- عربی زبان میں الفاظ کے آخر میں جو حرکت (زبر، زیر، پیش) لگتی ہے اسے “اعراب” کہتے ہیں۔ یہ حرکت لفظ کے جملے میں کردار اور مقام کو ظاہر کرتی ہے۔ عربی زبان کی خوبصورتی یہ ہے کہ صرف آخری حرکت بدلنے سے پورے جملے کا مفہوم اور رشتہ واضح ہو جاتا ہے۔
- عام لوگ عربی الفاظ پر لگے زبر، زیر، پیش کو اعراب سمجھتے ہیں جو درست نہیں ہے ۔ عربی الفاظ پر لگے زبر، زیر، پیش کو حرکات کہا جاتا ہے
- عربی میں اسم(noun)کی آخری حرکت کو بدل کر یہ بتایا جاتا ہے کہ جملےمیں اس کا کیا کام ہے( اسی کو حالت یا اعراب کہتے ہیں)
- اعراب کی 3 حالتیں ہوتی ہیں ۔1-حالتِ رفع، 2- حالتِ نصب اور 3- حالتِ جر
حالتِ رفع (پیش والی حالت – Nominative case):
حالتِ رفع وہ حالت ہے جس میں لفظ کے آخر میں “پیش” (ضمہ) کی حرکت آتی ہے یا دو پیش (تنوین) کی، مثلاً “اللهُ”، “الرَّحْمٰنُ”۔ یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب لفظ جملے میں “فاعل” (کام کرنے والا Subject / Doer) یا “مبتدا” (جملے کا آغاز کرنے والا اسم) ہو
- وہ شخص یا چیز(اسم) جس کے بارے میں بات ہو رہی ہے یا جو کام کر رہا ہے۔ اس حالت میں اسم عموماً جملے میں اہم یا بنیادی مقام پر ہوتا ہے
- “اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ” میں لفظ “اَلْحَمْدُ” پر پیش ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے یعنی جملے کا اصل موضوع۔ اسی طرح “الِلّٰهُ اَحَدٌ” میں ” الِلّٰهُ ” پر پیش ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ جَاءَ زَيْدٌ – زید آیا
حالتِ رفع-فاعل اور مبتدا کے علاوہ کچھ دوسری صورتوں میں آتی ہے (خبر، نائب فاعل، اسمِ كان، خبرِ إنَّ وغیرہ)
مثالیں
- ذَهَبَ الْوَلَدُ لڑکا گیا۔
- الْحَمْدُ لِلّٰهِ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔
- اللّٰهُ غَفُورٌ اللہ بخشنے والا ہے۔
جملے میں جو “کرنے والا” یا “بتایا جانے والا” ہے اس پر پیش آتا ہے
حالتِ نصب (زبر والی حالت – Accusative case):
حالتِ نصب وہ حالت ہے جس میں لفظ کے آخر میں “زبر” (فتحہ) کی حرکت آتی ہے(یا دو زبر)
- مثلاً “اِیَّاکَ نَعْبُدُ” میں “اِیَّاکَ”۔ یہ حالت زیادہ تر اس وقت آتی ہے جب لفظ “مفعول” ہو – یعنی وہ چیز یا شخص جس پر کام کا اثر پڑے
- جس پر کام کیا جا رہا ہو (مفعول) وہ زبر کے ساتھ آتا ہے۔
- حالت نصب – مفعول کے بعد
اس طرح یہ دو حالتیں فاعل اور مفعول کے فرق کو واضح کرتی ہیں
حالتِ نصب- مفعولکے علاوہ کچھ دوسری صورتوں میں آتی ہے (إِنَّ کے بعد اسم، كَانَ کی خبر، حال یا کیفیت بیان کرنے کے لیے)
مثالیں
- رَأَيْتُ الرَّجُلَ میں نے آدمی کو دیکھا ۔
- إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔
- اهْدِنَا الصِّرَاطَ ہمیں وہ راستہ دکھا۔
جب کوئی لفظ کسی فعل کا براہِ راست نشانہ یا اثر پانے والا ہو تو اس پر زبر آتا ہے۔ یعنی جس پر کام کیا جا رہا ہو (مفعول) وہ زبر کے ساتھ آتا ہے
حالتِ جَر (زیر والی حالت – Genitive case):
حالتِ جر وہ حالت ہے جس میں لفظ کے آخر میں ” زیر” (کسرہ) کی حرکت آتی ہے
مثلاً “بِسْمِ اللّٰهِ” میں ” اللّٰهِ ” یہ حالت اس وقت آتی ہے جب لفظ کسی حرفِ جار(Preposition )، (جیسے فِیْ ، مِنْ ، اِلٰی، عَلٰی، بِـ ، لِ) کے بعد آئے)ان تمام صورتوں میں ان الفاظ کےآخر میں زیر آتا ہے)
یا جب کوئی لفظ “مضاف الیہ(Possessor)” ہو – یعنی کسی دوسرے لفظ سے “کا، کے، کی” کا رشتہ رکھتا ہو
(رفع) فاعل اور مبتدا کی علامت ہے، زبر (نصب) مفعول کی علامت ہے، اور زیر (جر) حروفِ جار اور مضاف الیہ کی علامت ہے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر