- جب یہ سورت نازل ہوئی تو سورۃ البقرہ میں جس شہادت گہہ الفت سے متنبہ کیا گیا تھا اب مسلمان پوری طرح اس میں قدم رکھ چکے تھے
- جنگ بدر میں اہل ایمان کو جو فتح حاصل ہوئی تھی، اس نے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور قبیلوں کو چوکنا کر دیا تھا اور ان مین سے کئی اس نئی تحریک کے خلاف یکجا بھی ہوگئےتھے
- ان حالات کا مدینے کی معاشی حالت پر بھی نہایت برا اثر پڑ رہا تھا۔ جو پہلے ہی مہاجرین کی آمد سے دباؤ میں تھے پھر جنگ نے ان حلات کو مزید دگر دوں کر دیا تھا
- مسلمانوں اور اس نئی اسلامی تحریک کے اِن دشوار گذار حالات کو دیکھ کر اسلام دشمن شرپسند عناصر نےاپنی مخالفتوں اور سازشوں کو پہلے سے زیادہ تیز کردیا تھا
- ہجرت کے بعد نبی ﷺنے اطراف مدینہ کے یہودی قبائل کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے، ان لوگوں نے ان معاہدات کا ذرہ برابر پاس نہ کیا۔ جنگ بدر کے موقع پر ان اہل کتاب کی ہمدردیاں توحید و نبوت اور کتاب و آخرت کے ماننے والے مسلمانوں کے بجائے بت پوجنے والے مشرکین کے ساتھ تھیں- بدر کے بعد یہ عناصر کھلم کھلا مشرکین مکہ کا ساتھ دینے لگے
- ان عناصر میں سب سے نمایاں بنی نضیر اور ان کا سردار کعب بن اشرف تھا
- جنہوں نے کھلم کھلا دشمن کا ساتھ نہیں دیا انہوں نے نفاق کی راہ اپنا لی اور مدینے میں آستین کے سانپ کا کردار ادا کیا
- نتیجتاً مسلمانوں کے لیے اندرونی و بیرونی خطرات میں اضافہ ہوگیا اور نبی کریم ﷺکی زندگی پرخطر ہوگئی۔ اب آپ کے لیے پہرے اور نگرانی کے بغیر سونا آسان نہ رہا۔ آپ ﷺچند لمحوں کے لیے بھی نگاہوں سے اوجھل ہوتے تو مسلمان گھبرا کر تلاش کے لیے نکل کھڑے ہوتے
- جب مدینے کے ان شر پسند عناصرکی شرارتیں اور عہد شکنیاں حد سے گزر گئیں، تو نبی ﷺنے بدر کے چند مہینے بعد بنی قینقاع پر، جو ان یہودیوں میں سب سے زیادہ شریر لوگ تھے، حملہ کردیا اور انہیں اطراف مدینہ سے نکال باہر کیا
- لیکن اس سے دوسرے یہودی قبائل کی آتش عناد اور زیادہ بھڑک اٹھی اور انہوں نے مدینے کے اندر منافقین اور مدینے سے باہر مشرکین سے ساز باز تیز کر دی اور قریش جو بدر کی شکست اور اپنے بڑے بڑے سرداروں کے مارے جانے پر تلملا رہے تھے ان کی آتش انتقام پر مزید تیل چھڑکا
- اپنے مشترکہ ہدف کے حصول اور مشرکین، یہود اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں جنگ بدر کے ایک سال بعد ہی مشرکین مکہ نےتین ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا
- احد پہاڑ کے دامن میں 17 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) جو جنگ ہوئی اسے جنگ احد یا غزوۂ احد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
- آپ ﷺ کے ساتھ ایک ہزار افراد مدینہ سے نکلے لیکن راستے میں 300 منافقین کا گروہ الگ ہو گیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد 700رہ گئی جن میں ابھی بھی کچھ تعداد میں منافقین موجود تھے جنہوں نے دوران جنگ مسلمانوں کے درمیان فتنہ برپا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
- ابتدائی زبردست کامیابی کے بعد مسلمانوں کو جنگ میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس میں مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ منافقین کی تدبیروں کا ایک بڑا حصہ تھا
- مسلمانوں کی ان کمزوریوں خصوصاً تنظیمی کمزوریوں پر اس سورت میں مفصّل تبصرہ کیا گیا ان کے طرزِ فکر ، نظام اخلاق اور تربیتی امور پر رہنمائی اور ہدایات دی گئیں
- اس تبصرے کی قابلِ ذکر بات- قرآن کا یہ تبصرہ دنیا کی جنگوں پر جرنیلوں کے تبصرے سے کتنا مختلف
Check Also
نُورٌ عَلیٰ نُورٍ(نور پر نور)
“نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” (نور پر نور) آیتِ نور کا وہ مرکزی جملہ ہے جو پوری …
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر