- اس کا مادہ ح ق ق ہے ، حَقَّ يحِقّ ، حَقًّا و حَقّةً و حُقُوقًا – مطابق ہونا ، ہم آہنگ ہونا ۔کسی چیز کا اس طرح موجود ہونا، واقع ہو جانا اور ثابت ہو جانا کہ اس کے واقع ہونے پر اس کے وجود سے انکار نہ کیا جا سکے
- قرآن مجید میں لفظ حَقّ 247مرتبہ اسم کی شکل (Nominal form) میں اور 40مرتبہ مشتقات (Derived form) میں استعمال ہوا
- باری تعالیٰ کا ایک نام الحق ہے، ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ – یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (22:6) اللہ کی ذات حق ہے اس لیےکہ اس کی ذاتِ مقدس عظیم ترین واقعیت ہے کہ جو قابل انکار نہیں
- سچ، ٹھیک اور صحیح کے معنی میں(صدق اور صواب کے معنی میں) ان معانی میں یہ باطل کی ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، جیسے قول حق ( سچی بات)، وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ اور کافروں پر بات پوری ہوجائے (36:70)، أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ – یہ رسول بر حق ہیں (3:86)، أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ- جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے (34:6)، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ- وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا (9:33)، کائنات حق کے ساتھ پیدا کی گئی (خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ) 16:3
- واجب حصہ کے معنی میں، حق جس کی جمع حقوق آتی ہے ، حقوق العباد، حقوق اللہ، حق الجار……(استحقاق Rights – کے معنی میں)- یعنی وہ ذہ داری جو کسی پر عائد ہوتی ہے ( حقوق و فرائض کے حوالے سے)
- حق – حصے اور نصیب کے معنی میں بھی آتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ اور ان کے مال میں حق تھا مانگنے والے اور محروم ( نہ مانگنے والے )(دونوں) کا (51:19)، وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ
- حق کا اطلاق اس چیز پر بھی جو واقعی ہو یعنی محض وہمی اور خیالی نہ ہو (اس کے برعکس جو چیز حقیتاً موجود نہ ہو اور محض سراب کی مانند نظر آرہی ہو، اسے باطل کہا جائے گا)
- حق کا اطلاق اس چیز پر بھی جوعقل کے نزدیک مسلم ہو یعنی عقلاً ثابت ہو یا اخلاقاً واجب ہو- فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗبعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی ہے (7:30) أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ… بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ہے… (39:19)
- حق کا اطلاق یقینی اور حقیقی چیز کے لیے بھی ( ظنّ اور گمان کے مقابلے میں ) إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ بے شک ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا – (10:36)
- وہ شئے بھی حق کہلائے گی جو جس میں کوئی مقصدیت پائی جائے
- حق کے ایک معنی’ لازم‘ کے بھی- اس لحاظ سے یہ واجب اور جائز کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلَهَ غَيْرك» (مُتفق علیه)
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں جب نبی ﷺ تہجد پڑھتے تو (اللہ اکبر کہنے کے بعد) یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے انہیں تو ہی قائم رکھنے والا ہے ، ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے ، زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کا تو ہی نور ہے ، ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اس کا تو ہی مالک ہے ، ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے تو حق ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری ملاقات حق ہے ، تیری بات حق ہے ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، تمام انبیا علیہم السلام حق ہیں ، محمد (ﷺ) حق ہیں ، اور قیامت حق ہے ، اے اللہ ! میں تیرے سامنے جھک گیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تجھ پر توکل کیا ، تیری طرف رجوع کیا ، میں نے تیری ہی توفیق سے جھگڑا کیا ، میں نے تجھے ہی اپنا حاکم تصور کیا ، پس تو میرے اگلے پچھلے ، ظاہر و پوشیدہ اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے وہ سارے گناہ معاف فرما دے ، تو ہی ترقی اور تنزلی دینے والا ہے ، صرف تو ہی معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر