واقعۂ اِفک کی عصری معنویت اور سوشل میڈیا

 

  • منافقین کی طرف سے حضرت عائشہ ؓ پر  تہمت لگانےکے حوالے سے  ذکر سورۃ النور (آیات 11-20) آیا ہے۔ یہ منافقین کی طرف سے پھیلائی گئی جھوٹی خبر تھی جس نے مدینہ کی پوری اسلامی ریاست کو  شدیدمتاثر کیا۔
  • آج سوشل میڈیا نے ہر فرد کو خبر نشر کرنے والا بنا دیا ہے۔ اس ماحول میں واقعۂ اِفک پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
  • افواہ کا پھیلاؤ: واقعۂ افک میں ایک جھوٹی خبر منہ در منہ پھیلی۔ آج سوشل میڈیا پر ایک بے بنیاد پوسٹ یا اسکرین شاٹ لمحوں میں لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔ بغیر تحقیق کے شیئر کرنا اُسی “نشر”  کا جدید روپ ہے جس کی قرآن نے مذمت فرمائی۔
  • تحقیق کا فریضہ:افک کے واقعے میں قرآن نے پوچھا ہے “تم نے اس پر گواہی کیوں نہ مانگی؟” اس آیت کا سبق یہ ہے کہ ہر وائرل خبر کو فوری آگے بھیجنے سے پہلے مصدر، سیاق اور شواہد کو جانچنا ضروری ہے۔
  • تہمت اور کردار کشی کا جدید کلچر: سوشل میڈیا پر کسی ایک شخص کی ایک غلطی یا محض افواہ کی بنیاد پر اس کا کردار تباہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی منافقانہ رویہ ہے جو افک کے وقت تھا۔ سورۃ النور نے سکھایا کہ جب تم کسی پر الزام لگاؤ تو چار عادل گواہ لاؤ، ورنہ تم خود حد قذف کے مستحق ہو۔
  • فوری  فیصلہ اور مجرم ٹھہرانا: آج سوشل میڈیا پر اکثر لوگ خود ہی جج، جیوری اور سزا دینے والے بن بیٹھتے ہیں۔ کسی شخص کو باقاعدہ تحقیق، عدالتی کارروائی اور معتبر ثبوت کے بغیر ہی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ قرآن اس کے برعکس یہ اصول دیتا ہے کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو، اہلِ ایمان کو بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے۔

افواہوں کے معاشی و سماجی نقصانات

  • واقعۂ اِفک کے بعد قرآن نے یہ اصول واضح کیا کہ جب کوئی بے بنیاد بات سنی جائے تو فوراً کہا جائے: “ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں” (النور: 16)۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں ایک جھوٹی خبر کسی کمپنی کے حصص گرا سکتی ہے، کسی خاندان کا سکون برباد کر سکتی ہے، کسی کی شادی یا رشتہ توڑ سکتی ہے، اور بعض اوقات ایک انسان کی پوری زندگی کو تباہ کر سکتی ہے۔
  • اصلاحی راستہ: توبہ اور روک تھام- قرآنِ کریم نے تہمت اور افواہ سازی جیسے سنگین گناہوں کے باوجود توبہ، اصلاح اور اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ آج کے سوشل میڈیا ماحول میں بھی غلط خبر پھیلانے کے بعد محض خاموشی کافی نہیں؛ بلکہ واضح معافی، غلطی کی تصحیح، متاثرہ فرد کی عزت کی بحالی اور آئندہ احتیاط ضروری ہے۔ البتہ منظم فیک نیوز، کردار کشی اور منصوبہ بند تہمت آمیز مہمات کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی بھی ناگزیر ہے۔
  • عصری سبق: واقعۂ اِفک ہمیں یہ بنیادی سبق دیتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر وائرل خبر کو بلا تحقیق قبول نہ کیا جائے۔ کسی شخص یا ادارے کے خلاف بغیر معتبر ثبوت کے پوسٹ، تبصرہ یا شیئرنگ کرنا اخلاقی اور دینی طور پر سنگین ذمہ داری ہے۔ اگر غلطی سے کوئی بے بنیاد بات آگے پھیل جائے تو فوراً معافی، تصحیح اور متاثرہ فرد کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن نے اہلِ ایمان کو خبر قبول کرنے میں تحقیق کا حکم دیا ہے۔

Check Also

غزوہ بنی مصطلق

  یہ غزوہ قبیلہ بنی مُصْطَلِق کے خلاف تھا، جو قبیلہ خُزاعہ کی ایک شاخ …