- جارية – جرَى يَجرِي بمعنی چلنا اور بہنا ۔ ہوا کی طرح چلنے والی چیزوں کے لیے بھی، اسی مناسبت سے کشتی جاريةکو کہا جاتا – اس سے مراد بادبانی کشتی ہے جو ہوا اور پانی کے رخ اور بہاؤ کی مناسبت سے چلتی ہے وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ – اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں (55:24 )
- سَفِيْنَةُ – سَفَنَ يَسْفُنُ بمعنی چھیلنا ، نرم بنانا۔ سَفَینبمعنی لکڑی پھاڑنے کی کیل، اوزار یا پھانہ۔ سَفَانَه جہاز سازی کا پیشہ ۔ سَفِيْنَة بمعنی جہاز یا کشتی – ایسی کشتی جو تراش خراش کر ہموار اور آرام دہ بنائی گئی ہو أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ – وہ کشتہ چند غیرب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے (18:79)
- فُلْك – فُلْكکا لفظ کسی چیز کے گول ہو نے، چکر کھانے اور گھومنے پر دلالت کرتا ہے
- فَلْك – دریا/سمندر کے بھنور کے لیے – فَلَك– سیاروں/ستاروں کا مدار (دونوں میں گھومنے کا تصور)
- چکر لگاتے رہنے کی نسبت سےکشتی کو فُلْك کہتے ہیں – ایسی کشتی کو مسافروں کے علاوہ باربرداری کا کام بھی دے وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ﴿١٣٩﴾ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ﴿١٤٠﴾ اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا، جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا
Check Also
قوانین کی اقسام – فقہی و قانونی اصطلاحات
فوجداری قانون: وہ قانون جو جرائم اور ان کی سزاؤں سے متعلق ہو۔مثلاً: …
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر