کشتی کے لیے قرآن میں مستعمل الفاظ (۳)

  1. جارية – جرَى يَجرِي بمعنی چلنا  اور بہنا ۔ ہوا کی  طرح چلنے والی چیزوں کے لیے بھی،  اسی مناسبت سے  کشتی  جاريةکو  کہا جاتا – اس سے  مراد بادبانی کشتی ہے جو  ہوا اور پانی کے  رخ اور بہاؤ کی مناسبت سے چلتی ہے         وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ  – اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں (55:24 )
  2. سَفِيْنَةُ  – سَفَنَ يَسْفُنُ بمعنی چھیلنا ، نرم بنانا۔     سَفَینبمعنی  لکڑی پھاڑنے کی کیل، اوزار یا پھانہ۔ سَفَانَه جہاز سازی کا پیشہ ۔    سَفِيْنَة بمعنی  جہاز یا کشتی  – ایسی کشتی جو  تراش خراش کر ہموار اور  آرام دہ بنائی گئی ہو              أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ  – وہ کشتہ  چند غیرب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے  (18:79)
  3. فُلْك  – فُلْكکا لفظ   کسی چیز کے گول ہو نے، چکر  کھانے اور گھومنے پر دلالت کرتا ہے
    • فَلْك – دریا/سمندر کے بھنور کے لیے  – فَلَكسیاروں/ستاروں کا مدار (دونوں میں گھومنے کا تصور)
    • چکر لگاتے رہنے کی نسبت  سےکشتی کو فُلْك کہتے  ہیں  – ایسی کشتی کو  مسافروں کے علاوہ  باربرداری کا کام بھی  دے    وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ‎﴿١٣٩﴾‏ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ‎﴿١٤٠﴾ اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا، جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا

Check Also

قوانین کی اقسام – فقہی و قانونی اصطلاحات

    فوجداری قانون: وہ قانون جو جرائم اور ان کی سزاؤں سے متعلق ہو۔مثلاً: …