- سورۃ النور کی آیت 55 کو آیتِ استخلاف کہا جاتا ہے جو قرآنِ کریم کی ایک عظیم اور مشہور آیتِ کریمہ ہے
- اس کو ” آیتِ استخلاف ” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو زمین میں خلافت (یعنی اقتدار، حکومت، استحکام اور امن) دینے کا واضح وعدہ فرمایا ہے۔(جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال انجام دیں، اللہ انہیں زمین میں جانشینی عطا فرمائے گا، ان کے دین کو مضبوطی سے قائم کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا)
- الٰہی وعدہ اور اس کی شرائط: یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ زمین میں اقتدار و اختیار کوئی خودکار نتیجہ نہیں اور نہ ہی یہ وعدہ مسلمانوں کی تعداد،کسی نسل، قوم یا جماعت کے نام سے ہے بلکہ ایمان، عملِ صالح، خالص بندگی اور شرک سے اجتناب کی واضح شرائط کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اقتدار محض سیاسی طاقت، تعداد یا عسکری غلبے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کی اصل بنیاد صحیح عقیدہ، صالح کردار اور اللہ کی اطاعت ہے۔
- وعدۂ الٰہی کے حقیقی مستحق: اس وعدے کے مخاطب ہر وہ شخص نہیں جو صرف زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے، بلکہ وہ لوگ ہیں جو سچے دل سے ایمان لائیں اور جن کا ایمان صالح اعمال کی صورت میں ان کی پوری زندگی پر اثرانداز ہو۔ ان کا عقیدہ، اخلاق، عبادات، معاملات، معاشرت اور اجتماعی کردار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات کے تابع ہو۔ منافقانہ طرزِ عمل، زبانی دعوے اور عملی نافرمانی انسان کو اس وعدے کا مستحق نہیں بناتے۔
- ایمان کی جامع حقیقت: اس آیت میں مطلوب ایمان محض چند عقائد کو ذہنی طور پر تسلیم کرلینے کا نام نہیں، بلکہ ایسی زندہ حقیقت ہے جو انسان کے خیالات، جذبات، خواہشات اور اعمال سب کو بدل دیتی ہے۔
حقیقی مومن چھوٹے اور بڑے ہر معاملے میں اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔ اس کا اپنے رب سے تعلق، لوگوں کے ساتھ برتاؤ، اجتماعی کردار اور زندگی کی تمام سرگرمیاں رضائے الٰہی کے تابع ہوجاتی ہیں۔
- عملِ صالح کی اہمیت: ایمان کے ساتھ عملِ صالح کا ذکر واضح کرتا ہے کہ زمین کی خلافت و قیادت کے لیے محض عقیدہ کافی نہیں، بلکہ صالح کردار، عدل، امانت، دیانت، ذمہ داری اور تعمیری صلاحیت بھی ضروری ہے۔ عملِ صالح میں انفرادی عبادات کے ساتھ معاشرتی اصلاح، حقوق کی ادائیگی، ظلم کی روک تھام اور انسانی فلاح کے لیے جدوجہد بھی شامل ہے۔ جو امت اپنے کردار اور اعمال میں صالح نہ ہو، وہ محض دعوائے ایمان کی بنیاد پر استخلاف کی مستحق نہیں ہوسکتی۔
- استخلاف کا حقیقی مفہوم : استخلاف سے مراد صرف حکومت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زمین میں ذمہ دارانہ نظام قائم کرنا ہے۔ مسلمان زمین کے مطلق مالک نہیں بلکہ اللہ کے نائب اور امانت دار ہیں۔ لہٰذا اقتدار ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے، جس میں عدل، امانت، انسانی حقوق اور معاشرتی اصلاح لازم ہیں
- خلافت کا غلط تصور: خلافت کو محض سیاسی حکومت، عسکری غلبے، معاشی ترقی یا دنیاوی طاقت کے معنی میں لینا درست نہیں۔ اگر ہر غالب اور ترقی یافتہ قوم کو آیتِ استخلاف کا مصداق مان لیا جائے تو پھر ایمان، عملِ صالح، توحید، عبادت اور دینِ حق کے قرآنی مفاہیم بے معنی ہوجاتے ہیں۔ بہت سی طاقت ور قومیں اللہ، وحی، رسالت اور آخرت کی منکر ہونے کے باوجود دنیاوی اقتدار رکھتی ہیں؛ ان کا غلبہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی منظور شدہ خلافت کی حامل ہیں۔
قرآن میں خلافت کے مختلف مفاہیم
- قرآن مجید میں خلافت اور استخلاف کے الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال نہیں ہوئے، بلکہ سیاق و سباق کے لحاظ سے ان کے مختلف مفاہیم سامنے آتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ تمام انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل، صلاحیتوں، وسائل اور محدود اختیارات کے حامل ہیں۔ وہ زمین کے حقیقی مالک نہیں، بلکہ ان نعمتوں کے امین ہیں اور ان سے متعلق اللہ کے حضور جواب دہ ہیں (2/30، 6/165 )
- خلافت کا دوسرا مفہوم اور زیادہ مخصوص مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرے اور اپنے اختیارات کو اپنی خواہش، ذاتی مفاد یا انسانی نظریات کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ کے شرعی احکام کے تابع استعمال کرے۔ اس معنی میں خلافت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی امانت کو عدل، اطاعت اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنے کا نام ہے(38/26،24/55)
- تیسرا مفہوم یہ ہے کہ ایک قوم یا نسل کے بعد دوسری قوم زمین میں اس کی جانشین بن جائے اور اسے اقتدار، وسائل اور غلبہ حاصل ہوجائے۔ یہ جانشینی لازماً اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ قوم اللہ کی محبوب یا فرمانبردار بھی ہے، کیونکہ دنیاوی اقتدار کبھی انعام، کبھی آزمائش اور کبھی مہلت کے طور پر بھی دیا جاتا ہے (7/69،10/14، 7/74)
- یہاں خلافت کے وسیع تر مفہوم میں محض حکومت، عسکری قوت یا سیاسی غلبہ نہیں مراد نہیں بلکہ ایسا صالح اقتدار ہے جو اللہ کے احکام کے تابع ہو، عدل و انصاف قائم کرے، ظلم و فساد کو روکے، معاشرے کی اصلاح کرے اور بندگیِ الٰہی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ اس مفہوم کے مطابق مومنِ صالح اپنے اختیارات کو ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتا ہے اور انہیں مخلوق کی بھلائی، حقوق کی حفاظت اور دین کے قیام کے لیے استعمال کرتا ہےاس کے برعکس اللہ کے دیے ہوئے اختیارات کو اس کی نافرمانی میں استعمال کرنے والا باغی اور امانت میں خیانت کرنے والا شمار ہوتا ہے۔
استخلاف کا مقصد: اصلاح، تعمیر اور عدل
زمین میں اللہ کا خلیفہ ہونے کا مطلب صرف احکام نافذ کرنے یا لوگوں پر حکومت کرنے کا اختیار حاصل کرنا نہیں۔ اس کا حقیقی مقصد زمین کی اصلاح، انسانی معاشرے کی تعمیر، عدل کا قیام اور ظلم و فساد کا خاتمہ ہے۔ صاحبِ اقتدار افراد اور جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی عزت کو بلند کریں، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کریں، وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کریں اور انسانوں کو اخلاقی و روحانی ترقی کی راہ دکھائیں
جو حکومت اقتدار پاکر فساد، ظلم، سرکشی، استحصال اور انسانی تحقیر کو فروغ دے، وہ اس آیت میں بیان کردہ خلافت کی نمائندہ نہیں ہوسکتی۔ ایسا اقتدار آزمائش، مہلت یا بعض اوقات لوگوں کے اعمال کی سزا تو ہوسکتا ہے، مگر اسے اللہ کی پسندیدہ خلافت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
- دین کے تمکن کا مفہوم : اللہ تعالیٰ کا دوسرا وعدہ یہ ہے کہ وہ اہلِ ایمان کے لیے اس دین کو مضبوطی عطا کرے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے۔ دین کے تمکن سے مراد محض یہ نہیں کہ اسلام کا نام یا شعار غالب ہوجائے، بلکہ دین پہلے اہلِ ایمان کے دلوں، کردار اور زندگیوں میں مضبوطی سے قائم ہو۔ پھر اس کی تعلیمات عدل، عبادت، اخلاق، معیشت، معاشرت اور اجتماعی نظم میں نمایاں ہوں۔
- اسلام انسانی خواہشات کو بےلگام چھوڑنے کے بجائے انہیں اللہ کی ہدایت کے تابع کرتا ہے۔ وہ زمین کے وسائل سے فائدہ اٹھانے، علم و تحقیق، صنعت، ترقی اور تعمیر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، لیکن ان سب سرگرمیوں کا رخ اللہ کی رضا اور انسانیت کی بھلائی کی طرف ہونا ضروری ہے۔
- خوف کے بعد امن : آیت کا تیسرا وعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ ابتدائی مسلمان مکہ میں ظلم و ستم، معاشرتی دباؤ اور جان و مال کے خطرات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی ایک عرصے تک دشمنوں کے حملوں کا خطرہ رہا اور صحابۂ کرامؓ کو مسلسل مسلح اور چوکنا رہنا پڑتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ ان کی ثابت قدمی، ایمان اور اطاعت کے نتیجے میں یہ حالت تبدیل ہوگی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جزیرۂ عرب میں اسلام مستحکم ہوا اور بعد میں خلفائے راشدین کے دور میں امن، سیاسی استحکام اور اسلامی ریاست کا دائرہ وسیع ہوگیا۔
- وعدۂ استخلاف کی تاریخی تکمیل: اس آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ ﷺ کے عہد کے اہلِ ایمان تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چند ہی سالوں میں ان کا خوف امن میں تبدیل ہوا، اسلام عرب میں مضبوط ہوا اور پھر ایشیا و افریقہ کے وسیع علاقوں تک پہنچ گیا۔ خلفائے راشدین ( رضی اللہ عنہم اجمعین) کے عہد میں یہ وعدہ بہت نمایاں صورت میں پورا ہوا۔
- حضرت عدی بن حاتمؓ کی روایت میں رسول اللہ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ایک عورت حیرہ سے تنہا سفر کرکے کعبہ کا طواف کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا، مسلمانوں کو کسریٰ کے خزانے حاصل ہوں گے اور معاشی خوش حالی اس حد تک پہنچے گی کہ صدقہ قبول کرنے والا تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ حضرت عدیؓ نے ان میں سے ابتدائی وعدوں کو اپنی زندگی میں پورا ہوتے دیکھا۔ یہ تاریخی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی اسلامی خلافت محض سیاسی توسیع نہیں تھی، بلکہ ایمان، اجتماعی نظم، قربانی اور اللہ کی نصرت کے باہمی تعلق کا عملی ظہوربھی تھا۔
- توحید اور خالص بندگی: بنیادی شرط: آیت میں استخلاف، تمکنِ دین اور امن کے بعد بنیادی مقصد بیان کیا گیا ہے: “وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں” اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقتدار بذاتِ خود منزل نہیں، بلکہ خالص بندگیِ الٰہی کے قیام کا ذریعہ ہے۔
شرک صرف بت پرستی تک محدود نہیں۔ اللہ کے سوا کسی شخصیت، نظریے، خواہش، مفاد یا نظام کو آخری اور غیر مشروط اطاعت کا حق دینا بھی شرک کی ایک صورت بن سکتا ہے۔ جب خواہشاتِ نفس انسان کے فیصلوں پر اللہ کے حکم سے زیادہ حاوی ہوجائیں تو عملی طور پر انسان اپنی خواہش کو معبود کا درجہ دے دیتا ہے۔ اہلِ استخلاف کی صفت یہ ہے کہ ان کا رخ، اعتماد اور اطاعت بنیادی طور پر اللہ ہی کے لیے مخصوص رہے
- اقتدار ایک انعام بھی، آزمائش بھی:آیتِ استخلاف میں اقتدار کو صرف کامیابی کا نشان نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور امتحان بھی قرار دیا گیا ہے۔ اقتدار ملنے کے بعد اہلِ ایمان کی ذمہ داری کم نہیں بلکہ زیادہ ہوجاتی ہے۔ انہیں عدل قائم کرنا، دین کی حفاظت کرنا، لوگوں کے حقوق ادا کرنا اور اجتماعی نظم کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
اقتدار کے بعد اگر غرور، دنیا پرستی، ظلم، داخلی انتشار اور خواہشات کی پیروی پیدا ہوجائے تو یہی نعمت زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنی جگہ سچا ہے، لیکن اس کے ثمرات اسی وقت باقی رہتے ہیں جب اہلِ ایمان اس کی شرائط پر قائم رہیں۔ ۔
- “کفر” اور ناشکری کا مفہوم: آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اس کے بعد جو کفر کرے، وہی لوگ فاسق ہیں۔ یہاں کفر سے مراد ایمانی حقائق کا انکار بھی ہوسکتا ہے اور اللہ کی عظیم نعمتوں کی ناشکری بھی۔
منافقین کے لیے یہ تنبیہ تھی کہ اقتدار، امن اور دین کے غلبے کے آثار دیکھ لینے کے بعد بھی اگر وہ اخلاصِ ایمان اختیار نہ کریں تو ان کی نافرمانی انتہائی سنگین ہوگی۔
اسی طرح اہلِ ایمان کے لیے تنبیہ ہے کہ اگر وہ امن، اقتدار اور اجتماعی استحکام ملنے کے بعد اللہ کی اطاعت، توحید، عدل اور صالح نظم سے بےوفائی کریں تو وہ نعمتِ الٰہی کی ناشکری کے مرتکب ہوں گے۔ ایسی ناشکری کے نتیجے میں اتحاد، امن اور اقتدار کمزور ہوسکتے ہیں اور امت دوبارہ خوف، انتشار اور ذلت میں مبتلا ہوسکتی ہے۔
امت کے عروج و زوال کا اصول: اس آیت میں امتوں کے عروج و زوال کا ایک بنیادی قانون بیان ہوا ہے۔ جب اہلِ ایمان توحید، عملِ صالح، عدل، نظم، اطاعت اور اجتماعی ذمہ داری کے تقاضے پورے کرتے ہیں تو وہ اللہ کی نصرت، امن اور استحکام کے مستحق بنتے ہیں۔ جب وہ ان صفات کو چھوڑ کر باہمی نزاع، خود غرضی، ظلم اور خواہشات کی پیروی اختیار کرتے ہیں تو ان کے اقتدار اور وحدت میں زوال آتا ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کی پسماندگی کو صرف بیرونی سازشوں سے منسوب کرنا کافی نہیں۔ انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، عملِ صالح، عدل، علم، نظم اور خالص بندگی کی ان شرائط کو پورا کررہے ہیں جن کے ساتھ اللہ کا وعدہ وابستہ ہے۔
کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار؟ مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
دامنِ دین ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
سبب کچھ اور ہے، تُو جس کو خود سمجھتا ہے زوال بندہ مومن کا بے زري سے نہيں
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر