سلام کی اہمیت و فضیلت

معانی اور مفہوم:

  • سلام سے مراد سلامتی ، امن اور عا فیت ہے
  • امام راغبؒ نے  اس کے معانی ” ظاہری اور باطنی آفات و مصائب سے محفوظ رہنا ” بتائے ہیں  (التعري من الآفات الظاهرة والباطنة – مفردات غريب القرآن عن امام راغبؒ)
  • سلامتی میں انسان کی ساری زندگی،  اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں، گویامخاطب کو   سلام کا مطلب ہوا کہ “تمہاری دنیا اور آخرت کی زندگی کے تمام معمولات اور انجام ،امن اور عافیت والے ہوں”
  • اس مفہوم کو نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیثِ مبارکہ واضح کرتی ہے ” المُسْلِمُ مَن سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسانِهِ ويَدِهِ …. صحیح معنوں میں مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان امن اور عافیت میں رہیں – البخاري  و مسلم”
  •  لفظ “ سلام ” اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، اور “  السلام علیکم ”کے معنی ہیں “ الله رقیب علیکم ” یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا محافظ اور نگہبان ہو (احکام القرآن – علامہ ابن العربی)
  • سلام تو در حقیقت اللہ تعالیٰ کا وہ پیارانام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زمین پر اتارا ہے ،لہٰذا اس سے بہتر کوئی سلام کیسے ہو سکتا ہے (السلامُ اسمٌ من أسماءِ اللهِ وضَعَهُ اللهُ في الأرضِ )؟ مرقاة  من ملا علی قاریؒ

سلام –   اسلامی تہذیب کا  ایک   شعار

  • دنیا میں تمام لوگ ملاقات کے وقت اپنے مذہب، تہذیب و تمدن اور اخلاق و اطوار کی بنا پر  ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہیں جیسے ہیلو (Hello)،  ہائے (Hi)، good morning, good evening، نمستے،  ست سری اکال وغیرہ
  • زمانہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ سلام کرنے کے لئے مختلف الفاظ استعمال کرتے تھے۔ کچھ لوگ حیاک الله (اللہ تجھے زندہ رکھے)کہتے، کچھ  أَنْعَمَ صَبَاحًا (تمہاری صبح اچھی اور خوش گوار ہو/صبح بخیر) کہتے، کچھ  أَنعَمَ الله بك عينًا کہتے یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے
  • آپ ﷺ نے اس طرزِ تحیات کو بدل کر  ’’السلام علیکم ‘‘ کہنے کا طریقہ جاری فرمایا، وہ الفاظ جن کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دی تھی۔
  • اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ  السلام علیکم کے الفاظ ملاقات کے وقت استعمال کرنا شعائر اسلام یعنی اسلام کی نشانیوں میں سے ہے اور صبح بخیر،  شب بخیر،  آداب،  صباح النور،  مساء الخیر جیسے الفاظ سے  سلام ادا نہیں ہوتا  اور سلام کرنے کے ان  الفاظ سے احتراز کرنا چاہیے اور ان کو رواج نہ دینا  چاہیے۔  البتہ اگر غیر مسلموں کے ساتھ ان لفاظ کو ادا کیا جا سکتا ہے
  • ہر مسلمان سے ملاقات کے وقت سلام کرنا سنت رسول ﷺ ہے  اور آپ ﷺنے مسلمانوں کے باہمی “سلام ”کو رواج دینے کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور اس عمل کو سب اعمال سے افضل قرار دیا ہے اور اس کے فضائل و برکات اور اس کا (خوب) اجر و ثواب بیان فرمایا ہے ( جو آگے درج ہے)
  • سلام  کا موازنہ دیگر طریقہ ہائے سلام سے
  • “سلام” کا اگر دیگر مہذب قوموں کے  ملنے کے وقت کے الفاظ اور طریقوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوگا کہ” سلام” جتنا جامع ہے کوئی دوسرا لفظ یا طریقہ اتنا جامع نہیں  ہے
  • “سلام” صرف اظہارِ محبت ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ادائے حق محبت بھی ہے کہ اس میں ایک سلام کرنے والا مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکرتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو تمام آفات و بلیات سے سلامت رکھے
  •  پھر یہ دعابھی عرب لوگوں کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی نہیں بلکہ “حیاتِ طیبہ”( یعنی تمام آفات و بلیات سے محفوظ رہنے ) کی دعاہوتی ہے
  • اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ میں اور آپ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اورہم دونوں ایک دوسرے کو نفع اور ضرر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچاسکتے ۔ اس معنی و مفہوم کے اعتبار سے یہ کلمہ (سلام) ایک عبادت بھی ہے اور اپنے مسلمان بھائی کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلانے کا ذریعہ بھی۔
  • سلام میں یہ بات بھی مضمر ہے   کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہا ہے کہ میرے مخاطب کو تمام آفات و بلیات سے محفوظ فرمادے،  اس سے وہ یہ وعدہ بھی کر رہا ہےکہ مجھ سے تمہاری جان، مال اور عزت سلامت  ( محفوظ ) ہے

Check Also

نُورٌ عَلیٰ نُورٍ(نور پر نور)

“نُورٌ عَلیٰ نُورٍ” (نور پر نور) آیتِ نور کا وہ مرکزی جملہ ہے جو پوری …