قوانین کی اقسام – فقہی و قانونی اصطلاحات

 

 

  1. فوجداری قانون: وہ قانون جو جرائم اور ان کی سزاؤں سے متعلق ہو۔مثلاً: قتل، چوری، زنا، قذف، فساد، بدامنی وغیرہ
  2. دیوانی قانون: وہ قانون جو افراد کے باہمی حقوق، معاملات، دعووں اور مالی/جائیدادی تنازعات سے متعلق ہو۔مثلاً: قرض، معاہدہ، جائیداد، نقصان کا دعویٰ، وراثتی تنازع وغیرہ
  3. عائلی قانون:خاندان اور گھریلو رشتوں سے متعلق قانون۔مثلاً: نکاح، طلاق، خلع، نفقہ، حضانت، وراثت، محارم وغیرہ
  4. دستوری / آئینی قانون: ریاست کے بنیادی نظام، حکومت کے اختیارات، شہری حقوق اور اداروں کے تعلق سے متعلق قانون۔مثلاً: حکومت کیسے بنے گی، عدالتوں کے اختیارات، شہری حقوق وغیرہ۔
  5. انتظامی قانون: حکومتی اداروں، محکموں، انتظامیہ اور سرکاری اختیارات کے استعمال سے متعلق قانون۔مثلاً: لائسنس، سرکاری فیصلے، ادارہ جاتی ضوابط، اپیل کا حق وغیرہ
  6. مالی / تجارتی قانون: خرید و فروخت، تجارت، کمپنی، بینکاری، معاہدات اور کاروباری معاملات سے متعلق قانون۔مثلاً: تجارت، قرض، رہن، ضمانت، شراکت، کمپنی قوانین وغیرہ
  7. بین الاقوامی قانون: ریاستوں، اقوام، معاہدات، جنگ و امن اور عالمی تعلقات سے متعلق قانون۔مثلاً: سفارتی تعلقات، جنگی قوانین، معاہدات، انسانی حقوق وغیرہ۔

٭ سورۃ النور میں فوجداری قانون جرائم اور سزاؤں سے متعلق ہے، دیوانی قانون حقوق و معاملات سے، عائلی قانون خاندان سے، اور دستوری/انتظامی قانون ریاستی نظم سے متعلق کا ذکر ہے

سورۃ  النور  (آیات 1-10) – فقہی و قانونی اصطلاحات

حَدّ:

وہ مقررہ شرعی سزا جو اللہ تعالیٰ نے بعض مخصوص جرائم کے لیے متعین فرمائی ہو۔ زنا اور قذف جیسے جرائم پر مقررہ            سزائیں حدود میں شامل ہیں۔ حد کا نفاذ ذاتی انتقام نہیں بلکہ عدالتی و ریاستی اختیار ہے۔

جَلْدَة:

اللہ کا دین، جس میں عبادات کے ساتھ قانون، حدود، عدل، اخلاق اور اجتماعی نظام بھی شامل ہیں۔یہاں                  فوجداری قانون کو دین اللہ کہا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت میں قانون بھی دین کا حصہ ہے

رَمْي:

لغوی معنی: پھینکنا-قانونی سیاق میں کسی پر زنا کا الزام پھینکنا

قَذْف:

کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی صریح تہمت لگانا، یا اسے ولد الزنا کہنا، مگر چار گواہ پیش نہ کرنا۔

حد قذف:

جب کوئی شخص کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور شرعی گواہی کے چار گواہ پیش نہ کر سکے، تو اس پر حد قذف (اسی کوڑے) واجب ہوتی ہے، اور اس کی شہادت کبھی قبول نہیں ہوتی۔

قَاذِف:

وہ شخص جو کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے

مَقْذُوف:

وہ شخص جس پر زنا کی تہمت لگائی گئی ہو۔

مُحْصَنَات:

پاک دامن، عفیف اور باعزت عورتیں۔

شَهَادَة:

عدالت میں کسی واقعہ کے بارے میں معتبر گواہی دینا۔ ۔

نِصَابِ شَهَادَت:

کسی جرم یا دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ گواہوں کی مقررہ تعداد اور معیار(زنا کے ثبوت کا   نصاب چار گواہ ہے)

رَدُّ الشَّهَادَة:

کسی شخص کی گواہی کو شرعاً ناقابلِ قبول قرار دینا

فِسْق:

اللہ کی اطاعت سے نکل جانا اور کھلی نافرمانی کا مرتکب ہونا۔

فَاسِق:

وہ شخص جو شرعی حدود کی خلاف ورزی کرے اور نافرمانی کا مرتکب ہو۔ قذف کرنے والے کو قرآن نے فاسق کہا، کیونکہ اس نے پاک دامن انسان کی عزت پر بے بنیاد حملہ کیا۔

لِعَان:

وہ خاص شرعی طریقہ جس میں شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر چار گواہ نہ ہوں، تو دونوں عدالت میں اللہ کی      قسموں کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔لعان عام قذف سے الگ ایک خاص ازدواجی قانونی طریقہ ہے

یہ فقہی و قانونی اصطلاحات – فوجداری احکامات، عائلی احکام، معاشرتی آداب،  اخلاقی جرائم،  معاشی و سماجی احکام ، ریاستی و اجتماعی نظم، اور روحانی و تربیتی اصطلاحات پر مشتمل ہیں

Check Also

ہلاک کرنا/ہلاک ہونا کے لیے قرآن میں آئے 13 الفاظ

هَلَكَ:فنا ہونا  ( جاندار اور بے جان سب کے لیے) – كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا …