قلب،فواد  اور صدر کا فرق

قلب

  • قرآنِ مجید میں قلب ان معنوں میں آیا ہے  جن معنی میں ہم  اسے  بطورِ ایک عضو کے جانتے ہیں یعنیHeart    کے معنی میں، جو  روح وحیات کا منبع ہے
  • فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ ۲۵/۴۶ ، آنکھیں اندھی نہیں ہو جاتی بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں
  • وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ ۳۳/۱۰ ،اور یاد کرو جبکہ آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور دل، گلوں میں پہنچ گئے تھے
  • … ألا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً، إذا صَلَحَتْ، صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذا فَسَدَتْ، فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألا وهي القَلْب – (صحيحین)، سن لو! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر وہ درست ہو تو پورا بدن درست رہتا ہے اور اگراس میں کوئی خرابی آجائے تو پورے بدن میں خرابی آجاتی ہے۔ سن لو! وہ دل ہے
  • اللہ تعالیٰ  نے   دل کو  ہی  عقل ، فہم ، سوچ اور فکرکے لیے مخاطب  بنایا ہے ، قرآن مجید سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بے شک  قلب ایک عضو تو ہے  لیکن عقل کا محل اور مقام بھی یہی قلب ہے دماغ نہیں، ےجیسے اللہ نے فرمایا کہ لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا: ان کے دل ہیں، مگر ان سے سمجھتے نہیں ہیں (اور یہی  قلب روح کا بھی مقام ہے)
  •   قرآن مجید نے سوچنے سمجھنے کی نسبت دل کی طرف کی ہے کہ جس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ یہ کام تو دماغ کا ہے لہذا قلب سے مراد دماغ ہے۔ حالانکہ ذرا سا غور کریں تو قرآن مجید اس معاملے میں واضح ہے کہ انسان کا سوچنا سمجھنا دو سطح پر ہے؛ حیوانی سطح پر اور انسانی سطح پر۔
  • وانی سطح پر انسان کا دیکھنا، سننا اور سوچنا اس کا تعلق کان، آنکھ اور دماغ سے ہے لیکن انسانی سطح پر دیکھنے، سننے اور سوچنے کا تعلق انسان کی روح سے ہے کہ جس کا محل، قلب ہے
  • ” آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں”  اس آیت میں دیکھنے کی نسبت آنکھوں اور دل دونوں کی طرف ہے لیکن قرآن مجید نے یہ واضح کیا ہے کہ اصل بینا وہ ہے کہ جس کا دل بینا ہو۔ آنکھوں سے دیکھنے کا کام تو جانور بھی کر رہے ہیں

فؤاد

  • فؤاد   کا معنی بھی دل  لیکن یہ  لفظ اس عضو کے لیے  استعمال نہیں ہوتا جو سینے میں دھڑکتا ہے بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک ، جذبات و خواہشات ، عقائد و افکار اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے      اس سورت ( آیت ۱۱۰) میں جب اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ہم ان کے دلوں کو الٹا دیتے ہیں تو اس سے مراد وہ عضو نہیں کہ اس کو الٹ دیتے ہیں بلکہ  دل سے متعلق  خصوصیات (شعور و ادراک ، جذبات و خواہشات ، عقائد و افکار )  کا الٹ جانا مراد ہیں
  • فؤاد کا لفظ گرمی اورشدیدحرارت پردلالت کر تاہے ۔ لہٰذا جہاں انسان کے جذ با ت کی شدت اور اس کی تاثیر کا ذکر آئے گا وہاں اس لفظ کا استعمال ہوگا،  گویا  فؤاد دل کی ایک کیفیت اور حالت ہے۔
  • مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ۵۳/۱۱     آپ ﷺکے دل نے اس کو نہیں جھٹلایا کہ جس کو آپؐ نے دیکھا۔  یہاں فؤاد سے مراد مقام معرفت ہے جو دل کی ایک حالت اور کیفیت ہے
  • قرآن مجید کی ایک آیت میں فواد اور قلب دونوں لفاظ  کو جمع کیا گیا ہے جس سے  ان میں فرق  کو سمجھا جا سکتا ہے

−َأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِغًا ۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ  ۲۸/۱۰ ۔ اور موسی علیہ السلام کی والدہ کا دل خالی ہو گیا تھا اور قریب تھا کہ وہ راز کو ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کر دیتے

−تو یہاں فؤاد (دل ) کے  خالی ہونے سے مراد  پختگی اور میچورٹی کی کیفیت سے خالی ہونا ہے

−قرآن مجید میں جہاں جہاں فؤاد کا لفظ آیا ہے وہاں(۱) ایسا  دل مراد ہے جو جذبات کی کسی کیفیت  سے متعلق  ہے یا (۲) وہاں مطلقاً  جذبات و احساسات مراد  ہیں

−مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ  ۱۴/۴۳، (اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

− إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا  ۱۷/۳۶، کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے.  یہاں دل سے مراد سوچ،  فکر، جذبات و احساسات ہیں جو اچھے اور برے ہو سکتے ہیں

صَدْر

صَدْر : بمعنی   سینہ  ( اور سینے کے اندر ہی دل ہوتا ہے )

−فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ 22:46 حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

−کبھی صرف الصُّدُورِ کہہ کر قلوب مراد لے لیے جاتے ہیں ۔ اب چونکہ صَدْر  کا تعلق  ظرف زمان (Place adverb) سے ہے، لہٰذا اگر  دل کی تنگی یا کشادگی  کا ذخر  مطلوب ہو تو صَدْر  کا لفظ آئے گا مثلاً:

−وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ، ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے [15:97]

−أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۔( اے نبیؐ) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا؟ [94:1]

−اسی  طرح  راز کی بات کے چھپانے ، خیالات، اور وساوس  کے ذکر میں بھی صَدْر  کا استعمال ہو گا

Check Also

قوانین کی اقسام – فقہی و قانونی اصطلاحات

    فوجداری قانون: وہ قانون جو جرائم اور ان کی سزاؤں سے متعلق ہو۔مثلاً: …