یہ غزوہ قبیلہ بنی مُصْطَلِق کے خلاف تھا، جو قبیلہ خُزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ اطلاع ملی تھی کہ ان کا سردار حارث بن ابی ضرار مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے پیش قدمی فرمائی۔ یہ غزوہ مقام مُرَیْسِیع کے قریب ہوا، اسی لیے اسے غزوۂ مُرَیْسِیع بھی کہا جاتا ہے۔ 5 یا 6 ہجری میں پیش آیا، زیادہ مشہور قول کے مطابق یہ 6 ہجری کا واقعہ ہے۔
غزوۂ بنی مُصْطَلِق کا پس منظر
- غزوۂ بنی مُصطَلِق: پس منظر: غزوۂ بنی مُصْطَلِق 5 یا 6 ہجری میں پیش آیا، زیادہ معروف قول کے مطابق یہ 6 ہجری کا واقعہ ہے۔بنی مُصْطَلِق قبیلہ خُزاعہ کی ایک شاخ تھی، اوراس قبیلے کا سردار حارث بن ابی ضرار ایک با اثر اور جنگجو شخصیت کا مالک تھا۔ نبی کریم ﷺ کو اطلاع موصول ہوئی کہ حارث بن ابی ضرار مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے اور اردگرد کے قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے حالات کی تصدیق کے لیے پہلے بُریدہ بن حُصَیب کو بھیجا جنہوں نے واپس آ کر خبر کی تصدیق کی
- فوجی مہم اور فتح : رسول اللہ ﷺ نے اس خطرے کو بڑھنے سے پہلے ہی روکنے کے لیے صحابہؓ کے ساتھ پیش قدمی فرمائی۔ آپ ﷺ نے فوری لشکر ترتیب دیا جس میں سات سو کے قریب مجاہدین شامل تھے، بعض روایات میں ایک ہزار کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر لشکرِ اسلام مُرَیْسِیع کے مقام پر پہنچا جہاں دشمن پہلے سے صف آرا تھا۔ پہلے تیر اندازی ہوئی پھر آمنے سامنے کا مقابلہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی – دس کفار واصلِ جہنم ہوئے جبکہ مسلمانوں میں سے صرف ایک صحابی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ بنی مُصطَلِق کے دو سو گھرانے اور بڑی تعداد میں مویشی اور مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
- غزوہ کے دیگر اہم واقعات: اسی سفر میں منافقوں نے سر اٹھانے کی کوشش کی – عبداللہ بن اُبَی نے مہاجرین کے خلاف بدزبانی کی جس پر قرآن کریم نے منافقین کو بے نقاب کیا۔ سب سے بڑا فتنہ واقعۂ افک تھا جس میں حضرت عائشہ صدیقہؓ پر جھوٹی تہمت لگائی گئی – اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور میں ان کی برأت نازل فرما کر ان کا دامن پاک قرار دیا۔ اس غزوے کے نتیجے میں مدینہ منورہ کی جنوب مغربی سرحد محفوظ ہو گئی اور عرب قبائل پر اسلامی قوت کا رعب مزید بڑھ گیا۔
حضرت جویریہؓ کا تعارف اور نکاح کا واقعہ
- حضرت جویریہؓ بنی مُصْطَلِق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ آپ کا اصل نام بَرَّہ تھا – نبی کریم ﷺ نے نکاح کے بعد ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا
- غزوے سے قبل ان کا نکاح مسلمہ بن صفوان سے ہوا تھا جو اسی جنگ میں مارا گیا۔ مسلمانوں کی فتح کے بعد وہ قیدی بنائی گئیں اور تقسیمِ غنائم میں حضرت ثابت بن قیسؓ کے حصے میں آئیں۔ سردار کی بیٹی ہونے کے باوجود وہ اس وقت انتہائی مشکل اور نازک حالات سے گزر رہی تھیں
- حضرت جویریہؓ نے حضرت ثابت بن قیسؓ سے مکاتبت کرنی چاہی – یعنی ایک مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کرنے کا قانونی معاہدہ۔ مکاتبت کی رقم ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا چنانچہ وہ خود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور معاونت کی درخواست پیش کی۔
- نبی کریم ﷺ نے ان کی بات سن کر ارشاد فرمایا: “کیا تم اس سے بہتر بات چاہو گی؟” پھر آپ ﷺ نے خود حضرت ثابت بن قیسؓ کو مکاتبت کی پوری رقم ادا کر کے انہیں آزاد کروایا اور ان سے نکاح کی پیشکش فرمائی۔ حضرت جویریہؓ نے بخوشی قبول کیا۔ نکاح کا مہر چار سو درہم مقرر ہوا جو آپ ﷺ نے خود ادا فرمایا۔ یہ نکاح ۵ ہجری میں واپسی کے سفر میں یا مدینہ پہنچنے کے بعد منعقد ہوا۔
نکاح کے اثرات، حضرت جویریہؓ کی خدمات
- نکاح کے فوری اور دور رس اثرات: نبی کریم ﷺ اور حضرت جویریہؓ کے نکاح کی خبر جیسے ہی صحابہ کرامؓ میں پھیلی، ایک انقلابی عمل رونما ہوا۔ صحابہؓ نے آپس میں کہا: “ہم رسول اللہ ﷺ کے سسرالیوں کو قید میں نہیں رکھ سکتے۔” چنانچہ بنی مُصطَلِق کے سو سے زائد قیدی خاندان بلا معاوضہ آزاد کر دیے گئے۔ حضرت عائشہؓ نے بعد میں فرمایا: “میں نے اپنی قوم کے لیے جویریہؓ سے زیادہ برکت والی عورت نہیں دیکھی۔” یہ نکاح محض ایک ذاتی رشتہ نہیں بلکہ ایک پورے قبیلے کی اسلام سے قربت کا سبب بن گیا۔ حارث بن ابی ضرار نے بعد میں اسلام قبول کیا اور خیر کی راہ اختیار کی۔
- حضرت جویریہؓ کی علمی و دینی خدمات: حضرت جویریہؓ نے ام المؤمنین کا مقام ملنے کے بعد علم و عبادت میں زندگی گزاری۔ وہ احادیث کی روایت میں ممتاز مقام رکھتی تھیں اور کئی احادیث ان سے مروی ہیں، ان سے حضرت ابن عباسؓ، جابر بن عبداللہؓ، ابن عمرؓ اور مجاہدؒ جیسے اہلِ علم نے روایت لی۔ عبادت، ذکر اور تسبیح ان کا خاص شعار تھا
- نبی اکرم ﷺ ایک دن صبح کے وقت ان کے پاس سے نکلے تو وہ نماز کے بعد ذکر میں مشغول تھیں، پھر آپ ﷺ دن چڑھے واپس آئے تو وہ اسی حالت میں بیٹھی تھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں چند جامع کلمات سکھائے:سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِه ، یہ ذکر امت میں بہت معروف ہوا اور آج تک صبح کے اذکار میں پڑھا جاتا ہے۔ اس روایت سے حضرت جویریہؓ کی عبادت گزاری بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ان کے ذریعے امت کو ایک عظیم مسنون ذکر ملا۔
- نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی مدینہ میں مقیم رہیں اور دین کی خدمت کرتی رہیں۔ ۵۰ ہجری کے قریب مدینہ منورہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئیں۔
نکاح کے اثرات، حکمتیں اور اسباق
- حضرت جویریہؓ سے نبی کریم ﷺ کے نکاح کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ بنی مُصْطَلِقکے قیدیوں کے ساتھ نرمی اور آزادی کا معاملہ ہوا
- یہ نکاح قبائلی معاشرے میں دلوں کو نرم کرنے، دشمنی کم کرنے اور اسلام کے اخلاقی پیغام کو نمایاں کرنے کا سبب بنا
- رسول اللہ ﷺ نے اس واقعے کے ذریعے دکھایا کہ جنگ کے بعد بھی اسلام کا مزاج انتقام نہیں بلکہ اصلاح، رحمت اور دلوں کو جوڑنا ہے
- حضرت جویریہؓ کے ذریعے ایک شکست خوردہ قبیلہ رسول اللہ ﷺ کے خاندان سے رشتہ داری میں آ گیا۔اس رشتے نے بنی مُصْطَلِق کے لوگوں کے دلوں میں اسلام، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لیے نرمی پیدا کی
- صحابہؓ کا قیدیوں کو آزاد کرنا ان کے ایمان، ادبِ نبوی اور اخلاقی بلندی کی روشن مثال ہے
- اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں میں صرف وقتی فائدہ نہیں بلکہ وسیع دینی، اخلاقی اور سماجی حکمت ہوتی تھی
- یہ نکاح عورت کی عزت، قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، اور دشمن قوم کو خیر کے ذریعے قریب کرنے کا نمونہ ہے
- حضرت جویریہؓ خود بھی بعد میں عبادت گزار، باوقار اور ام المؤمنین کے مقام پر فائز خاتون کے طور پر پہچانی گئیں
- اس واقعے کا سبق یہ ہے کہ اسلام جنگ میں بھی اخلاقی حدود قائم رکھتا ہے اور فتح کے بعد بھی رحمت کا دروازہ بند نہیں کرتا
- یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک حکیمانہ فیصلہ کبھی ایک فرد ہی نہیں بلکہ پورے قبیلے اور معاشرے کے لیے خیر کا سبب بن جاتا ہے
- غزوۂ بنی مُصْطَلِق اور حضرت جویریہؓ کا نکاح اسلامی تاریخ میں رحمت، حکمت، سماجی اصلاح اور حسنِ تدبیر کی خوبصورت مثال ہے۔
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر