•آدمؑ پہلے انسان تھے(ایک مکمل اور مہذب انسان)۔آپ کی تخلیق کسی ارتقائی عمل کے نتیجے میں نہیں بلکہ مٹی سے براہِ راست کی گئی تھی
•انسان ایک ارجمند ، ، مسجودِ ملائک اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار صفات اور صلاحیتیں دی گئی مخلوق ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس میں اختیاری طور پر عملی اورعلمی ترقی کی لامحدود صلاحیت رکھی جو کسی اور مخلوق میں نہیں
•اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے آدم کوتمام فرشتوں اور دیگر مخلوقات پر فضیلت بخشی تاکہ وہ خلافتِ ارضی کی ذمہ داری کو اچھی طرح نبا سکے
•اللہ تعالیٰ کے حکم کا انکار ذلت و رسوائی کا باعث
•اللہ تعالیٰ کا حکم سب سے اہم چیز ہے اور اس کا پورا کرنا، حکم کی حکمت ، وجہ اور جواز کا حکم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں
•ابلیس، ایک متکبّر، قوم پرست، اور اللہ تعالیٰ کے مقابل ایک گستاخ مخلوق ہے
•اللہ سے رجوع کرنا اسکی التفات کا باعث بنتا ہے
•حسد ایک بری بیماری ہے اور نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے
•عاجزی آدمؑ اور تکبر ابلیس کے نمائندہ اوصاف ہیں
•تکبر اور اپنے آپ کو برتر جاننا اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے اور یہ اللہ کی نافرمانی و عصیان کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
•ابلیس کی ذلت و پستی اور تکبر اس کے بلند وبالا مقام و منزلت سے زوال کا باعث بنا
•اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور تکبر کرنا، عصیان و نافرمانی کرنے اور معنوی زوال کا باعث ہے
•انسان کا مشن اللہ کا خلیفہ ہونا اور اسکے بتائے راستے پر چلنا ہے
•شیطان کا مشن انسان کو اپنی منزل سے بھٹکانا اور جنت سے دور کرنا
•شیطانی حربہ – برائی کی ترغیب دینا ، برائی کو اختیار کرنا انسان کا اپنا فعل
•ابلیس، اللہ کے بتائے ہوئے راستے (صراط الٰہی )کے مستقیم ہونے کا معترف اور معتقد تھا
•تمام انسان، اپنی پہلی فطرت کے مطابق، صراط مستقیم الٰہی پر چلنے والے ہیں
•انسان ہر طرف (آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں) سے ابلیس کی سازشوں کی زد میں ہے۔
•بنی آدم میں سے اکثر لوگ، ابلیس کے دھوکے اور فریب کے جال میں گرفتار ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا نہیں لاتے
•ابلیس کا تکبّر، نافرمانی اور (دوسروں کو) بہکانا اور گمراہ کرنا، اس کے دوزخ کی آگ میں گرفتار ہونے کا باعث ہے
• جہنم، ابلیس اور اس کے گروہ میں شامل ابلیسی پیروکاروں سے بھری پڑی ہوگی
•ابلیس نے آدم و حوا علیما السلام کو ورغلانے کے لیے جھوٹ اور مکر و فریب سے کام لیا
•دوسروں کو فریب دینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا، ایک شیطانی طریقہ ہے۔
•جھوٹ ، شیطانی حربوں میں سے سب سے اہم ہتھیار
•شیطان ، انسانی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اسے ورغلاتا ہے
•محرمات الٰہی کا ارتکاب انسان کی ذلت و رسوائی کا سبب بن سکتا ہے ( آدم و حوا کا ستروں کا کھل جانا ، ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب کے بعد )
•انسان کو بے لباس کرنا ، شرم و حیا کو ختم کرنا ، حیا باختہ کلچر کو فروغ دینا شیطانی مشن ہے
•انسان، بہکاوے میں آنے والی مخلوق ہے
•انسان فطرتاً اپنی شرمگاہ کے عیاں ہونے سے شرم و حیا رکھتا ہے۔
•اللہ تعالیٰ کے اوامر، نواہی ، محرمات، تنبیہات اور سرزنشیں ہمیشہ انسانوں کی تربیت اور رُشد کے لیے ہوتی ہیں
•صراط مستقیم پر چلتے وقت راہ خدا کے دشمنوں کی پہچان کرنے کی ضرورت
•شیطان نے آدم و حوا ( علیہما اسلام) دونوں کو ورغلایا ( نہ کہ صرف حضرت حوا کو جیسا کی بائبل میں ہے اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے)
• اللہ تعالی ٰاتمام حجت کئے بغیر، گناہ گار بندوں کی سرزنش نہیں کرے گا ( آدم و حوا علیہما السلام کو پہلے خبردار کیا کہ اس درخت کے قریب نہیں جانا)
•لغزش ، گناہ، اور خطا کا اعتراف اس کی بخشش کے سلسلے کا پہلا قدم
•گناہ گار ہونے کے باوجود اللہ کی مغفرت اور رحمت کا امیدوار ہونا ، بخشش کے اسباب میں سے
•بارگاہ خدا میں تذ لل و عبودیت کا اظہار اور اپنی خطا کا اعتراف کرنا، آداب استغفار میں سے ہے۔
•پروردگار کی نافرمانی اور عصیان، انسان کے خسارے کا باعث بنتا ہے۔
• گناہوں کے خسارے سے گناہ گاروں کی نجات کا سب سے بڑا سبب، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت ہے
•زمین، وقتی طور پر انسانوں اور شیاطین کی جائے سکونت اور اقامت گاہ ہے
•زمین وقتی اور نامعلوم مدت تک انسانی معیشت اور زندگی کے وسائل کی حامل رہے گی
• وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” اور اگر تمہیں کوئی وسوسہ شیطانی لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ مانگو بے شک وہ خوب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے [الاعراف: 200]
•فَاِذَا قَرَأتَ القُراٰنَ فَاستَعِذ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ- جب آپ قرآن کي تلاوت کرنے لگيں تو شيطان مردود سے اللہ تعالى کي پناہ مانگ ليا کرو – [النحل: ٩٨]
• معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) شیطان کے شر سے محفوظ رکھنے میں بہت کار گر۔ آپﷺ نے فرمایا ” فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا ” پکڑنے والوں نے اس جیسی پناہ نہیں پکڑی [رواه أبو داؤد]دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا “تَكْفِيكَ من كلِّ شيءٍ” [مشكاة المصابيح] پڑھنے والے کو یہ ہر چیز کے شر سے کافی ہیں
• ان دونوں سورتوں کا سوتے وقت ایک بار پڑھنا ثابت ہے ، ایک قول میں تین بار پڑھنا ہے ، اس طرح فرض نمازوں کے بعد ایک ایک بار پڑھنا اور صبح و شام سورۃ اخلاص سمیت تین تین بار پڑھنا ثابت ہے ۔
•عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه – قَالَ، قَالَ: النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ- جو شخص رات میں سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھتا ہے تو اس کے لئے وہ کافی ہیں [رواه البخارى] ترمذی کی روایت میں یہ بھی فرمایا کہ “……. وَلَا يُقْرَأَانِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ ” اگر یہ آیتیں کسی گھر میں تین رات تک پڑھی جائیں تو شیطان اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا
•نبی کریم ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے ” أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ” میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو عظمت والا ہے، اس کی کریم ذات اور اس کی لازوال سلطنت کا واسطہ دے کر ، شیطان مردود سے۔ (جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا) – [رواه أبو داؤد]
•أَعُوذُ بِاَللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ – اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو ہر آواز کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے،مردود شیطان کے شر سے اس کے خطرے سےاس کی پھونکوں سے اور اس کے وسوسے سے – [رواه أبو داؤد] یہ دعا آپ ﷺنماز میں فاتحہ سے پہلے پڑھتے تھے(اس کے علاوہ ہر وقت پڑھی جا سکتی ہے )
• اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ – اے اللہ میں تجھ سے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [رواه أبو داؤد]
•بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَنْ یَحْضُرُوْنِ – میں اﷲ کے کلمات کاملہ کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں اسکے غضب، عقاب اور اسکے بندوں کے شر سے، اور میں پناہ مانگتا ہوں شیطان کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں [رواه احمد و أبو داؤد]
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر