قصہ نوح علیہ السلام کے اسباق و رموز

حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک اولوالعزم رسول، جنہوں نے  کم و بیش ایک ہزار سال تک  اللہ کی طرف دعوت دینے کا افریضہ سر انجام دیا، قرآنِ کریم کی ۲۹ سورتوں میں آپ کا تذکرہ اور آپ کی زندگی کے مختلف گوشوں کا بیان ہے

آپ کی زندگی ، آپ کی دعوت اور اسلوبِ دعوت،  آپ کی استقامت اور عزیمت  اور آپ سے متعلق بیان کردہ قصص میں ایمان والوں کی  بے شمار اسباق و نصائح موجود ہیں :

  1. دعوت الی اللہ  ایک فریضہ ہے جس کی  ادائیگی کے لیے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے کار لے آنی چاہئیں
  2. یقین و ایمان:  داعی کو اس امر کا یقینِ کامل ہونا چاہیے کہ  جس دعوت کا وہ لے کر اٹھا ہے وہ حق اور سچ ہے، اس پر اس کے یقین میں کوئی تزلزل نہ آنا چاہیے – یہ  یقین اور ایمان  اس دعوت کی مشکلات انگیز کرنے میں مدد گار ہو گا
  3.  صبر و استقامت: اگر لوگ دعوت کو  قبول نہیں کر رہے تو داعی کو مایوس ہو کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ پوری استقامت سے  اپنے حصے کا کام  کرتے رہنا چاہیے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے
  4.  اللہ پر   اعتماد  اور بھروسہ : داعی کو ہر حال میں اللہ سے وابستہ رہنا چاہیے ، اس راستے میں  مادی اور دنیوی سہارے ہمیشہ وجۂ  اطمینان و تسلی نہیں بنتے۔ صرف اللہ کے ساتھ  مضبوط تعلق اور اس پر  اعتماد  داعی کے لیے  قوت اور  وجۂ سکون
  5. بے لوث  دعوت: داعی کسی اجر، صلہ، ستائش، توجہ، محبت، شاباشی اور جاہ و منصب کی طلب سے ماوراء ہو کر دعوت کا کام کرتا ہے ( نوح علیہ السلام اور تمام انبیاء و رسل نے اس بات کو واضح طور پر بتایا بھی اور عملاً کر کے دکھایا بھی)
  6. دعوت ِ حق  کا انکار، ہمیشہ  معاشرے کے  بااثر افراد ( سردار،  مترفین،  اشرافیہ ( Privileged classes –  کیا کرتے ہیں
  7. مشکلات کا سامنا:  حق کی طرف بلانے والوں کو ہمیشہ، ہر دور میں  تحقیر و استہزاء کا سامنا کرنا پڑا ہے ،  ان کا مذاق  اڑایا گیا، ہر طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، یہ دعوت کے راستے کے سنگ ہائے میل ہیں ( داعیان الی اللہ ان سے کبھی نہیں گھبرائے)
  8. قوم کی خیر خواہی :  پیغمبر ( قافلۂ دعوت کے شہہ سوار) اپنی قوم کے انتہائی خیر خواہ ہوتے ہیں ، قوم کی  فلاح کے حریص۔   انبیاء و رُسل کے طریقے پر  ایک داعی کو بھی اپنی قوم کا خیر خواہ ہونا چاہیے
  9. دعوتِ حق پر عمل: ایک داعی  سب سے پہلے اس دعوت پر مِن و عن عمل کرنے والا ہوتا ہے (وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلْمُسْلِمِينَ، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں )
  10. پیغمبروں کی بشری حاجات: پیغمبر بھی انسان ہوتے ہیں اور بشری حاجات سے بالاتر نہیں ہوتے( تمام قوموں نے پیغمبروں سے مافوق البشر  خصوصیات  کے تقاضے کیے جیسے غیب جاننا اور خزانوں  کا مالک ہونا … لیکن تمام  انبیا علیہم السلام نے  ان مطالبات اور ما فوق البشر خصوصیات سے معذوری کا اظہار کیا، سورۃ ہود میں خصوصاً اور دوسرے  مقامات پر بھی اسکا ذکر )
  11. انبیا ء و رسل  کی انسانی سطح پر جدو جہد: اس سے یہ معلوم بھی ہوتا ہے کہ تمام  انبیاء و رُسل نے خالصتاً  انسانی سطح پر  دعوت  کا کام کیا ، اس سلسلے میں ابلاغ و بیان کا ہر اسلوب اپنایا، ایک ایک شخص کے پاس جا کر بھی  اور  اجتماعی طور پر بھی  دعوت دی،اس راستے کی ہر مشکل، ایذاء اور پریشانی کو  صبر اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا ، لوگوں نے مذاق بھی اڑایا،  مارا پیٹا بھی گیا، زخمی بھی ہوئے، شہید بھی کیے گئے (ایک دن میں ۷۰ انبیاء شہید ہوئے – حدیث)، معاشی  اورسماجی مقاطعے  بھی ہوئے، دیس نکالا بھی برداشت کیا، ضعف  اور قوت و  وسائل کی  اس شدید کمی  کا سامنا کیا کہ اپنے رب کے حضور جس کی فریاد کی، لیکن دعوت کے اس عمل  اور اس کے قبول و انکار کرنے میں کہیں خدائی مداخلت نہیں ہوئی ، کہیں فرشتوں نے مداخلت نہیں کہیں، کسی کو زبردستی ایمان قبول نہیں کروایا گیا کہ لوگ جان لیں کہ دعوت  خالصتاً ایک انسانی سطح کا کام ہے اور انبیاء ؑ نے بھی اسی سطح پہ کیا
  12. نرمی کا  اسلوب :قوم کے انکار اور سرکشی  کے باوجود  قوم سے پیار ، محبت  اور نرمی کا برتاؤ۔ دعوت کی طرف راغب کرنے کے لیے بار بار  میری قوم، میری قوم کے الفاظ سے  خطاب ( داعی کو چاہیے کہ اپنے مدعو کو نرم اسلوب میں  اور ایسے القاب سے خطاب کرے جس سے مدعو کو  اپنائیت کا احساس  ہو-
  13. امید کا پیغام:  پیغمبر ،  لوگوں کو زمانۂ جاہیلیت میں  سر انجام پانے والے  افعال قبیح  اور گناہوں پر  اللہ کی بخشش کی امید دلاتا ہے اور لوگوں کو مایوسی اور ناامیدی سے  نجات دلاتا ہے ( داعی بھی  امید اور اللہ کی خوشنودی  کا پیغام  سنائے)
  14. دنیوی زندگی کی ترقی ، تقویٰ اور خدا پرستانہ زندگی کے منافی نہیں۔  نوح علیہ السلام نے قوم کو بتایا کہ اللہ سے استغفار ، قحط سالی کی دوری ، باغوں ، پھلوں، مال و اولا کی کثرت ( مجموعی پیداوار  میں اضافے) کا سبب بنے گی
  15. انسانوں کی گمراہی: اس قرآنی قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی گمراہی ہر زمانے میں بنیادی طور پر ایک ہی طرح کی رہی ہے، اور خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی دعوت بھی ہر عہد اور ہر سرزمین میں یکساں رہی ہے
  16. دعوت کا نقطہ ٔ آغاز: حضرت نوح علیہ السلام اور دیگر تمام انبیاء ورسل کے قصص سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کی ابتداء تو حید سے کی جا ئے ،تو حید کے قائل ہو نے کے بعد   دین کے دوسرے  اجزاء کو بیان کیا جائے
  17. استعانت و مدد: تنگی  ہو یا راحت ، ہر حال میں   مدد و استعانت اور  دعا للہ سے مانگنی چاہیے
  18. اللہ پر ایمان میں کوئی شرکت نہیں: ایک مومن کے دل میں اللہ پر ایمان اور اس کی محبت کے ساتھ غیر اللہ کی محبت جمع نہیں ہوسکتی  (ود ، سواع، یغوث، نسر   وغیرہ کی محبت قومِ نوح کی اللہ کے محبت میں  رکاوٹ  تھی)
  19. داعیین الی اللہ پر اللہ کی نظر خاص: اللہ اپنے اِن مومن بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ، انہیں راستے سجھاتا ہے، ان کی رہنمائی فرماتا ہے  اور انہیں منزل تک پہنچاتا ہے
  20. توکل کے ساتھ تدبیر:  نوح علیہ السلام  نے ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ کیا  لیکن طوفان سے بچنے کے لیے کشتی بنانے کی تدبیر بھی کی ( اللہ کی رہنمائی میں)-  دنیاوی تدابیر اختیار  کرنا   اللہ پر بھروسے کے خلاف نہیں
  21. داعی ، دعوت کا مکلف : داعی کتا ب و سنت کے مطابق پوری محنت کے ساتھ دعوت دینے کے  باوجو د  بھی  اگر مدعو دعوت قبول نہ کرے تو اس میں داعی کا کو ئی قصور نہیں
  22. انسان کے اعمال کی ذمہ داری : ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار  اور جواب دہ ہے، کسی نیک انسان کی رشتہ داری اس کو اس کے اعمال   کی ذمہ داری اور اس کے نتائج سے نہیں بچا  سکتی ( حضرت نوح ؑ کے بیٹے اور بیوی کی مثال…..)
  23. بُری صحبت: نوح علیہ السلام کے بیٹے کی ہلا کت کی وجہ  اس کی ( کافروں کے ساتھ) بری صحبت  (وَلَا تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ)، ہر شخص کو اپنی صحبت پر  نظر  رکھنی چاہیے  اور  دیکھنا چاہیے کہ اس کی محبت اور ہمدردیاں  کسی کے ساتھ  ہیں  (أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ،  تو  اس کے ساتھ  ہو گا  جس سے محبت رکھتا ہے )
  24. دعائے مغفرت:  نوح علیہ السلام کو کافر بیٹے کے لیے  دعا( مغفرت) مانگنے سے  روک دیا گیا ( اور ابراہیم علیہ السلام کو کافر باپ کےلیے  دعا کرنے سے روک دیا گیا)- کافر  رشتہ داروں  کے لیے ہدایت کی دعا تو کی جا سکتی ہے  لیکن مغفرت کی نہیں
  25. راہِ حق پر صبر : نوح علیہ السلام کا صبر قابلِ تقلید۔  بیٹا اپنی آنکھوں کے سامنے غرق ہو گیا مگر آُ نے صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا،  اطاعت و فرمانبرادری  کا نمونہ بنے رہے
  26. اللہ کا امر فیصلہ کن: اللہ کا امر (عذاب) کو دنیا کی کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی اور اس سے کوئی طاقت بچا بھی نہیں سکتی
  27.  اللہ کا اختیار:کافروں پر عذاب نازل کرنا، پیغمبروں کے اختیار میں نہیں ہے۔حضرت نوحؑ کفار کے عذاب طلب کرنے کے جواب میں فرماتے کہ عذاب کا نازل کرنا، خدا کی مشیت کے ساتھ ہے اور اس عذاب سے بچنا ممکن نہیں ہے۔
  28. مشیتِ الٰہی:  نیک لوگوں کے گھر  برے اور برے لوگوں  کے گھر میں  نیک لوگ پیدا ہو سکتے ہیں  ، اس سے نیک  لوگوں کی عصمت  و ایمان پہ کوئی  حرف نہیں آتا
  29. تقاضائے  بشریت : انبیاء علیہم السلام  سے بتقاضائے  بشریت  سہو  ہو سکتا ہے  جیسے نوح  علیہ السلام نے  اپنے بیٹے کے حق میں  دعا  سے ثابت ہے ( اور دیگر انبیاء کرام ؑ  سے بھی ثابت ہے قرآن کریم میں)،  ایسے میں اللہ تعالیٰ  انہیں احساس دلاتا ہے تو وہ فوراً  معافی کے خواستگار ہوتے ہیں  ، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں  جیسے نوح علیہ السلام نے کیا
  30. اللہ  تعالیٰ، انبیاء کی حفاظت اور ان کی خطاؤں اور لغزشوں پر انھیں متوجہ کرنے والا ہے۔
  31. حضرت نوح  علیہ السلام  کی کشتی خاص خصوصیات کی حامل اور صنعتی اعتبار سے بےمثال اور جدید ماڈل کی تھی
  32. مشیت الٰہی، طبیعی اور عادی اسباب کے ذریعہ جاری ہوتی ہے ( طوفان سے بچنے کے لیے  کشتی کی تعمیر)
  33. ہر قسم کے حیوانات میں سے ایک جوڑا ( نر و مادہ ) کو کشتی میں سوار کرنے کا حکم – حیوانات کو نابود ى اور ختم ہونے سے بچانا ضروری ہے(ظاہراً اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہیں تھا کہ نسل حیوانات باقی  رہےاور نابود نہ ہو )
  34. بھروسہ اللہ پر اسباب پر نہیں: کشتی میں سوار ہونے  کے بعد نوح علیہ السلام کی اپنے پیروکاروں کو تاکید کہ طوفان کے حادثے سے نجات کے لیے انھوں نے خدا کی مغفرت اور رحمت پر بھروسہ کرنا ہے  ( یعنی کشتی تو فقط ایک وسیلہ ہے در حقیقت نجات مہیا کرنے کا سبب مغفرت و رحمت الٰہی کا شامل حال ہونا ہے)
  35. کائنات کے اسباب  اللہ کے اختیار میں: پانی کا پہلے برسنا (آسمان سے) اور زمین کا پانی  چھوڑ دینا اور  طوفان کے بعد آسمان کا تھم جانا اور زمین کا پانی کو نگل جانا  – زمین و آسمان اور کائنات ہستی کے تمام اسباب، خدا کے اختیار میں ہیں اور اس کے حکم کو بجالانے کے لیے ہمیشہ مستعد ہیں
  36. اللہ  کا  وعدہ :حضرت نوح  علیہ السلام سے ، کہ زمین پر اترنے کے بعد اللہ کی  رحمتیں  اور اس کی برکتیں  ہوں گی  تمارے ساتھ ، اور نئی  دنیا بسانے کے لیے  اللہ تعالیٰ تمام  اسباب  فراہم کرے  گا
  37. انسانی معاشرے کیلئے امن وامان اور سلامتی کو برقرار رکھنا اور ان کے لیے نعمتوں کو ایجاد کرنا، اللہ کا  اختیار اور اس کی مشیئت
  38. مومن اور کافر انسانوں کی تدبیر اور انسانی معاشروں کے انقلاب اور ان کا انجام، خدا کے ہاتھ اور اختیار میں ہے
  39. اللہ تعالیٰ دنیا میں کافروں کو لمبے عرصہ تک ڈھیل دیتا ہے، لیکن بالآخر ان کو اچانک اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
  40. آپ ﷺ کو رسالت کے پہنچانے میں صبر و بردباری کی تلقین اور مشرکین کے مقابلے میں سینہ سپر رہنے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرنے کا حکم دیتا ہے۔

Check Also

قصہ نوح علیہ السلام

نوح علیہ السلام کا قصہ  قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے، قرآن …