حیا کیا ہے؟
- حیا ایک ایسی فطری اور اخلاقی کیفیت ہے جو انسان کو برائی، بے حیائی اور غیر مناسب اعمال سے روکتی ہے۔ یہ ایک داخلی احساس ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ، اپنے نفس اور دوسرے انسانوں کے سامنے شرم و احتیاط پیدا کرتا ہے
- حیا صرف لباس یا ظاہری وضع قطع تک محدود نہیں بلکہ یہ گفتگو، رویے، نظر اور طرزِ عمل میں بھی جھلکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور اسے انسانی شخصیت کی خوبصورتی سمجھا جاتا ہے
- ایک باحیا انسان ہمیشہ اپنے اعمال کو پرکھتا ہے اور غلط راستے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ انسان کو اپنی نگاہ، زبان، لباس، رویّے اور تعلقات میں توازن سکھاتی ہے۔ حیا انسان کو تکبر، بدتمیزی اور بے اعتدالی سے دور رکھتی ہے
- یہ معاشرتی تعلقات میں بھی توازن اور احترام پیدا کرتی ہے۔ حیا دار انسان دوسروں کے جذبات کا خیال رکھتا ہے اور اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا
- یہ صفت مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ حیا انسان کو ذمہ دار اور باوقار بناتی ہے۔ معاشرے میں امن اور اخلاقی نظم کا قیام بھی حیا سے وابستہ ہے۔ حیا کے بغیر انسان اپنی اقدار اور وقار کھو بیٹھتا ہے۔
- اسی لیے اسلامی تربیت میں حیا کو ایمان، تقویٰ، عفت اور وقار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس لیے کہ حیا دین کا محض حاشیہ نہیں بلکہ کردار سازی کا مرکزی ستون ہے
اسلامی تعلیمات میں حیا کی اہمیت
- قرآن مجید میں سورہ النور میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور اپنی زینت کو غیر ضروری طور پر ظاہر نہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جو حیا کی بنیادی روح کو ظاہر کرتی ہے
- سورہ الاحزاب میں بھی مسلمان خواتین کو باوقار لباس اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ان کی عزت و پہچان محفوظ رہے
- صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ “حیا ایمان کا حصہ ہے”(الحياءُ منَ الإيمانِ ، والإيمانُ في الجنَّةِ… )، جو اس بات کی دلیل ہے کہ حیا اور ایمان کا گہرا تعلق ہے
- ایک اور روایت میں آپ ﷺنے فرمایا کہ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور ان میں سب سے کم درجے کی شاخ حیا ہے، مگر پھر بھی اسے ایمان کا حصہ شمار کیا گیا۔
(الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ )- متفق علیہ
- رسول اللہ ﷺ نے حیا کو تمام تر بھلائیوں کا سرچشمہ قرار دیا ہے:
الحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ
حیا صرف اور صرف بھلائی ہی لاتی ہے (صحیح بخاری و مسلم)
- عبدالله بن عمر کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ،
إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْإِيمَانَ قُرَنَاءُ جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ
بے شک حیا اور ایمان دونوں آپس میں ساتھی ہیں۔ جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی (خود بخود) اٹھا لیا جاتا ہے (المستدرک للحاکم، شعب الایمان للبیهَقی )
- حیا اسلام کا خاص اخلاق ہے۔ہر مذہب کی کوئی نہ کوئی خاص پہچان ہوتی ہے، اور اسلام کا امتیازی وصف حیا ہےگیا۔آپ ﷺ نے فرمایا
إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الإِسْلاَمِ الْحَيَاءُ،
“بے شک ہر دین کا ایک بنیادی اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے” – سنن ابن ماجہ
- جب حیا نہ رہے تو انسان بے لگام ہو جاتا ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا
إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ،
پچھلے انبیاء کے کلام میں سے جو چیز لوگوں نے پائی وہ یہ ہے کہ: جب تم میں حیا ہی نہ رہے، تو پھر جو جی چاہے کرو
- حیا چیزوں کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا
مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ،
بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے عیب دار (بدنما) کر دیتی ہے، اور حیا جس چیز میں بھی ہو اسے زینت بخشتی (خوبصورت بنا دیتی) ہے”
- رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اللہ سے سچی حیا کرنے کا طریقہ سکھایا
اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ… مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، وَالْبَطْنَ وَمَا حَوَى، وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى،
اللہ سے ایسی حیا کرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے… جو شخص اللہ سے سچی حیا کرنا چاہتا ہے، وہ اپنے سر اور اس میں موجود خیالات و اعضاء (آنکھ، کان، زبان) کی حفاظت کرے، اپنے پیٹ اور اس میں جانے والی غذا (حلال و حرام) کی نگرانی کرے، اور موت اور قبر میں مٹی ہونے کو یاد رکھے ” (سنن ترمذی حدیث: 2457)
حیا کے ذریعے کیسے مثبت شخصیت تشکیل پاتی ہے؟
- حیا انسانی شخصیت میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے اور اسے غیر ضروری اور نقصان دہ اعمال سے بچاتی ہے
- ایک باحیا انسان اپنی گفتگو میں شائستگی اور نرمی اختیار کرتا ہے، جس سے دوسروں کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوتے ہیں
- حیا انسان کو جھوٹ، دھوکہ دہی اور بدکلامی جیسی خامیوں سے دور رکھتی ہے
- یہ صفت انسان میں خودداری اور وقار پیدا کرتی ہے جس سے وہ معاشرے میں قابلِ احترام بنتا ہے
- حیا دار افراد اپنے فرائض کی ادائیگی میں زیادہ ذمہ دار اور دیانتدار ہوتے ہیں
- حیا انسان کو اپنے فیصلوں میں محتاط اور سنجیدہ بناتی ہے، جو ایک مضبوط شخصیت کی نشانی ہے
- گھریلو اور معاشرتی زندگی میں حیا رشتوں کے درمیان اعتماد اور احترام کو فروغ دیتی ہے۔ گھر میں حیا احترام، نرم گفتگو اور حدود کے خیال کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
- حیا انسان کو انا پرستی، غرور، دکھاوے اور بے راہ روی سے محفوظ رکھتی ہے
- یہ صفت انسان کو صبر، تحمل اور برداشت جیسی خوبیوں سے آراستہ کرتی ہے۔ حیا کے ذریعے معاشرہ اخلاقی زوال سے محفوظ رہتا ہے اور مثبت اقدار پروان چڑھتی ہیں
حیا کے ذریعے کیسے مثبت شخصیت تشکیل پاتی ہے؟
- حیا یہ پوچھنے کی عادت پیدا کرتی ہے کہ میری بات، نظر، لباس یا پوسٹ دوسروں پر کیا اثر ڈالے گی؟
- تعلیمی ماحول میں یہ سنجیدگی، باوقار تعلقات اور غیر ضروری اختلاط سے احتیاط سکھاتی ہے۔
- سوشل میڈیا پر حیا تصویر، تبصرے، مذاق، طنز اور ذاتی معلومات شیئر کرنے میں ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔
- جس معاشرے میں حیا کمزور ہو جائے وہاں زبان، لباس، تعلقات اور میڈیا سب میں بے احتیاطی بڑھتی ہے
- بحیثیت مجموعی، حیا ایک مکمل، متوازن اور بااخلاق شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر