- هَلَكَ:فنا ہونا ( جاندار اور بے جان سب کے لیے) –
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ
، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے – [28:88]، اَهلَكَ: کسی دوسری چیز کو تباہ کرنا ،
أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں [6:6]
- بَادَ: اَلْبَیْدَاء – لق و دق صحرا / بیابان۔ بَادَ بمعنی کسی کھیت کا جڑ کر بیابان ہو جانا ، مکمل طور پر تباہ ہو جانا، اجڑنا۔ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا کہنے لگا “میں نہیں سمجھتا کہ یہ (باغ) کبھی فنا ہو گا [18:35]
- تَرَدّٰی : رَدٰی بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پر دے مارنا ، یا زمین سے کسی گڑھے میں پٹخ دینا کہ وہ ہلاک ہونے کو پہنچ جائے۔ فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَن لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَىٰ ، پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا [20:16]، اَرْدٰی (متعدی) اسی طریق سے کسی دوسرے کو ہلاک کرنا فَتَرْدَىٰ ، پس کوئی
- بَخَعَ:غم یا غصے سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالنا، گھل گھل کرہلاک ہو جانا ۔ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ ﻻئیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے [18:6]
- دَمَّرَ: کسی چیز پر دفعتاً ہلاکت/تباہی لاڈالنا۔ فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا …تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں [17:16]
- دَمْدَمَ: کسی چیز کو زمین سے چپکا دینا، ملیا میٹ کر دینا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا، آخرکار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیا [91:14]
- تَبَّب: تَبَّ ، بدعائیہ کلمہ ہے، لغوہ معنی، کٹنا، ٹوٹنا، ہلاک ہونا۔ تَبَّب میں لفظی تکرار سے تکرارِ معنی مراد ہے یعنی مسلسل تباہی وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ ان کے جھوٹے معبود ان کی مسلسل تباہی میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے[11:101]
- بَارَ ( بُوْر/بَوَار ): کسی فروختنی مال کا سخت مندا پڑنا اور ہلاکت کے قریب پہنچنا۔ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی [35:29]
- اَسْحَتَ : سُحْت بمعنی رشوت، حرام کی کمائی۔ : اسْحَتَ مال کا تباہ ہونا ، مفلوک الحال ہونے کی وجہ سے تباہی۔ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍ ۖ اللہ پر جھوٹ افترا نہ کرو ورنہ وہ تمہیں تباہ کر دے گا [20:61]
- اَوْبَقَ: وَبَقَ بمعنی ہلاک ہونا، مَوْبِق ہلاکت کی جگہ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کا گڑھا بنا دیں گے [18:52]
- تَبَّرَ : غارت کرنا، تہس نہس کرنا، نیست و نابود کرنا۔ تَبَار یعنی ہلاکت، تباہی۔ وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ ۖ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا [25:39]
- .12قَصَمَ: پیس ڈالنا، توڑ مروڑ کر اور ریزہ رہزہ کر کے تباہ کر دینا۔ وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دُوسری کسی قوم کو اُٹھایا [21:11]
- فَنیٰ: فَنا ، بَقَا کی ضد ہے ۔ اپنا وجود کھو دینا ، کچھ باقی نہ رہنا۔ یہ صرف ہلاکت تک محدود نہیں، اس میں سرے سے کسی وجود کا ختم ہو جانا شامل ہے۔ “فنا” کا مفہوم “ہلاکت” کو بھی اپنے اندر شامل کر لیتا ہے، مگر اس سے کہیں وسیع تر ہے (الفناء أعمّ من الهلاك)كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے [55:26]
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر