- حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر قرآن ِ مجید میں سورة نساء، سورة انعام ، سورة یونس اور سورة الصافات میں نام کے ساتھ آیا ہے اور سورة انبیاء میں “ صاحب الحوت” اور سورة القلم میں “ ذوالنون ” کے لقب سے
- قرآنِ مجید میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کے صرف اسی پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے جو ان کی پیغمبرانہ زندگی سے وابستہ ہے اور جس میں رشد و ہدایت کے مختلف گوشے دعوت بصیرت سے متعلق ہیں
- ایک حدیثِ مبارکہ میں آپ کو یونس بن متیٰ کے نام سے یاد کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد کا نام متیٰ تھا ( انجیل کی کتب میں آپ کا نام یوناہ بن امتی ہے جو عربی اور عبرانی زبانوں کی لفظی تعبیر کا فرق ہے)
-
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی وَنَسَبَهُ إِلَی أَبِيهِ –
-
کسی بندہ کو یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں اور آپﷺنے انھیں ان کے باپ کی طرف منسوب کیا
- بائیبل میں آپ کا نام “ یوناہ Jonah))” آیا ہے، جن کا زمانہ سن 784 سے سن 860 ء قبل مسیح کے درمیان کا ہے
- آپ بنی اسرائیل میں سے تھے لیکن آپ کو اشور (Assyria ) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا اور اسی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے, اس قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینوی(Nineveh ) کا مشہور شہر تھا جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں
- جس زمانہ میں یونس ؑ نینویٰ کے باشندوں کی ہدایت کیلئے مبعوث ہوئے وہ زمانہ آشوری حکومت کے عروج کا زمانہ تھا مگر ان کا طرز حکومت قبائلی تھا اور ہر ایک قبیلے کا جدا جدا حکمران یا بادشاہ ہوتا تھا اور نینویٰ ان قبائلی حکومتوں کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا

- تفسیری مباحث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں آپ کی قوم انکار پر اڑی رہی۔ جب آخری حجت کے بعد ان لوگوں پر عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو حضرت یونسؑ انھیں چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے جاتے انھیں یہ خبر دے گئے کہ اب تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا ،جبکہ اللہ کی طرف سے آپ کوقوم کو چھوڑ کر جانے کی ابھی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی
- اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ 21/87یاد کرو جبکہ وہ مچھلی والا (حضرت یونس علیہ السلام) بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے
- تیسرے دن جب عذاب کے آثار نمودار ہوئے یونس (علیہ السلام) کی قوم نے اجتماعی طور پر توبہ کی اور عذاب آنے سے قبل ہی علی الاعلان ایمان قبول کرلیا اور یوں آپ کی قوم کا یہ استثنا ان آیات میں مذکور ہے کہ عذاب کا فیصلہ ہو جانے کے بعد کسی قوم کا ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہوا سوائے قومِ یونس کے
- امام رازی اور امام قرطبی رحمہما اللہ کے نزدیک قوم یونس علیہ السلام پر حقیقی عذاب آگیا ہوتا تو کبھی نہ ٹلتا اور نہ توبہ قبول ہوتی کیوں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ ﴿٨٤﴾ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ ﴿٨٥﴾ جب وہ ہمارا عذاب دیکھتے تو کہتے ہم خدائے یکتا پر ایمان لاتے ہیں اور جن (جھوٹے خداؤں کو) ہم اللہ کے ساتھ ملاتے تھے ان سے انکار کرتے ہیں، مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان انھیں فائدہ نہیں دیتا تھا، اللہ یہی سنت اس کے بندوں میں اس سے پہلے جاری رہی ہے (سورة غافر/مومن)
- یہی فرق ہے قوم یونس کی توبہ قبول ہونے اور فرعون کی توبہ نہ قبول ہونے میں، کے فرعون پر عذاب اتر آیا تھا اور ڈوب رہا تھا تب وہ ایمان لایا اور تائب ہوا تو اس کی توبہ نہ مانی گئی اور قوم یونس عذاب کے ابتدائی آثار دیکھتے ہی ایمان لے آئی اس لئے عذاب ٹل گی
اطلس القرآن- حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو چھوڑ کر بستی سے نکل آئے، دریا کے کنارے مسافروں سے بھری کشتی روانگی کے لیے تیّار کھڑی تھی۔ آپ بھی اس میں سوار ہو گئے۔
- کشتی ابھی کچھ دُور ہی گئی تھی کہ طوفانی ہوائیں چلنے لگیں، کشتی ڈگمگانے لگی اور اس کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ کشتی کے ملّاحوں نے اپنے عقیدے کے مطابق کہا کہ “معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آقا سے بھاگا ہوا کوئی غلام کشتی میں سوار ہو گیا ہے۔ جب تک اسے نکالا نہیں جائے گا اس مصیبت سے نجات نہیں ملے گی۔
- یونس علیہ السّلام نے کشتی والوں سے فرمایا، “میں ہوں وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگ کر آیا ہے۔ مجھے کشتی سے نیچے پھینک دو۔”لیکن انہوں نے آپ کو کشتی سے نیچے پھینکنے سے انکار کر دیا۔ اور یہ طے پایا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جس کا نام نکلے اُسے کشتی سے نکال دیا جائے گا۔ قرعہ اندازی ہوئی۔ جس میں حضرت یونس علیہ السّلام کے نام ہی کا قرعہ نکلا
- إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ﴿١٤٠﴾ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ ﴿١٤١﴾ فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ﴿١٤٢﴾ – ’’ اور یقیناً یونس بھی رسولوں میں سے تھا یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور نکلا خطاوار پھر مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘سورة الصافات
- حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں اپنی بھول کا احساس ہوا اور آپ اپنی بھول پر نادم اور شرمسار ہوئے، اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہوئے معافی طلب کی رحیم و کریم ہستی اللہ نے دعا قبول کی اور آپ کو اس تکلیف سے نجات عطا کی فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ٨٧ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ ٨٨ – (الأنبياء)
واقعۂ قوم یونس علیہ السلام – رموز و اسباق
- دعوتِ حق کے راستے میں ناکامیوں سے دلبرداشتہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور تمام مخلوق سے سب سے زیادہ محبّت اور شفقت فرمانے والا ہے۔ اور اِن کی بڑی سے بڑی نافرمانیوں کو دل سے توبہ اور آئندہ گناہ نہ کرنے کے سچے وعدے پر معاف فرما دیتا ہے۔
- مشکلات میں صبر سے کام لینا چاہیے (فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ۔ القلم: ۴۸ پس (اے نبی ﷺ !) اپنے ربّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونسؑ)کی طرح نہ ہو جاو۔ جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہو۱ تھا۔
- کسی مشکل یا پریشانی کی حالت میں اللہ کی طرف رجوع اور سچے دل سے توبہ مشکل سے نجات کا باعث بنتی ہے
- قوموں کی نافرمانی کی صورت میں اجتماعی توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ ہی کارآمد ہوتا ہے
- عجلت اور غضب ناکی دینی حمیت میں بھی کوئی مستحسن چیز نہیں – وقتِ موعود سے پہلے ملاقات کے لیے پہنچنے پر موسیٰ علیہ السلام کا مواخذہ اور وقتِ موعود سے پہلے بستی چھوڑنے پر یونس علیہ السلام کو سرزنش کی گئی
- یہ ملامت و سرزنش کسی کبیرہ یا صغیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے نہ تھی ، بلکہ اس کا سبب صرف ترک اولیٰ تھا ، جو ان سے سر زد ہوا
- اللہ تعالیٰ پر ایمان اور گناہ سے توبہ، آثار و برکات کے علاوہ ، دنیا کی ظاہری نعمتوں کا رخ بھی انسان کی طرف موڑ دیتی ہے ، خوشحالی آتی ہے اور زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا سبب بنتی ہے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر