اسلامی اجتماعیت کا جامع قرآنی تصور
- قرآنِ کریم کی مجموعی تعلیمات سے اسلامی اجتماعیت کا جو تصور سامنے آتا ہے، وہ محض افراد کے اجتماع یا سیاسی اقتدار کا نام نہیں بلکہ ایمان، توحید، عدل، شوریٰ، امانت، معروف میں اطاعت، باہمی تعاون، نظم و ضبط اور اللہ کے سامنے جواب دہی پر قائم ایک جامع اجتماعی نظام ہے
- اسلامی اجتماعیت کی تشکیل خود ایک قرآنی تصور ہے؛ قرآن اہلِ ایمان کو صرف انفرادی نیکی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ انہیں ایک امت، منظم جماعت اور باہمی تعاون رکھنے والی اجتماعیت کی صورت میں بھی دیکھتا ہے، جس میں مشترک مقصد، قیادت، مشاورت، اطاعت اور اجتماعی ذمہ داری موجود ہو۔ اس لیے اسلامی جماعت یا منظم اجتماعیت کو فی نفسہٖ اسلام سے متصادم، مشتبہ یا کوئی “شجرِ ممنوعہ” سمجھنا درست نہیں؛ اصل معیار یہ ہے کہ وہ اجتماعیت قرآن و سنت، عدل، شوریٰ اور اخلاقی حدود کی پابند ہو۔ اسی تناظر میں استخلاف اور اقتدار مقصدِ بالذات نہیں بلکہ اقامتِ دین، عدل، حقوق کے تحفظ، امن اور خیر کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ قیادت امانت، شوریٰ فیصلہ سازی کا اصول، اطاعت معروف کی حدود میں، اور نظمِ جماعت اجتماعی مقاصد کے حصول کا لازمی تقاضا ہے۔
- جماعت کے افراد پر اخلاص، ذمہ داری، وفاداری اور نظم کی پابندی عائد ہوتی ہے، جبکہ قیادت عدل، مشاورت، خیرخواہی اور جواب دہی کی پابند ہے۔ یوں قرآن فرد، جماعت اور حکومت کو ایک دوسرے سے کاٹتا نہیں، بلکہ سب کو اللہ کی ہدایت کے تابع کرکے ایک منظم، عادل، اخلاقی اور خدا شناس اجتماعی زندگی کی تشکیل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اسلامی اجتماعیت کے مقاصد کا ذکر قرآن میں (چند مقامات)
- شهادت علی الناس
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا-البقره :١٤٣
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر(حق کے) گواہ بنو اور پیغمبر تم پر گواہ بنیں
2. نیکی کا قیام اور بدی کی روک تھام
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ – آل عمران- 110
تم ایک بہترین امت ہو جسے دوسرے سارے انسانوں کے لیئے برپا کیا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو
3. اقامتِ دین
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ شوریٰ-13
اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم کرو
4. اقامتِ عدل و قسط
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ النساء-135
اسلامی اجتماعیت کا مقصد صرف وعظ و تبلیغ نہیں بلکہ ایسا اجتماعی ماحول قائم کرنا بھی ہے جس میں عدل، حقوق اور انصاف عملاً قائم ہوں
5. اہلِ ایمان کی باہمی ولایت اور اجتماعی ذمہ داری
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ-التوبۃ : 71
یہاں مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے اولیاء، معاون اور ذمہ دار ساتھی قرار دیا گیا ہے؛ یعنی اسلامی اجتماعیت باہمی لاتعلقی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خیر اور دینی ذمہ داری میں تعاون کا نام ہے۔
6. شورائیت اور اجتماعی فیصلہ سازی
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ – الشوریٰ: 38
ایک صالح اجتماعیت اپنے معاملات شخصی آمریت یا انفرادی خواہش سے نہیں بلکہ مشاورت، شرکت اور ذمہ دار فیصلہ سازی سے چلاتی ہے۔
7. تمکین کی صورت میں عبادت، عدل اور اجتماعی خیر
الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ – الحج: 41
یہ آیت خاص طور پر بتاتی ہے کہ جب اسلامی اجتماعیت کو اجتماعی قوت یا اقتدار حاصل ہو تو اس کا عملی اظہار نماز، زکوٰۃ، معروف کے قیام اور منکر کی روک تھام کی صورت میں ہونا چاہیے
اسلامی اجتماعیت کے بڑے مقاصد : شہادت علی الناس دعوت الی الخیر اقامتِ دین امر بالمعروف و نہی عن المنکر اقامتِ عدل و قسط وحدتِ امت تعاون علی البر والتقویٰ اصلاحِ باہمی شورائیت نصرتِ مظلوم تواصی بالحق والصبر خالص بندگیِ الٰہی
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر