oتورات یا توریت عبرانی زبان کا لفظ (عبرانی تلفظ توراه) انگریزی میں Torah)) ، اس کے معنی تدریس ، تعلیم ، قانون ، شریعت کے ہیں
oحضرت موسیٰ علیہ السلام پہ نازل ہوئی جس کی تصدیق قرآن نے کی
oبائبل کے دو حصے – عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید
o عہد نامہ جدید (New Testament) میں ۲۷ کتابیں ہیں (زیادہ مشہور(۴) متی کی انجیل، مرقس کی انجیل، لوقا کی انجیل اور یوحنا کی انجیل)
oعہد نامہ قدیم(Old Testament) –یہود اور پروٹسٹنٹ کے نزدیک اس مجموعے میں 39 کتابیں ہیں ( کیتھولک کے نزدیک عہدنامہ قدیم میں 46 کتابیں ہیں)
o تورات – عہد نامہ قدیم کی پہلی پانچ کتب کے مجموعہ کو تورات کہتے ہیں اسی حصے کو یہودی الہامی کتاب سمجھتے ہیں (مسلمانوں کے ہاں تورات سے مراد وہ کتاب ہےجس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا اور وہ لوگوں کے لئے سرچشمہء ہدایت تھی)
تورات کی پانچ کتابیں
.1پیدائش (Genesis)- اس کتاب میں آسمان وزمین کی تخلیق سے لے کر حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات تک کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔
.2خروج (Exodus) – اس میں فرعون کی بنی اسرائیل کو ایذا رسانی، موسیٰ علیہ السلام کو نبوت ملنا، فرعون کے سامنے معجزات کا ظہور اور اس کا انکار، فرعون کا لشکریوں سمیت بحر قلزم میں غرق ہونا اور بنی اسرائیل کا صحرائے سینا میں پہنچ جانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کوہ طور پر جانا اور دیگر احکام ِ شریعت ہیں
.3احبار (Leviticus)- اس کتاب میں فقہی احکام ہیں۔
.4 گنتی (Numbers) -بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی تقسیم اور ان کی مردم شماری
.5استثناء (Deuteronomy) -اس کتاب میں وہ احکام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر “موآب” کی سرزمین میں نازل ہوئے۔ آپ کی وفات تک پیش آنے والے واقعات ہیں
oتورات کی زبان – عبرانی (Hebrew)، جو زبانوں کے سامی خاندان سے ہے
oزمانۂ نزول- یہود کے مذہبی حوالہ جات کی رو سے تورات موسیٰ علیہ السلام کو 1312 قبل مسیح میں دی گئی
oمقامِ نزول -تورات موسیٰ علیہ السلام کو صحرائے سیناء کے ایک پہاڑ ” طور” کے اوپر دی گئی
o کیفیت- اللہ کے یہ احکام مٹی کے تختیوں ( الواح) پر لکھے ہوئے دیئے گئے (استثنا 4: 10۔14) اس کی تصدیق قرآن سے – وَکَتَبْنَا لَہُ فِیْ الأَلْوَاحِ مِن کُلِّ شَیْء ٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْء ٍ ۷/۱۴۵
oموسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو حفاظت سے رکھنے کے لیے ایک صندوق بنوایا اور بنی لاوی (قبیلے)کی تحویل میں دیا کہ وہ اس کی حفاظت بھی کریں – (استثناء، باب: 31، آیت: 24،25،26)
oبنی اسرائیل میں تورات کو حفظ کرنے کی کوئی روایت نہ تھی نہ عام آدمی اس کو پڑھ سکتا تھا ، تورات کو ہر ۷ سال بعد اجتماعی طور پر پڑھنے کی موسیٰ علیہ السلام کی وصیت بھی فراموش کر دی
oتورات کی گمشدگی -کئی سو سال کے بعد سلیمان علیہ السلام کے دور ( ۸۳۶ قبل مسیح) میں جب اس صندوق کو کھولا گیا تو (موجودہ تورات کے مطابق) اس میں تورات نہیں تھی-(سلاطین 8۔9)
oساڑھے تین سو سال تک تورات مفقود رہی اور کسی کو معلوم نہیں کہاں ،کس حالت میں تھی
oسلطنت ِ یہودا کے بادشاہ ” یوسیاہ ” کے دور میں ظنی طور پہ یہ خیال کیا گیا کہ ہیکل سے جو ایک کتاب ملی ہے وہ تورات ہے – کیا وہ حقیقی تورات تھی ؟ اس کے بارے میں حقیقی شواہد نہیں
oبخت نصر نے 598 ق م میں یروشلم پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا – اس نے شہر کو تہس نہس کر دیا، ہیکل کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا، سترہزار یہودی قتل ہوئے ،باقی ماندہ یہودی، مرد ،عورتوں ،بچوں کو قیدی بنا کر اپنے ہمراہ عراق لے گیا۔اس حملے اور شدید آتش زدگی میں تورات بھی نذر ِ آتش ہوگئی
oغلامی کے ستر سال کے بعد عذرا کاہن(عزیرؑ )نے اپنی یاداشتوں سے تورات پھر مرتب کی (عزیر کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا “یہ مجھےنہیں معلوم کے آپ نبی تھےیا نہیں؟)ابو داوٴد -4674)
o ۱۹۸ ق م میں انٹیوکس ثالث( شاہ انطاکیہ) نے بھی حملہ کرکے یہودیوں کے ساتھ بخت نصر جیسا سلوک کیا اور خاص طور پر تورات کے نسخوں کو چن چن کر نذرِ آتش کر دیا
oپھر ۷۰ ء میں رومی شہنشاہ ٹائٹس بھی اللہ کا نشتر بن کر اس قوم پہ برسا
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر