تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ
یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے کسی سے اللہ نے (براہِ راست) کلام فرمایا اور کسی کو درجات میں (سب پر) فوقیّت دی (یعنی حضور نبی اکرم ﷺکو جملہ درجات میں سب پر بلندی عطا فرمائی)، اور ہم نے مریم کے فرزند عیسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں عطا کیں اور ہم نے پاکیزہ روح کے ذریعے اس کی مدد فرمائی (البقرة- 253 )
- اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو مختلف خصوصیات میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور قرآن پاک میں ان فضائل کو بیان بھی کیا ہے
- انبیاء اور رسل بعض بعض سے افضل ہیں، رسول انبیاء سے افضل ہیں اور رسولوں میں سے اولو العزم رسول افضل ہیں اور اولو العزم رسل پانچ ہیں جن کا اللہ تعالی نے قرآن کی دو آیات میں ذکر کیا ہے۔
- احادیث مبارکہ میں بھی دیگر انبیا ء علیہ السلام کے فضائل بیان ہوئے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی فضیلت بھی۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، “مجھے نبیوں پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے:۱) مجھے جامع کلام کرنے کا ملکہ دیا گیا ہے۔۲) رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔۳) غنائم کو میرے لیے حلال کیا گیا ہے۔۴) زمین کو میرے لیے پاکیزہ اور سجدہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔۵) مجھے تمام مخلوقات کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔۶) نبوت مجھ پر ختم کی گئی ہے۔” (صحیح مسلم:523)
- لیکن اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات بتاتے ہو ئے یہ بھی فرمایا کہ ” كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اوراس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے” (البقرۃ – 285 )
احادیث مبارکہ میں بھی متعدد ایسی روایات موجود ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ نے انبیاء و رُسل کو ایک دوسرے پر ترجیح دینے کی ممانعت کی ہے:
- سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ” میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے انصار نے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا، میں تو اللہ کا بندہ ہوں اور کچھ نہیں، پس اس طرح کہو کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول۔” (البخاری :3261)
- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺفرمایا ” نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو “صحیح البخاری(2412)، صحیح مسلم، مسند احمد
- اس سے مراد ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے۔
- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى” عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ”کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں – صحیح البخاری(3395)، صحیح مسلم، مسند احمد
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ ﷺ كي پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا: ” مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ”
(عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) – صحیح البخاری، صحیح مسلم، مسند احمد
- رسول اکرم ﷺنے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرمﷺموسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ علیہ السلام کے بے ہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء علیہ السلام قابل احترام ہیں
- ایک مرتبہ جب نبی اکرم ﷺ کوخیر الخلائق کہا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ تو ابراہیم تھے۔ (ابی داؤد : 4672)
- ایک موقع پر سب سے زیادہ باعزت انسان کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺحضرت یوسفؑ کا نام لیا، (البخاری: 3194)
- حضورﷺنے اپنی فضیلت کے بعض پہلو بھی گنوائے۔ مثلاً ایک روایت میں فرمایا کہ میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا،(مسلم: 2278)
- ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ ” نبیوں میں فضیلتیں قائم نہ کیا کرو”۔ (صحیح بخاری:3414)
- ان تمام ہدایات کے باوجود جن میں انبیاء علیہ السلام کے درمیان فضیلت و ترجیح بیان کرنے کو منع کیا گیا ہے، مسلمان وہ سب کچھ کر رہے ہیں جس سے روکا گیا تھا۔ حتیٰ کے دیگر انبیا ء کرام کو حضورؐ کے در کے ’سوالیوں‘ کے مقام پر پہنچا دیا گیا ہے، حالانکہ قرآن پاک میں حضور کو ان نبیوں کی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ( الانعام 90:6)۔
- یہ صورتحال اور یہ نظریات عام کرنے میں شاعروں ، قوالوں ، پیشہ ور نعت خوانوں اور عوامی خطیبوں کا ایک نمایاں حصہ ہے جن کی معاش اس سے جڑی ہوئی ہے
- ہمارے لیےیہی حکم ہے کہ ہم انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات وخصوصیات کا ذکر مثبت انداز میں کریں، کسی ایمان والے کے لیے ایک نبی کا دوسرے نبی سے موازنہ کرنا اور ایک کو دوسرے پر فضیلت دینا خصوصاً جب کسی نبی علیہ السلام کی شان میں کمی آتی ہو ، اس سے ہمیں منع کیا گیا ہے کیونکہ مرتبہ نبوت کے اعتبار سے تمام انبیاء برابر ہیں
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر