یاجوج  ماجوج – (Gog and Magog)

  • لفظ “یَأْجُوج وَ مَأْجُوج “عربی زبان میں سامی زبانوں، غالباً   عبرانی زبان سے آیا ہے۔ عبرانی (تورات حزقی ایل کے صحیفے)  میں “Gog, of the land of Magog” کے الفاظ میں آئے ہیں
  • یہودی روایات(Old Testament) میں یاجوج ماجوج کو آخری زمانے کی جنگ سے جوڑا گیا ہے (Gog قوم شمال سے آئے گی اور (بنی)اسرائیل پر حملہ کرے گی
  •  مسیحی روایاتNew Testament))  میں یاجوج و ماجوج کا ذکر آخری جنگ Armageddon)) جسے اسلامی رویات میں ملحمة العظمیٰ/ ملحمة الكبرىٰ کہا جاتا ہے  کے تناظر میں ہے، جہاں شیطان انہیں جمع کرے گا
  • اسلامی رویات میں یاجوج ماجوج کا ذکر  قرآنِ کریم  سورہ کہف (آیت 94–98) اور سورہ انبیاء (آیت 96) میں آیا ہے  اور  احادیث کی کتب جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی احادیث موجود ہیں جن کے مطابق  ان کا خروج قیامت سے قریب ہوگا
  • یاجوج ماجوج کا ذکر ایک پر اسراراور آخر الزمان کی علامات میں شامل فتنہ کے طور پر ہوا ہے
  • یاجوج ماجوج کون سی قوم یا اقوام ہیں؟  اس کے حتمی  تعین میں بہت مشکلات ہیں اہل علم کے لیے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں علماء و محققین میں  بہت زیادہ اختلافات ہیں- اگر ہم اس تعین میں موجود مشکلات پر نظر ڈالیں تو معاملے کی تفہیم بہتر ہو سکتی ہے

یاجوج  ماجوج کے تعین میں موجود مشکلات

  • تاریخی و جغرافیائی ابہام -یاجوج و ماجوج کے مقام، زبان، اور تہذیب سے متعلق قرآن و حدیث میں بہت کم صراحت ہے۔ قرآن سورہ کہف میں صرف اتنا ذکر ہے کہ ذوالقرنین نے ان کے ظلم و فساد کو روکنے کے لیے ایک سد (دیوار) تعمیر کی۔ لیکن کوئی واضح جغرافیائی یا نسلی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس طرح قدیم مآخذ  کی کتب میں  انہیں ایک قوم یا علاقے سے جوڑا گیا ہے، لیکن اس کی تطبیق مشکل ہے۔
  • oعمومی نوعیت کی علامات- بعض روایات میں انہیں بہت طاقتور، تیز رفتار افزائش رکھنے والی اور زمین پر فساد پھیلانے والی  کہا گیا ہے۔ لیکن ان صفات کی روشنی میں ان کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ صفات کسی مخصوص قوم تک محدود نہیں۔
  • oروایات کی کثرت اور تنوع:احادیث میں یاجوج و ماجوج کے ذکر میں بھی تنوع ہے، کچھ روایات ان کی کثرت اور جنگی قوت کو نمایاں کرتی ہیں، تو کچھ ان کے ظہور کو قیامت کی بڑی علامات میں شامل کرتی ہیں۔ ان کی تشریح میں وقت، سیاق اور محدثین کے اختلافات بھی موجود ہیں۔( اس ضمن میں بہت سی روایات ایسی بھی ہیں جو صحتِ سند کے ساتھ ثابت نہیں ہوتیں ان کو چھانٹنے کی ضرورت بھی ہے)

اسلامی لٹریچر میں تین معروف نقطۂ نظر

  1. یاجوج ماجوج قدیم وحشی قبائل – ابن کثیر، طبری، اور دیگر مفسرین کے مطابق یأجوج و مأجوح وسط ایشیا کے جنگلی قبائل تھے، جو چین، منگولیا یا قفقاز کے پہاڑی علاقوں میں رہتے تھے یعنی انہوں نے اس کا اطلاق تاتاری اقوام پر کیا ہے جنہوں نے مسلمانوں پر شدید حملے کیے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔
  2. چینی یا ترک نسل کی اقوام- علامہ ابن خلدون اور بعض جدید محققین  نے انہیں  ترکستان اور اس کے شمالی علاقے (قفقاز، منگولیا، وسطی ایشیا) کو ان اقوام کا ممکنہ ماخذ بتایا گیا ہے – اس علاقے سے تاریخی طور پر کئی اقوام نے مہذب دنیا پر متعدد مرتبہ حملے کر کے انہیں  تباہ و برباد کیا
  3. یورپی اقوام یا مغربی استعمار – بعض جدید مفسرین نے یاجوج و ماجوج کو استعمار، استکبار، اور مغرب کے مادی نظام سے تشبیہ دی ہے، جو دنیا پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور انسانیت کو اخلاقی و روحانی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔ سید قطب اور ڈاکٹر اسرار احمد  وغیرہ کے نزدیک یأجوج و مأجوج تہذیبی انتشار، مادہ پرستی یا شیطانی قوتوں کی علامت ہیں۔
  4. مولانا مودودی کے نزدیک یاجوج و ماجوج ایک عظیم فتنہ ہیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے، مگر ان کی اصل حقیقت اور مقام کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو متشابہات میں شمار کیا اور اسے ایمان بالغیب کے طور پر قبول کرنے کی تلقین کی
  5. ڈاکٹر ذاکر نائیک اور احمد دیدات کے مطابق یہ روس، چین یا یورپی اقوام ہو سکتی ہیں، جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں
  6. مولانا وحید الدین خان انہیں مغربی تہذیب کی مادہ پرستی سے تعبیر کرتے ہیں۔
  7. مولانا حمید الدین فراہی (فراہی مکتب فکر)کے مطابق یاجوج و ماجوج انسانوں کی وہ قوتیں ہیں جو دین سے آزاد ہو کر فساد فی الارض کا سبب بنتی ہیں، اور آخری دور میں ان کی شکل عالمی قوتوں کی صورت میں ظاہر ہوگی۔
  8. علامہ اقبال: انہوں نے اسے مغربی تہذیب کی عقلیت پرستی، مادہ پرستی اور طاقت پر مبنی استعمار سے تشبیہ دی ہے
  9. ڈاکٹر محمد علی الصابونی(تفسیرِ صابونی) کا خیال ہے کہ یأجوج و مأجوج جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (Genetically Modified)مخلوقات ہو سکتی ہیں، جو قیامت کے قریب ظاہر ہوں گی۔
  10. حسین محی الدین قادری  نے اپنی کتاب مین اس بات کا احتمال ظاہر کیا ہے کہ عین ممکن ہے  یاجوج ماجوج Aliens))ہوں

یاجوج ماجوج سے متعلق احادیث مبارکہ – حقیقی ہیں یا تمثیلی؟

  • احادیث مبارکہ میں یاجوج و ماجوج کے بارے میں فرمایا گیا ہے اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی،وہ ایک عظیم فساد برپا کریں گے، وہ ہر بلندی سے اُتریں گے،ان کے ظہور کے بعد قیامت قریب آ جائے گی…..
  • حقیقی یا تمثیلی ہونے کے ضمن میں بھی اختلاف واقع ہوا ہے
  • جمہور علماء کا رجحان یہی ہے کہ یہ حقیقی اقوام ہیں جو ایک وقت پر نکلیں گی اور زمین پر ظاہر ہوں گی (ابن تیمیہ، ابن باز  اور دیگر علماء کے نزدیک یہ احادیث لفظی معنی پر مبنی ہیں، یعنی یأجوج و مأجوج ایک حقیقی قوم ہیں جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی)
  • ڈاکٹر طہٰ جابر العلوانی جیسے مفکرین کا خیال ہے کہ یہ احادیث تمثیلی انداز میں انسانی تباہ کن صلاحیتوں (جیسے جوہری ہتھیار، ماحولیاتی تباہی) کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جاوید احمد غامدی بھی اسے تمثیلی مانتے ہیں کہ یہ دراصل انسانی مادہ پرست تہذیب یا عالمی قوتوں کی علامت ہو سکتی ہے جو دین و اخلاق کے بغیر دنیا پر چھا جائیں گی۔
  • علامہ یوسف القرضاوی کے مطابق یہ احادیث منگول حملوں کی پیش گوئی ہو سکتی ہیں، جو اسلامی تہذیب کے لیے آزمائش بنے۔
  • یأجوج و مأجوج کا مسئلہ غیبی امور میں سے ہے( جس سے مکمل طور پر پردہ نہیں ہٹایا گیا)، جس پر مکمل یقین رکھنا ضروری ہے، لیکن ان کی تاریخی یا جغرافیائی تعین میں احتیاط لازم ہے۔ قرآن و حدیث کے بیانات کو استعاراتی اور حقیقی دونوں پہلوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے۔
  • جدید دور میں ان کی تشریح انسانی تہذیب کے بحران سے جوڑنا بھی معنی خیز ہے، یأجوج و مأجوج کی علامتی تصویر، تہذیبی انتشار کی نشاندہی کرتی ہے۔
  •  آخرت کی نشانی کے طور پر ان کا ظہور انسانیت کو توبہ اور اصلاح کی طرف راغب کرنے کا ذریعہ ہے

قرآن و سنت کی روشنی اور تاریخی و جدید تحقیقی تجزیے کی بنیاد پر یاجوج و ماجوج ایسی عالمی طاقتیں ہیں جو کسی خاص نسل یا قوم تک محدود نہیں۔ ان کی اصل اہمیت ان کےکردار، اثر، اور فتنہ انگیزی میں ہے نہ کہ صرف ان کی جغرافیائی شناخت میں

یاجوج و ماجوج کا خروج قیامت کی بڑی علامات میں سے ایک ہوگا

یہ ممکن ہے ان کا ظہور کسی عظیم عالمی جنگ کی صورت میں ہو یا یا جدید ٹیکنالوجی، AI، یا عالمی سیاسی طاقت کی ایسی یلغار کی شکل میں جو اخلاقی اقدار اور عدل و انصاف کو تہس نہس کر دے ( اللہ اعلم)

یاجوج و ماجوج کا تصور قرآن و سنت میں فساد، غلبہ، اور انکارِ الٰہی کی علامت ہے۔ ان کی شناخت ممکن ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید واضح ہو، لیکن ان کے خطرے سے بچاؤ کا واحد راستہ وہی ہے جو قرآن نے ذوالقرنین کی زبان سے دیا:”فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ….یعنی اہلِ ایمان کا اجتماعی عزم، جدوجہد، اور دینی قیادت)- خوفِ خدا رکھنے والی قوت کا ساتھ جو زمین پر  عدل و انصاف اورامن کی ضامن ہو)

`