- قرآن مجید کا مقام- قرآن کریم نے فلکیاتی حقائق اور کائنات کے نظام پر غور وفکر کی بارہا دعوت دی ہے کہ کائنات کے نظام اور اجرامِ فلکی کی حرکت پر تدبر کرے، اور ان اشیاء میں اللہ کی قدرت کو پہچانے۔ تاہم قرآن کوئی سائنس یا ٹیکنالوجی کی کتاب نہیں بلکہ انسان کی ہدایت اور زندگی کے تمام پہلوؤں کا جامع نظام ہے۔ اسلام عقل کو کام کرنے کی آزادی تو دیتا ہے، مگر سائنسی جزئیات یا عارضی نظریات کو دین میں مرکزی مقام نہیں دیتا بلکہ ان امور کو عقل و تجربے کے دائرے پر چھوڑ دیتا ہے۔
- سائنسی حقائق اور نظریات میں فرق – قرآن کریم کی تشریح/تفسیر کرتے وقت اس بنیادی اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ (scientific theory) اور سائنسی حقیقت scientific fact)) الگ الگ چیزیں ہیں۔ سائنسی حقیقت وہ ہے جو تجربے اور مشاہدے سے بارہا ثابت ہو چکی ہے اور ہر حال میں درست رہتی ہے، جبکہ سائنسی نظریات وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، اس لیے قرآنی تفسیر کو عارضی نظریات کے مطابق ڈھالنا درست نہیں۔ مسلمان اہل علم کا طریقہ یہ ہے کہ قرآنی مفہوم کو اٹل حقیقت مانا جائے، جب کہ سائنسی نظریات صرف اسی حد تک قبول کیے جائیں جب تک وہ قرآنی اجمالی بیان سے متصادم نہ ہوں
- قرآن اور سائنسی جزئیات – قرآن میں کائناتی حقائق کی طرف اشارے ضرور ملتے ہیں، مگر ان کی تفصیلات بیان نہیں کی جاتیں۔ ایسی جزئیات کا مطالعہ اور تحقیق عقل کا کام ہے، اور قرآن اس بارے میں مکمل رہنمائی پیش کرتا ہے کہ انسان اپنی عقل اور تحقیق کو درست سمت میں استعمال کرے۔ قرآن پر ایمان اس کے بیان کردہ قطعی حقائق پر ہے، نہ کہ سائنسی نظریات پر جن کا بدلنا یقینی ہے۔ اس لیے قرآن کو سائنسی عدالت یا تجربہ گاہ میں لے جا کر اس کی تفسیر کرنا اس کے اصل مقام کے خلاف ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ فلکیاتی نظریات قرآن کے اجمالی بیان سے متضاد نہیں ہیں۔
قرآن مجید اور اس کی سائنسی تفسیر
قرآن کریم کی سائنسی تفسیر کیا ہے ؟
- قرآن کریم بنیادی طور پر انسان کی ہدایت کی کتاب ہے ( زندگی کے نظام پہ مشتمل کتابِ ہدایت)۔ لیکن اس میں متعدد ایسی آیات موجود ہیں جو آفاقی/فطری مظاہر (Natural Phenomenon) جیسے کائنات، اجرام فلکی، زمین، حیاتیاتی حقائق، زندگی کا آغاز، کائنات کا وسعت پذیری، زمین کا پہاڑوں سے مستحکم ہونا، آسمان کا حفاظتی کرہ ، یا سورج اور سیاروں کی گردش وغیرہ سے متعلق ہیں
- قرآن کی سائنسی تفسیر سے مراد ان آیات کو جدید سائنسی علم، تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں سمجھنا اور بیان کرنا ہے
کیا قرآن کی سائنسی تفسیر کی جانی چاہیے؟
- تفسیر نگاری میں اب تک بہت سارے اسالیب کو اپنایا گیا ہے اور ان میں اکثرو بیشتر مسلمہ حیثیت اختیار کر چکے ہیں ( ان میں تفسیربالروایت، کلامی، فقہی، نحوی، اور ادبی …..اسالیب شامل ہیں )
- سائنسی تفسیر کا تعلق طبیعی علوم (Natural Sciences)سے ہے (وہ سائنسی شعبے جو قدرتی دنیا، مادہ، توانائی، کائنات اور غیر جاندار اشیاء کے اصول اور قوانین کی تحقیق کرتے ہیں، اور جن کا بنیادی مقصد فطرت کی مختلف قوتوں اور interactions کو تجربات، مشاہدات اور پیمائش کے ذریعے سمجھنا اور بیان کرنا ہے(
- اسلامی روایت میں امام غزالی، امام رازی اور امام سیوطی جیسے ممتاز مفکرین نے اس خیال کی حمایت کی ہے کہ طبعی علوم کو تفسیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے لیکن قرآن کی سائنسی تفسیر اب تک مسلمہ حیثیت اختیار نہیں کر سکی ہے
سائنسی تفسیر کے حق میں دلائل
- اولین (کلاسیکی) دور میں روایت کی موجودگی: سائنسی تفسیر کا رجحان اسلام کے دورِ زریں (Islamic Classical Period ) میں مکمل طور اجنبی یا غیر مصدقہ نہیں رہا ہے۔ اگرچہ یہ رجحان باقاعدی اور منظم طور پر موجود نہیں تھا، مگر اس کی بنیادیں اور اس کے اجزائی عناصر اُس دور کی تفسیری روایت میں موجود تھے۔ امام فخرالدین رازی (544-606ھ) نے مفاتیح الغیب میں طبیعی مظاہر (مثلاً بادل، آسمان، روشنی، انسانی جسم) کی علمی توضیحات پیش کیں،جو بعد کی “سائنسی تفسیر” کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔ بعد میں دیگر مفسرین اور متکلمین، جیسے الکندی، الفارابی، ابن سینا، ابن الہیثم، پھر الرازی، الزمخشری وغیرہ نے قرآن کی آیاتِ کائنات کی تعبیر میں عقلی و سائنسی استدلال کو شامل کیا۔
2. عصر حاضر کا تقاضا:علم حقیقی ضرورتوں کے تحت ارتقاء پذیر ہوتا ہے۔ جس طرح الہیات کے مسائل کے لیے کلامی تفسیر وجود میں آئی ، اسی طرح آج سائنس کے غلبے اور سائنسی عالمی تناظر کا تقاضا ہے کہ سائنسی تفسیر لکھی جائے، جو عصر حاضر کی ضرورت ہے
3. قرآن جامع ہدایت : چونکہ قرآن خود کو “کتاب الہدی” کہتا ہے ، اس کی ہدایت کو چند امور تک محدود کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ زیادہ معقول نقطۂ نظر یہ ہے کہ قرآن میں زندگی کے تمام امور و معاملات کے بارے میں ہدایات موجود ہیں، جن سے سائنسی ہدایات خارج نہیں ہیں ۔ سائنسی طریقہ بھی قرآن فہمی کا ایک ممکنہ اور درست انداز ہو سکتا ہے ۔
4. مظاہر قدرت کی آیات:متعدد قرآنی آیات میں مظاہر قدرت (Natural Phenomenon) کی گونا گونی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ کائنات کے مجموعی نظام، توازن، ہم آہنگی، اور علت و معلول کے رشتے پر آیات اور ہدایات موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر جنین کے رحم مادر میں ارتقائی مراحل کی تفصیل، سورج، چاند، آسمانوں کی تخلیق و ترتیب کا ذکر ہے ۔ یہ سب سائنسی تفسیر کے امکان کو واضح اور وسیع کرتے ہیں ۔ ان پر تدبر، اورتحقیق جو قرآنی بیان کی وضاحت میں مدد دے، تو یہ ایمان کی تصدیق کا ذریعہ ہے، نہ کہ انحراف۔
5. جدید رحجانات اور سائنسی تصدیقات: جدید دور میں جب سائنس انسانی فکر کی سب سے بڑی اتھارٹی بن گئی، قرآن کے سائنسی پہلوؤں پر غور کرنے کا رجحان ایک نئے جوش کے ساتھ ابھرا ہے
اس ضمن میں سب سے نمایاں نام شیخ طنطاوی جوہری (م 1940) کا ہے، جو جامعۃ الازہر کے مفسر و مفکر تھے۔ انہوں نے اپنی مشہور تفسیر “الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم” میں یہ نظریہ پیش کیا کہ قرآن مجید میں کائنات کی تمام بنیادی سائنسی حقیقتوں کے اشارات موجود ہیں۔ اُن کے نزدیک قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسان کو محض عبادات نہیں سکھاتا بلکہ کائنات کے نظام پر غور و تحقیق کی دعوت بھی دیتا ہے
غیر مسلم محقق، فرانسیسی سرجن ڈاکٹر مورس بکائے Maurice Bucaille))نے اپنی معروف تصنیف “The Bible, The Qur’an and Science” میں بائبل اور قرآن کے بیانات کا سائنسی معیار پر تقابلی مطالعہ کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ بائبل کے برعکس قرآن مجید میں جو علم ہے وہ سائنسی لحاظ سے درست اور معتبر ہے جو کہ قرآن کے الہامی ہونے کا ثبوت ہے
سائنسی تفسیر کے خلاف دلائل
- قرآن کتابِ سائنس نہیں بلکہ کتابِ ہدایت ہے: سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید سائنس کی کتاب نہیں ہے، بلکہ “کتاب الہدیٰ” کے طور پر نازل کیا گیا ہے تاکہ انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف رہنمائی کرے ۔ قرآن کا مقصد سائنسی نظریات یا قوانین بیان کرنا نہیں بلکہ کائنات کے مطالعے کے ذریعے خالق کی معرفت پیدا کرنا ہے۔سائنسی تفسیر کا حد سے بڑھ جانا بعض اوقات آیات کے اصل مقصداور اخلاقی مفہوم کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے
2. جامعیت کی آیت کی غلط تعبیر: سورۃ الانعام کی آیت (مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ) کا حوالہ سائنسی تفسیر کے حق میں دیا جاتا ہے ، لیکن نکتہ چیں اسے رد کرتے ہیں۔ امام ذہبی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن میں علم کی ہر قسم کی تفصیلات و جزئیات درج ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان تمام امور و معاملات کے بارے میں عام اصول بتائے گئے ہیں جن کا جاننا انسان کے لیے ضروری ہے اور جن سے وہ جسمانی و روحانی تکمیل حاصل کر سکتا ہے
3. سائنس تغیر پذیر جبکہ قرآن اٹل: سائنس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے ۔ آج کا مسلمہ نظریہ کل متروک ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا، قرآن کی اٹل اور ناقابلِ تغیر تعلیمات کی تفسیر تغیر پذیر سائنس کی روشنی میں کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے قرآن کو تغیر پذیر سائنس کا یرغمال بنایا جا سکتا ہے ۔ ماضی میں جن سائنسی نظریوں کا حوالہ دیا جاتا تھا، وہ اب متروک ہو چکے ہیں
4. مبالغہ آمیز دعوے اور کمزور تشریحات: سائنسی تفسیر کے حامی بعض اوقات مبالغہ آمیز دعوے کرتے ہیں ، مثلاً بعض نے سورۃ الم نشرح کی آیات کو طب، جراحی اور تشریح الابدان کے علم کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ مزید یہ کہ نام نہاد سائنسی آیات کی تشریح بھی محتاج تشریح رہتی ہے۔ م
5. سائنسی تناظر کا اثر: قرون اولیٰ میں جب مسلمانوں کی سائنسی سرگرمی عروج پر تھی، اس وقت کی تفاسیر میں بالعموم سائنس کے حوالے موجود نہیں ہیں۔ اس کے برعکس آج جب مسلمانوں کی سائنسی سرگرمیاں زوال پذیر ہیں، وہ اسلامی عقائد کے تحفظ کے لیے جدید سائنس کا سہارا لے رہے ہیں ۔ یہ سائنس دراصل مغربی تہذیب کی پیداوار ہے ، اور سائنسی تفسیر اسلام کے نام پر مغربی سائنس کے رنگ میں رنگی جا رہی ہے ، جس سے وہ اپنی اصلیت کی توثیق سے محروم ہو جائے گی
6. اخلاقی سبق کا مقصد: قدرتی اور وجودی مظاہر کے بارے میں نازل ہونے والی قرآنی آیات کا اصل مقصد انسانی عقل و شعور کی تربیت و رہنمائی ہے تاکہ ان مظاہر کے مشاہدے سے اخلاقی سبق اخذ کیے جا سکیں
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر