نُورٌ عَلیٰ نُورٍ(نور پر نور)

  • “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” (نور پر نور) آیتِ نور کا وہ مرکزی جملہ ہے جو پوری تمثیل کا خلاصہ اور نتیجہ ہے۔ مفسرین نے اس کی متعدد تشریحات کی ہیں اور ہر تشریح ایک نئے پہلو سے ایمان کی روشنی کو واضح کرتی ہے۔ یہ تشریحات باہم متعارض نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں  –  امام رازیؒ نے “مفاتیح الغیب” میں لکھا کہ “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کا جملہ اگرچہ مختصر ہے لیکن اس میں اتنی معنوی گہرائی ہے کہ اس پر مستقل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔مفسرین کی چند تشریحات
  • پہلی تشریح: فطرت کا نور + وحی کا نور
  • فطرت کا نور: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو پیدا کرتے وقت ایک فطری روشنی عطا کی ہے جسے قرآن “فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا” (سورۃ الروم: ۳۰) کہتا ہے۔ یہ فطری نور انسان کو خیر و شر کی ابتدائی تمیز دیتا ہے، کائنات میں کسی خالق کا احساس دلاتا ہے اور سچائی کی طرف فطری جھکاؤ پیدا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “کُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ” (بخاری و مسلم) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ فطرت دراصل ایک پیدائشی نور ہے جو ہر انسان کو ملا ہوا ہے
  • وحی کا نور:جب اس فطری نور پر اللہ کی وحی  –  قرآن و سنت  – کا نور آ کر پڑتا ہے تو “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ فطرت نے جو ابتدائی جھکاؤ دیا تھا، وحی نے اسے مکمل، واضح اور مستحکم کر دیا۔ امام ابنِ القیمؒ نے “مدارج السالکین” میں لکھا ہے کہ انسان کی فطرت اس تیل کی مانند ہے جو پہلے سے صاف اور خالص ہے   –  جب اس پر وحی کی آگ آ کر لگتی ہے تو “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” ہو جاتا ہے۔ جو فطرت سالم رکھے اور وحی کو قبول کرے اس کے لیے یہ دوہری روشنی ہے، اور جو فطرت بگاڑ لے اس کے لیے وحی کا نور بھی کام نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں “لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ” کے الفاظ فطرت کی سلامتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

دوسری تشریح: قرآن کا نور + نبی ﷺ کا نور

  • قرآن کا نور: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو “نور” کہا ہے: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو “نور” کہا ہے:”قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ” (المائدہ: ۱۵)۔ قرآن وہ روشنی ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرتی ہے، زندگی کے ہر مسئلے میں رہنمائی دیتی ہے اور دل کے اندھیروں کو دور کرتی ہے۔ یہ نور آفاقی ہے “لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ” نہ کسی ایک زمانے کے لیے، نہ کسی ایک قوم کے لیے

– نبی کریم ﷺ کا نور: نبی کریم ﷺ کو اللہ نے “سِرَاجًا مُّنِيرًا” (الاحزاب: ۴۶) یعنی روشن چراغ کہا ہے -آپ ﷺ کی ذات قرآن کی عملی تفسیر ہے ، قرآن کا نور آپ ﷺ کی سیرت میں عمل کی شکل میں ظاہر ہوا

حضرت عائشہؓ نے فرمایا: “كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ”  آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا (مسلم)۔ یعنی قرآن کا لفظی نور اور نبی ﷺ کا عملی نور جب ایک ساتھ آتے ہیں تو “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کی تصویر بنتی ہے

امام ابنِ کثیرؒ نے  اپنی تفسیر میں کعب الاحبارؓ کا قول نقل کیا کہ مصباح سے مراد نبوت کا نور اور زجاجہ سے مراد آپ ﷺ کا قلبِ مبارک ہے  – یعنی قرآن (نور) اور نبی ﷺ (ظرف) کا ملاپ “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” ہے۔

تیسری تشریح: ایمان کا نور +  عمل کا نور

  • ایمان کا نور: جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں ایک نور ڈال دیتا ہے۔ سورۃ الحدید (آیت ۲۸) میں ارشاد ہے: “وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ” اور تمہارے لیے ایک نور بنا دے جس کے ساتھ تم چلو۔ یہ ایمانی نور دل کو سکون دیتا ہے، یقین پیدا کرتا ہے اور ہر فیصلے میں رہنمائی کرتا ہے۔
  •  حضرت ابنِ مسعودؓ کا قول ہے:

“إِنَّ الْعِلْمَ لَيْسَ بِكَثْرَةِ الرِّوَايَةِ، وَلَكِنَّ الْعِلْمَ نُورٌ يَقْذِفُهُ اللَّهُ فِي الْقَلْبِ”

علم روایات کی کثرت کا نام نہیں بلکہ وہ نور ہے جو اللہ دل میں ڈالتا ہے

  • عمل کا نور: ایمان اکیلا نہیں رہتا  –  وہ عمل کو جنم دیتا ہے، اور عمل ایمان کی روشنی کو بڑھاتا ہے۔ سورۃ البقرہ (آیت ۲۵۷) میں ہے کہ اللہ مومنوں کو “الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ” میں لاتا ہے ، اور یہ سفر ایمان سے شروع ہو کر عمل سے مکمل ہوتا ہے۔ جس طرح تیل اکیلا روشنی نہیں دیتا  –   اسے آگ چاہیے  –  اسی طرح ایمان کا نور عمل کی آگ سے مکمل ہوتا ہے اور “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” بنتا ہے۔ امام غزالیؒ نے “احیاء علوم الدین” میں لکھا ہے کہ ہر نیک عمل دل میں روشنی کا ایک ذرہ اضافہ کرتا ہے اور ہر گناہ ایک ذرہ اندھیرا ڈالتا ہے  – یہاں تک کہ دل یا تو “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” بن جاتا ہے یا “ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ”

چوتھی تشریح:تین نوروں کا ضم  (امام رازی ؒ کی خاص تشریح)

  • امام فخرالدین رازیؒ نے اپنی تفسیر “مفاتیح الغیب” میں آیت کے عناصر کو تین نوروں کے طور پر تجزیہ کیا: تیل کا نور (فطرتِ سلیمہ)، آگ کا نور (وحی و ہدایت)، اور شیشے کا نور (دل کی صفائی اور شفافیت)۔ جب یہ تینوں نور ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ”  کا مقام آتا ہے جو انفرادی نوروں کے مجموعے سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔  امام رازیؒ کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کو “نُورَانِ” (دو نور) نہیں کہا بلکہ “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کہا  – یعنی نور کا نور پر آنا، ایک دوسرے کو بڑھانا اور ضم ہو کر کچھ نیا بنانا۔

پانچویں تشریح: دنیا کا نور + آخرت کا نور

  • ابنِ عاشورؒ نے “التحریر والتنویر” میں ایک اور پہلو بیان کیا – “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں ایمان کا نور ہے اور آخرت میں اللہ کے دیدار اور جنت کا نور۔ سورۃ الحدید (آیت ۱۲) میں ہے: “يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم”   قیامت کے دن مومنوں کا نور ان کے آگے اور دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ یعنی دنیا کا ایمانی نور آخرت کے نور میں تبدیل ہو جائے گا  –  “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ”۔
  • یہ تمام تشریحات ایک ہی حقیقت کو مختلف زاویوں سے دیکھتی ہیں: جب اللہ کی عطا (نور) اور بندے کی قبولیت (نور) ایک جگہ ملتے ہیں تو ایک ایسی روشنی پیدا ہوتی ہے جو نہ صرف راستہ دکھاتی ہے بلکہ خود روشنی کا سرچشمہ بن جاتی ہے  –  اور یہی “نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” کی حقیقت ہے۔

Check Also

حیا، خلوت اور عفت کے اسلامی نظام کا عصری اطلاق

  سورة النور کی آیات 27 تا 34 اسلامی معاشرت کے لیے ایک نہایت مربوط …