واقعہ اِفک (تہمت کا عمومی قرآنی اصول)،قذف اور ہتک عزت کا قانون

 

تہمت، ہتکِ عزت اور قذف میں فرق

  • تہمت / بہتان(False allegation / Calumny): کسی پر بے بنیاد الزام لگانا، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا ہو
  • ہتکِ عزت(Defamation): ایسی بات کہنا یا شائع کرنا جس سے کسی کی ساکھ، عزت یا reputation کو نقصان پہنچے
  • زبانی ہتکِ عزت(Slander): بول کر کسی کی بدنامی کرنا
  • تحریری/اشاعتی ہتکِ عزت(Libel): لکھ کر، چھاپ کر، پوسٹ کر کے یا online کسی کی بدنامی کرنا
  • قذف(Qadhf / False accusation of zina): کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کا صریح الزام لگانا، مگر شرعی ثبوت نہ دینا – اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں کردار کشی، جنسی الزام تراشی، بدگمانی اور عزتوں سے کھیلنے کا دروازہ بند کیا جائے
  • اشاعۃ الفاحشہ(Spreading indecency / Publicizing immorality): بےحیائی، بدکاری، فحش باتوں یا عزتوں سے متعلق اسکینڈلز کو معاشرے میں پھیلانا

قذف اور ہتک عزت کا  قانون

  • PPC Sections 499–500PPC: پاکستان پینل کوڈ(Pakistan Penal Code – PPC) جسے اردو میں “تعزیراتِ پاکستان” کہا جاتا ہے، میں defamation کو جرم کے طور پر لیا گیا ہے؛ Section 499 تعریف سے متعلق ہے، اور Section 500 سزا سے متعلق ہے۔ Section 500 کے تحت سزا دو سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں
  • Defamation Ordinance 2002: اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی ہتک عزت (جھوٹے الزام، توہین، یا بدنام کرنے والے بیان) کا مرتکب ہوتا ہے، تو اس پر جرمانہ (جیل یا تعزیرات پاکستان کے تحت مجرمانہ کارروائی) کے ساتھ ساتھ دیوانی ہرجانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
  • PECA 2016 — Online Defamation / Cyber Defamation: پیکا(PECA) ایکٹ کے تحت، کسی بھی فرد کی وقار یا پرائیویسی کو نقصان پہنچانے والی آن لائن معلومات کو جرم قرار دیا گیا ہے، جس کی سزا قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے۔ یہ دفعہ بنیادی طور پر آن لائن ہتکِ عزت یا وقار مجروح کرنے والے مواد کے انسداد کے لیے استعمال ہوتی ہے
  • Offence of Qazf (Enforcement of Hadd) Ordinance, 1979 : ء1979 کا آرڈیننس پاکستان میں قذف (جھوٹی تہمت زنا) کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کے لیے حد (80 کوڑے) اور تعزیر (قید اور کوڑے) کی سزاؤں کا قانونی اصول فراہم کرتا ہے، اور 2006 میں اس میں ترامیم کی گئیں
  • بہت سے اسلامی ممالک میں ہتکِ عزت، تہمت، بدنامی، کسی کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانا، اور آن لائن کردار کشی کو صرف اخلاقی یا دیوانی معاملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے بعض صورتوں میں فوجداری جرم بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد فرد کی عزت، ساکھ، نجی زندگی اور سماجی وقار کا تحفظ ہے۔
  • قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک میں ایسے قوانین موجود ہیں جو زبانی، تحریری یا آن لائن بدنامی، جھوٹے الزام، افواہ، privacy violation اور reputation damage کو قابلِ گرفت بناتے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کسی کی عزت مجروح کرنا سنگین قانونی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
  • اسلامی قانونی رجحان کی بنیاد یہ ہے کہ معاشرے میں عزتوں کا تحفظ، بدگمانی اور الزام تراشی کی روک تھام، اور اخلاقی امن قائم رکھنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے ایسے اعمال کو صرف شخصی آزادی یا معمولی گفتگو نہیں سمجھا جاتا، بلکہ فرد، خاندان اور اجتماعی اخلاق کے خلاف نقصان دہ عمل تصور کیا جاتا ہے۔

Check Also

غزوہ بنی مصطلق

  یہ غزوہ قبیلہ بنی مُصْطَلِق کے خلاف تھا، جو قبیلہ خُزاعہ کی ایک شاخ …