموں کے لیے ہے یہ حصر (restriction)کے معنی میں نہیں
- ابن حجر عسقلانیؒ (فتح الباری)نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام اس سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ کی دعا میں آیا: أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ…اے اللہ! میں تجھ سے ان تمام ناموں کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لیے اختیار کیے، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے، یا اپنی غیب کی کتاب میں محفوظ رکھے۔ (احمد، طبرانی)
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ایسے نام بھی ہیں جو کسی کو معلوم نہیں۔لہٰذا، ۹۹ صرف ظاہر و معروف اسماء ہیں، نہ کہ کلّی تعداد
- امام قرطبیؒ (الجامع لأحكام القرآن) نے اس کے بارے میں لکھا ہے، اللہ کے ناموں کی کوئی محدود تعداد نہیں۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جو ۹۹ نام بیان کیے گئے ہیں، ان کا احصاء (یاد رکھنا، سمجھنا، ان سے تعلق قائم کرنا) جنت کا ذریعہ ہے، ورنہ اسماء الٰہی کی تعداد لامحدود ہے، کیونکہ اللہ کے کمالات لا محدودہیں
- شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے لکھا ہے کہ اسماء اللہ توقیفی ہیں یعنی وحی سے ثابت ہوں گے، مگر ان کی تعداد مخصوص نہیں۔ اللہ کے بے شمار اسماء ہو سکتے ہیں، جن میں سے کچھ ہمیں معلوم ہیں اور کچھ نہیں۔ (مجموع الفتاوى)
- امام راغب اصفہانیؒ (المفردات): نے لکھا ہے کہ اسم اُس صفت کو ظاہر کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پہچان ہو۔ چونکہ صفاتِ الٰہی غیر محدود ہیں، اس لیے اسماء بھی لامحدود ہیں؛ مگر ان میں سے بعض کا تعلق بندوں کے فہم اور دنیاوی زبان سے ہے، اس لیے وہ محدود دکھائی دیتے ہیں
کیا اللہ کے افعال سے اُس کے اسماء بنائے جا سکتے ہیں؟
- اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء ایسے ہیں جن کو اللہ کے افعال سے مشتق کر کے بنایا گیا ہے ، جو قرآنِ کریم یا نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ثابت ہیں، جیسے:
يُبدئُ ويُعيدُ (البروج ۱۳) سے مُبدئِ ومُعيد
يُحيي ويُميتُ (الحديد ۲) سے مُحيي ومُميت
- اس بارے میں امام ابن حزمؒ نے لکھا ہے کہ:
“کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نام (کسی ایسے فعل یا صفت سے) مشتق کرکےبنائے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنا اسم اختیار نہیں کیا، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،”آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم”۔
“وہ لوگ اپنی تدبیروں میں لگے پڑے ہیں اور میں اپنی تدبیر کر رہا ہوں”
“وہ لوگ چالاکی کر رہے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ چالاکی سے کام لے رہے ہیں اوراللہ تعالیٰ تو تمام چالاکوں سے زیادہ چالاک ہیں”
کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نام مبارک، بنّاء اور کیّاد رکھے یا اس کو ماکِر، متجبریا مستکبر کہہ کے پکارے، نہ مجازی طور پر اور نہ حقیقی اعتبار سےاور جس شخص نے اس نکتہ سےانحراف پر اصرار کیا تو یقیناً اس نے اسماء باری تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور ایسی بات کہی جس کی کوئی دلیل نہیں ہے”(المحلى، لابن حزم)
اللہ کے نام کس نے رکھےہیں؟
- ” لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے جو مشہور نام رائج ہیں، ان میں سے بہت سے صفاتی افعال ہیں نہ کہ اسماء، جبکہ اسلاف کا مذہب اس سلسلے میں یہ ہے کہ اسماءِ الہیٰ کا مسئلہ توقیفی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے خود بیان کیا ہو یا نبیﷺسے ثابت ہو، لہٰذا اس پر قرآن و سنت سے دلیل ہونا ضروری ہے، یہ عقلی اور اجتہادی مسئلہ نہیں ہے کہ جسے کوئی انسان اپنے رب کے لئے اسکی صفات یا افعال سے مشتق ( نکال) کر ثابت کردے
اسی لئے اکثر علماء نے ان اسماء کو اسماءِ الٰہی شمار نہیں کیا ہے جن کو سنن ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم میں اپنے طور پر مندرج کردیا گیا ہے، اور ان پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں، مثال کے طور پر اس قسم کے اسماء یہ ہیں:
الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، الْمُنْتَقِمُ، الْمُمْهِيْتُ، الْبَاعِثُ، الْبَاقِي، الْعَدْلُ، الْمُخَصِّي، الْمُقْسِطُ، الْمُغْنِي۔
کس نے رکھے ہیں اللہ کے یہ نام؟ ( قرآن و احادیث میں ان کی کوئی سند نہیں، کچھ علماء نے انہیں اجتہادی طور پر اسماء الٰہی میں اس لیے شامل کر لیا کہ یہ قرآن میں اللہ کے افعال سے اخذ کیے گئے ہیں )
- جس طرح ان ناموں کو اجتہاد کے ذریعہ اختیار کیا گیا ہے، اگر اس طرح نام رکھنا جائز مانا جائے تو جو جَاعِلُ الْمَلَائِكَةسے جاعِلُ ، يَمْحُو اللّٰهُسے مَاحِي،
إِنَّا أَرْسَلْنَا اور مُرْسِلُ النَّاقَةِسے مُرسل، وَاللّٰهُ يُعَذِّبُ سے مُعَذِّبٌ، وَاللّٰهُ يُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَسے مُقَلِّب، يُحِبُّ التَّوَّابِينسے مُحِبْ بنانا
بھی درست قرار پائے گا اور یہ سلسلہ کہاں تک پہنچے گا؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔” (اسماء الله الحسنى – ابو محمود عبد الرزاق ، المكتبه الشامله )
اللہ تعالیٰ کے ناموں کو یاد کرنے سے کیا مراد ہے؟
- إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ-
اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو شخص ان کو محفوظ رکھے (سمجھے، یاد کرے، ان پر عمل کرے) وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (بخاری، مسلم)
- اس حدیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کو “یاد” کرنے (أَحْصَا) سے کیا مراد ہے جس پر اتنا بڑے اجر کی خبر ہے ؟
- “أَحْصَا” کا ظاہری ترجمہ “یاد کرنا” ہے، لیکن محدثین و علماء نے واضح کیا ہے کہ اس سے صرف “زبانی یاد کرنا” مراد نہیں، بلکہ یہ ایک جامع عمل ہے۔
- أَحْصَى يُحْصِي ، إِحْصَاءً کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو پوری طرح گننا، شمار کرنا، احاطہ کرنا، سمجھنا، اور اس پر قابو پانا۔ لہٰذا “أَحْصَاهَا” کا مفہوم محض زبانی یادداشت نہیں، بلکہ علم، فہم، ایمان اور عمل کے مجموعے پر مشتمل ہے۔
- محدثین نے اس کی تشریح کچھ اس طرح کی ہے:
- امام نوویؒ (شرح صحیح مسلم):“احصاء سے مراد یہ نہیں کہ صرف ان ناموں کو زبانی یاد کر لیا جائے،بلکہ اس کا مطلب ہے:اُن پر ایمان رکھنا، اُن کے معانی کو سمجھنا،اور ان کے مطابق عمل کرنا۔
- یعنی “أحصاها” میں تین درجے شامل ہیں(۱) زبانی یاد کرنا،(۲)معنی و مفہوم کو سمجھنا(۳)عمل و عبادت میں ان کا اثر ظاہر کرنا۔
- امام ابن حجر عسقلانیؒ (فتح الباری): احصاء یعنی
حَفِظَهَا لَفْظًا، وَفَهِمَهَا مَعْنًى، وَعَمِلَ بِهَا اعْتِقَادًا وَعِبَادَةً
“انہیں زبانی یاد کرے، معنی میں تدبر کرے، اور عقیدہ و عبادت میں ان پر عمل کرے”
انہوں نے فرمایا کہ جو شخص صرف یاد کرے مگر ان پر ایمان و عمل نہ رکھے،وہ احصاء کے حقیقی مفہوم میں داخل نہیں۔
یعنی “أحصاها” میں تین درجے شامل ہیں(۱) زبانی یاد کرنا،(۲)معنی و مفہوم کو سمجھنا(۳)عمل و عبادت میں ان کا اثر ظاہر کرنا
- امام قرطبیؒ:” احصاء کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ان ناموں کومعرفت (علم) کے طور پر سمجھے،دعا میں استعمال کرے،اور عمل میں ان کی حقیقت کو ظاہر کرے۔
یعنی یاد رکھنا + سمجھنا + دعا و عمل میں ان کا استعمال = احصاء کامل
- امام راغب اصفہانیؒ نے (المفردات میں) “أحصاها” کے معانی میں ’ معرفت کے ساتھ احاطہ‘ کا مفہوم شامل کیاہے، یعنی بندہ اللہ کے ان صفاتی ناموں کو سمجھے، جانچے، اور اپنی عبادت میں ان کا لحاظ رکھے۔
- ابن القیمؒ (بدائع الفوائد): اسماء الحسنیٰ کا احصاء ایمان کی تکمیل کا دروازہ ہے- کیونکہ جب بندہ اللہ کے ہر اسم کے معنی کو پہچانتا ہے،تو اسی کے مطابق اس کا یقین، دعا، خوف اور امید مضبوط ہوتی ہے۔
- أَحْصَاهَا یاد رکھنا ،سمجھنا،ایمان لانا ، ان پر عمل کرنا۔یعنی جو بندہ اللہ کے ۹۹ ناموں کودل سے جانے، زبان سے یاد رکھے، اور عمل میں ظاہر کرے،وہی حقیقی طور پر ان ناموں کا “احصاء” کرنے والا ہے اور اسی کے لیے جنت کی بشارت ہے۔
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر