کون سے نام رکھنے چاہیے؟
- “نام ” کسی بھی چیز کے لیے ایک تعارفی علامت ہے جس کی اہمیت فطری بھی ہے اور معاشرتی بھی
- اسلام نے نام رکھنے کی اہمیت اور خصوصیت کی جانب خاص توجہ دلائی ہے
- حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
مَنْ وُلِدَ لَه وَلَدٌ فَلْیُحْسِنِ اسْمَه وَ أَدَّبَه
جس کا کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کا خوب صورت نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے (بیهقی:۸۱۴۵)
- اسلام نے صرف خوب صورت ناموں کو جائز ہی نہیں کہا؛ بلکہ خوب صورت نام رکھنے کی ترغیب بھی دی اور ساتھ ساتھ اس کا رشتہ آخرت کے ساتھ بھی جوڑ دیا
-
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ، وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ رواه أبو داود
تم کو روز ِ قیامت تمہارے اور تمہارے آباء کے ناموں سے پکارا جائے گا؛ اس لیے نام اچھے رکھو
- اللہ تعالٰیٰ کے مبارک اور بے عیب ناموں( اسمائے حسنیٰ) کے ساتھ ‘عبد’ لگا کر کوئی بھی نام رکھا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی کے وہ نام جو قرآن یا صحیح احادیث سے ثابت نہیں ان میں سے بعض کو بغیرعبد رکھا جا سکتا ہے۔(اذا سَمَّیْتُمْ فَعَبِّدُوْا یعنی جب نام رکھو تو اس میں اللہ تعالی کے ساتھ اپنی بندگی کا اظہار کرو “یعنی اللہ تعالی کے ذاتی یا صفاتی نام کے شروع میں لفظ “ عبد” کا اضافہ کرکے نام رکھو- طبرانی)
- مشہور و معروف فقیہ و محقق ابن عابدین نے لکھا ہے کہ ” سب سے افضل نام محمد ہے ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے لیے سب سے اچھے نا م کا انتخاب فرمایا”
- نبیوں کے ناموں پر نام رکھے جا سکتے ہیں (تَسَمَّوا بِأسْماءِ الأنبياء – أبو داود )
- صحابی یا صحابیہ رضی اللہ عنہم ، اور صالحینِ امت کے نام پر نام رکھا جا سکتے ہیں ( جن میں کوئی عیب نہ ہو)
- ان کے علاوہ کوئی بھی اچھا نام جو اسلامی ہو یعنی اس کے معنی اچھے ہوں اور جس سے یہ واضح اظہار ہو کے یہ فرد مسلمان ہے رکھا جا سکتا ہے
- نبی اکرم ﷺنے ایسے ناموں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے جو اسلامی شخصیت و وقار میں ایک داغ کی حیثیت رکھتے ہوں۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ برُے نام بدل دیتے تھے۔ (جامع ترمذی)
کون سے نام نھی رکھنے چاہیے؟
- اللہ تعالٰی کے اسمائے حسنیٰ کو بغیر عبد کے سابقے کے نہیں رکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر احد، رحٰمن، باسط ۔ اور نہ ہی پکارنا چاہیے(عبدالرحمن، عبد الخالق، عبد القدوس کو رحمٰن، خالق اور قدوس پکارنا غلط ہے)
- کسی بھی غیر اللہ کے ساتھ عبد یا غلام لگا کر نام لکھنا جیسے عبد النبی، عبدالرسول، غلام نبی، غلام رسول، غلام علی، عبدالمطلب، اور اسی طرح کے دیگر نام۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہر انسان صرف اور صرف اللہ کا بندہ اور اللہ کا ہی غلام ہے۔
- ایسے نام بھی نہیں رکھنے چاہیں جن سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی عطا ہے جیسے حسین بخش، پیر بخش، غوث بخش، پیراں دتہ، عطا حسین(حسین کا عطا کردہ)، عنایت حسین(حسین کا عنایت کردہ) وغیر
- بے معنی نام، ہمارے معاشرے میں عام ہیں، ایسے نام رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے جیسے رحیم اللہ ﴿اللہ کا رحم کرنے والا﴾، رحیم الدین ﴿دین کا رحم کرنے والا﴾، اسلام الدین ﴿دین کا اسلام﴾
- ایسے نام بھی نہیں رکھنا چاہیں جن کے معانی صحیح نہ ہوں یا اسلامی نقطۂ نظر سے متصادم ہوں ، جیسے عابد علی( علی کا عبادت کرنے والا)، سجاد حسین ( حسین کا سجدہ کرنے والا)، اور ساجد علی کے بھی یہی معنی
- رسول اللہ ﷺنے ایسے نام رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے جن کا مطلب بہت زیادہ پاک، متقی یا بہت دیندار نکلتا ہو۔ یعنی اپنے آپ ہی اپنی پاک دامنی کی تعریف کرنا۔ بخاری کے مطابق رسول اللہﷺنے اپنی زوجہ ‘برہ’ (پاک دامن، پارسا، نیکی، بھلائی) کا نام بدل کر “زینب” رضی اللہ تعالٰی عنہ رکھ دیا تھا۔ اسی طرح حضرت جویریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام بھی پہلے ‘برہ’ تھا جو نبی اکرمﷺنے تبدیل فرما دیا تھا۔ رسول ﷺکو اس طرح کہنا نا پسند تھا کہ جیسے “پاک دامنی یا پارسائی یا بھلائی، یا نیکی چلی گئی”۔
- کفار کے نام پر نام رکھنا جیسے فرعون، شداد، کرشنا، رام اور ایسا کوئی نام جسے کفار نے دیا ہو یا کفر کی علامت ہوں
- ملائکہ کے ناموں پر بھی نام رکھنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ یعنی جبرائیل، میکائیل، اسرافیل۔
- ایسے ناموں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جن سے بدشگونی اور نحوست والے معانی ظاہر ہوتے ہوں
- قرآن کی کسی سورة پر بھی نام رکھنے کو نا پسند کیا گیا ہے (امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق ایسا کرنے کی سند کسی بھی صحیح حدیث، حسن حدیث، یا مرسل یا کسی بھی صحابی کی روایت سے ثابت نہیں)
- عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ- رواه ابن أبي داود
رسول اللہ ﷺکا ارشاد مبارک ہے کہ نبیوں کے ناموں پر اپنے نام رکھو اور ناموں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عبداللہ و عبدالرحمن ہے اور سب سے زیادہ سچا نام حارث (کسب کرنے والا) اور ھمام (ارادہ کرنے والا) ہے اور سب سے برا نام حرب (جنگ) اور مرہ (کڑوا) ہے۔
- حضرت مسروق تابعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ میں نے کہا کہ میں مسروق بن الاجدع ہوں حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ اجدع شیطان کا نام ہے۔ (رواه ابن أبي داود ) اور اس کا معنی بھی خراب ہے کیونکہ جس کے نام کان کٹے ہوں عربی میں اس کو اجدع کہا جاتا ہے۔
- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ ( گناہ گار) تھا، تو رسول اللہ ﷺنے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔ [ مسلم، کتاب الآداب)
- سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے برا نام یہ ہے کہ کسی کو ’ملک الاملاک ‘ یعنی شہنشاہ کہا جائے۔ ” [ بخاری، کتاب الأدب- مسلم، کتاب الآداب ]
- بعض لوگ بچے کا نام تجویز کرتے وقت قرآن مجید سے نام کے حروف نکال کر اور بچے کے نام کے حروف کے اعداد اور تاریخ پیدائش کے اعداد کو آپس میں ملا کر نام رکھتے ہیں ( یہ بے اصل بات ہے جس میں قرآن کے الفاظ کو علم الاعداد کے ساتھ جوڑ کر نام نکالا جاتا ہے)
- بعض لوگ قرآن مجید کھول کر ساتویں سطر کی ابتدا میں جو حرف ہوگا اسی حرف سے نام رکھتے ہیں ۔ مثلاً حرف ’ ش‘ نکلا تو نام ’ ش‘ سے شکیل یا شکیلہ، شمیم الدین یا شیماں رکھتے ہیں۔ شرعاً اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ غلط ہے
- بعض لوگ بچوں کے نام مختلف اشیاء کے نام پر رکھ دیتے ہیں اگر ان کے معنی گلظ نہ بھی ہوں تو ان میں مذہبی تہذیب و اخلاق کی جھلک نظر نہیں آتی۔
- بعض لوگ اپنے بچوں کے وہی نام رکھ دیتے ہیں جن مہینوں میں وہ بچے پیدا ہوتے ہیں جیسے رمضانی ، شعبانی وغیرہ یہ طریقہ بھی صحیح نہیں ہے۔
- بعض لوگ ستاروں کو دیکھ کر مثلاً ستاره عطارد، برج سنبلہ پر نام رکھا جاتا ہے اور پھر پتھر لاجوردی، نیلم، زرقون وغیرہ پہنانے کے دیا جاتا ہے۔ یہ شرک اور عقیدہ توحید کے خلاف ہے۔ ایک مسلمان کو ان چیزوں پر اعتماد کرنا حرام ہے۔
- ایسے ناموں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جن سے بدشگونی اور نحوست والے معانی ظاہر ہوتے ہوں
- ایسے ناموں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جن سے اسلامی قدر و منزلت مجروح ہونے کا اندیشہ ہو
- بچیوں کے نام رکھتے ہوئے کسی نام کے آخر میں خاتون، آرا، بیگم، سلطانہ، بانو ، بی بی، خانم، وغیرہ لگا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں
- اگر کسی کا نام محمد عمر ،محمدحسن ، یا محمد حسین ہے تو لفظ محمد پر “ص” کا نشان نہیں لگانا چاہئے
- جو بچہ زندہ پیدا ہوا ہو اور چند لمحوں کے بعد مر جائے تو اس کا نام بھی رکھنا چاہئے۔
- ناموں کا یہ اسلامی نظام انتہائی جامعیت کا حامل ہے، جس کا صحیح اندازہ ایک باشعور اور روح ِ ایمانی سے معمور انسان کو بخوبی ہوسکتا ہے۔ اس کے اندار کتنی نزاکت، کتنی گہرائی اور کتنی اہمیت ہے، اسلام کو پسند کرنے والا کبھی بھی ان کو نظر انداز نہیں کرسکتا
- موجودہ وقت میں لوگ ایسے نام اور القاب دینے لگے ہیں، جو غیر مسلم قوموں کی طرز ِ معاشرت کے عکاس ہیں، بالکل منفرد نام رکھنے کی دوڑ میں اکثر اوقات یا تو بے معنی رکھ دیئے جاتے ہیں یا ایسے نام جو غلط معانی پر دلالت کرتے ہیں اور یون عملی طور پر ان میں اسلامی تہذیب سے دوری پائی جاتی پائی جاتی ہے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر