- سورة النور کی آیات 27 تا 34 اسلامی معاشرت کے لیے ایک نہایت مربوط اور عملی نظام پیش کرتی ہیں۔ یہ آیات صرف پردے یا لباس کے چند احکام تک محدود نہیں، بلکہ گھر، نگاہ، گفتگو، تعلقات، نکاح، عفت، معاشی ذمہ داری اور کمزور طبقات کے تحفظ تک ایک مکمل اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔ آج کے دور میں ان آیات کا صحیح اطلاق اسی وقت ممکن ہے جب ہم انہیں ایک جامع معاشرتی نظام کے طور پر سمجھیں، نہ کہ صرف چند ظاہری پابندیوں کے طور پر۔
- گھروں میں داخلے کے آداب اور تحفظِ خلوت: ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت اور بغیر سلام کے داخل نہ ہوں، اور اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جائیں بغیر ناراضگی کے۔ یہ حکم دراصل دوسروں کی نجی زندگیprivacy)) کے احترام کی بنیاد ہے
عصری دور میں اس اصول کا اطلاق موبائل، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل رابطوں پر بھی ہوتا ہے۔ کسی کے پرائیویٹ پیغامات، آج کسی کے موبائل، ای میل، واٹس ایپ، کمرے، دفتر، ذاتی فائلوں، تصاویر، یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں بغیر اجازت جھانکنا بھی اسی اصول کے خلاف ہے
- نگاہوں کی حفاظت اور پاکدامنی: یہ کردار سازی کا پہلا عملی قدم ہے۔ مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور پاکدامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا کیو نکہ حیا کی ذمہ داری یک طرفہ نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں پر ہے۔ آج کے دور میں نگاہ کی حفاظت صرف راستے یا مجلس تک محدود نہیں، بلکہ موبائل اسکرین، فلموں، ڈراموں، اشتہارات، reels، اور online مواد تک پھیل چکی ہے۔ بدنگاہی صرف آنکھ کا عمل نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ سوچ، خواہش، رویّے اور تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے غضِ بصر دراصل اندرونی نظم و ضبط(discipline) اور self-control کی تربیت ہے۔
- ستر، زینت اورحیا: عورتوں کے لیے مزید ستر، زینت، محرم و غیر محرم، اور چال ڈھال کے آداب بیان ہوئے ہیں۔ آج کے ماحول میں لباس کو صرف فیشن یا ذاتی پسندکے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ لباس انسان کے اخلاقی شعور، تہذیب اور self-respect کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
عصری معاشرے میں یہ اصول باوقار لباس، نجی زندگی کے تحفظ اور سوشل میڈیا پر تصاویر و مواد کی نمائش میں احتیاط کی صورت میں اپنایا جا سکتا ہے۔ یہ احکام عورت کی عزت اور تحفظ کو یقینی بناتے ہیں، نہ کہ اسے محدود کرتے ہیں
- نکاح کی آسانی اور معاشرتی پاکیزگی: اسلام نے بے نکاح افراد کو نکاح کے بغیر نہ چھوڑنے کی تلقین کی ہے، چاہے وہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ، آزاد ہوں یا غلام ، ایمان والے ہوں یا بغیر ایمان والے، سب اس حکم میں شامل ہیں، نیز کسی کو بھی جنسی استحصال پر مجبور کرنے سے سختی سے منع کیا گیا
آج کے دور میں یہ سبق نکاح کو آسان بنانے، جہیز اور فضول رسومات کے بوجھ کو کم کرنے کی صورت میں اپنایا جا سکتا ہے
- اگرچہ آج قانونی غلامی موجود نہیں، مگریہ قرآنی اصول آج بھی زندہ ہے: کسی کمزور، مجبور، غریب، ماتحت، ملازم، عورت، بچے، یا migrant worker کا جنسی، معاشی یا سماجی استحصال حرام اور سنگین جرم ہے۔
یہ آیات جدید دور کے human trafficking، workplace exploitation، harassment، اور طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف ایک مضبوط قرآنی اصول فراہم کرتی ہے اور ان کی مخالفت میں مناسب قانون سازی کی جانی چاہیے
حیا، عفت اور پاکیزہ کردار کے لیے دعائیں
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى
اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ
اے اللہ! مجھے بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی فرما، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف تیرے سوا کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا، اور مجھ سے برے اخلاق کو پھیر دے، کیونکہ برے اخلاق کو تیرے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَهْوَاءِ
اے اللہ! میں تجھ سے برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے پناہ مانگتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي
اے اللہ! میں اپنی سماعت کے شر، اپنی نگاہ کے شر، اپنی زبان کے شر، اپنے دل کے شر، اور اپنی جنسی خواہش کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَهْوَاءِ
اے اللہ! میں تجھ سے برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے پناہ مانگتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي، اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي
اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں اپنے دین، دنیا، اہل و عیال اور مال میں معافی اور عافیت مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیوب/ستر کو چھپا دے اور میرے خوف کو امن میں بدل دے
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ، وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں/شوہر وں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا، وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ ہونے دے، اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو بہت عطا فرمانے والا ہے۔
اے اللہ! ہمیں حیا، عفت، پاکیزہ نگاہ، صاف دل، محفوظ زبان، باوقار لباس، مضبوط خاندان، اور دوسروں کی عزت اور خلوت کا احترام عطا فرما۔ ہمیں برے اخلاق، بدنگاہی، بے حیائی، تجسس، استحصال، ظلم اور نفس کی گمراہی سے محفوظ فرما ۔ آمین
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر