حروفِ قسم : حروف ِ قسم ہیں ، عربوں میں بطور عادت یا تکیہ کلام استعمال کیے جاتے ہیں، یا بعض اوقات کلام میں تاکید اور زور پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں ، اگر ان کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس کو بطور شہادت پیش کرنا مقصود ہوتا ہے
1۔ وَاو:
اس کو واؤ قسمیہ(واو القسم ) کہتے ہیں – مثالیں:
(۱) وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ، (۲) وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، (۳) وَٱلۡعَصۡرِ
2۔تَاء (ت) :
اس کو تا قسمیہ (تاء القسم ) کہتے ہیں – تَ (اسمیہ) صرف اللہ کے ساتھ قسم کھانے کے لیے مخصوص ہے مثالیں:
(۱) تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ ، (۲) تَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم
3۔ بَا (بَ) :
اس کو با قسمیہ (بَاء القسم ) کہتے ہیں – مثالیں:
(۱) باللهِ لَأَفْعَلَنَّ
4۔ لَام(لَ):
اس کو لام قسمیہ (لَام القسم ) کہتے ہیں – یہ قرآنِ مجید میں استعمال نہیں ہوا
5۔ قَسَمَ:
معنی تقسیم کرنا یا بانٹنا (قُسَامت: وہ قسمیں جو خون کے بدلے اولیاءکو مشکوک قبیلے کے لوگ دیتے تھے) قسم کا لفظ کسی شک کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے – وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ
6۔ یَمِیْن:
بمعنی قسم۔ یہ الزام رفع کرنے کے لیے آتا ہے
البَيِّنَةُ عَلَى المُدَّعِي، وَاليَمِينُ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ
(بارثبوت یعنی شہادت فراہم کرنا مدعی کے ذمے اور وہ یہ نہ کر سکے تو مدعلیہ کے ذمے قسم ہے)
7. حَلْف:
حَلَفَ کے معنی کسی بات پر ثابت قدم رہنا – حلفِ وفاداری: دوستی کے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہنے کی قسم
وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ
اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے -(9:42)
8. اِیْلَا:
اپنی بیوی سے علیٰحدہ رہنے اور جنسی تعلقات منقطع کرنے کی قسم اٹھانا – دور ِ جاہلیت میں لوگ اس طرح کی قسموں سے بیویوں کو بہت تنگ اور پریشان کرتے ، شریعت نے اس کی زیادہ سے زیادی مدت چار ماہ مقرر کر کے اس قباحت کا سدِ باب کر دیا
لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ -(2:226)
جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں، اُن کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے
9. اَلِيَّة:
( ألا يَألُو ، ألْوًا – کسی کام میں کوتاہی کرنا، قسم کھانا)- اَلِيَّة کے معنی قسم ، ایسی قسم جس میں قسم کھانے والے کو تکلیف اور کوتاہی کا سامنا کرنا پڑے- کوئی اچھا کام پورا نہ کرنے کی قسم کھانا
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ -(24:22)
تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر