معانی اور مفہوم:
- سلام سے مراد سلامتی ، امن اور عا فیت ہے
- امام راغبؒ نے اس کے معانی ” ظاہری اور باطنی آفات و مصائب سے محفوظ رہنا ” بتائے ہیں (التعري من الآفات الظاهرة والباطنة – مفردات غريب القرآن عن امام راغبؒ)
- سلامتی میں انسان کی ساری زندگی، اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں، گویامخاطب کو سلام کا مطلب ہوا کہ “تمہاری دنیا اور آخرت کی زندگی کے تمام معمولات اور انجام ،امن اور عافیت والے ہوں”
- اس مفہوم کو نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیثِ مبارکہ واضح کرتی ہے
“المُسْلِمُ مَن سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسانِهِ ويَدِهِ ….”
صحیح معنوں میں مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان امن اور عافیت میں رہیں – البخاري و مسلم
- لفظ “ سلام ” اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، اور “ السلام علیکم ”کے معنی ہیں “ الله رقیب علیکم ” یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا محافظ اور نگہبان ہو (احکام القرآن – علامہ ابن العربی)
- سلام تو در حقیقت اللہ تعالیٰ کا وہ پیارانام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زمین پر اتارا ہے ،لہٰذا اس سے بہتر کوئی سلام کیسے ہو سکتا ہے (السلامُ اسمٌ من أسماءِ اللهِ وضَعَهُ اللهُ في الأرضِ )؟ مرقاة من ملا علی قاریؒ
سلام – اسلامی تہذیب کا ایک شعار
- دنیا میں تمام لوگ ملاقات کے وقت اپنے مذہب، تہذیب و تمدن اور اخلاق و اطوار کی بنا پر ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہیں جیسے ہیلو (Hello)، ہائے (Hi)، good morning, good evening، نمستے، ست سری اکال وغیرہ
- زمانہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ سلام کرنے کے لئے مختلف الفاظ استعمال کرتے تھے۔ کچھ لوگ حیاک الله (اللہ تجھے زندہ رکھے)کہتے، کچھ أَنْعَمَ صَبَاحًا (تمہاری صبح اچھی اور خوش گوار ہو/صبح بخیر) کہتے، کچھ أَنعَمَ الله بك عينًا کہتے یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے
- آپ ﷺ نے اس طرزِ تحیات کو بدل کر ’’السلام علیکم ‘‘ کہنے کا طریقہ جاری فرمایا، وہ الفاظ جن کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دی تھی۔
- اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ السلام علیکم کے الفاظ ملاقات کے وقت استعمال کرنا شعائر اسلام یعنی اسلام کی نشانیوں میں سے ہے اور صبح بخیر، شب بخیر، آداب، صباح النور، مساء الخیر جیسے الفاظ سے سلام ادا نہیں ہوتا اور سلام کرنے کے ان الفاظ سے احتراز کرنا چاہیے اور ان کو رواج نہ دینا چاہیے۔ البتہ اگر غیر مسلموں کے ساتھ ان لفاظ کو ادا کیا جا سکتا ہے
- ہر مسلمان سے ملاقات کے وقت سلام کرنا سنت رسول ﷺ ہے اور آپ ﷺنے مسلمانوں کے باہمی “سلام ”کو رواج دینے کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور اس عمل کو سب اعمال سے افضل قرار دیا ہے اور اس کے فضائل و برکات اور اس کا (خوب) اجر و ثواب بیان فرمایا ہے ( جو آگے درج ہے)
- سلام کا موازنہ دیگر طریقہ ہائے سلام سے
- “سلام” کا اگر دیگر مہذب قوموں کے ملنے کے وقت کے الفاظ اور طریقوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوگا کہ” سلام” جتنا جامع ہے کوئی دوسرا لفظ یا طریقہ اتنا جامع نہیں ہے
- “سلام” صرف اظہارِ محبت ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ادائے حق محبت بھی ہے کہ اس میں ایک سلام کرنے والا مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکرتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو تمام آفات و بلیات سے سلامت رکھے
- پھر یہ دعابھی عرب لوگوں کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی نہیں بلکہ “حیاتِ طیبہ”( یعنی تمام آفات و بلیات سے محفوظ رہنے ) کی دعاہوتی ہے
- اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ میں اور آپ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اورہم دونوں ایک دوسرے کو نفع اور ضرر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچاسکتے ۔ اس معنی و مفہوم کے اعتبار سے یہ کلمہ (سلام) ایک عبادت بھی ہے اور اپنے مسلمان بھائی کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلانے کا ذریعہ بھی۔
- سلام میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہا ہے کہ میرے مخاطب کو تمام آفات و بلیات سے محفوظ فرمادے، اس سے وہ یہ وعدہ بھی کر رہا ہےکہ مجھ سے تمہاری جان، مال اور عزت سلامت ( محفوظ ) ہے
سلام کا موازنہ دیگر طریقہ ہائے سلام سے
- “سلام” کا اگر دیگر مہذب قوموں کے ملنے کے وقت کے الفاظ اور طریقوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوگا کہ” سلام” جتنا جامع ہے کوئی دوسرا لفظ یا طریقہ اتنا جامع نہیں ہے
- “سلام” صرف اظہارِ محبت ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ادائے حق محبت بھی ہے کہ اس میں ایک سلام کرنے والا مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکرتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو تمام آفات و بلیات سے سلامت رکھے
- پھر یہ دعابھی عرب لوگوں کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی نہیں بلکہ “حیاتِ طیبہ”( یعنی تمام آفات و بلیات سے محفوظ رہنے ) کی دعاہوتی ہے
- اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ میں اور آپ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اورہم دونوں ایک دوسرے کو نفع اور ضرر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچاسکتے ۔ اس معنی و مفہوم کے اعتبار سے یہ کلمہ (سلام) ایک عبادت بھی ہے اور اپنے مسلمان بھائی کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلانے کا ذریعہ بھی۔
- سلام میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہا ہے کہ میرے مخاطب کو تمام آفات و بلیات سے محفوظ فرمادے، اس سے وہ یہ وعدہ بھی کر رہا ہےکہ مجھ سے تمہاری جان، مال اور عزت سلامت ( محفوظ ) ہے
سلام کی اہمیت و فضیلت (قرآنِ کریم میں)
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا،
وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا ۔
اور جب تمہیں کوئی سلام کہے تو اسے سلام کا بہتر جواب دو یا کم سے کم اتنا ہی ضرور لوٹا دو۔ (النساء، 86)
سورۃ النور میں ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا(24:27)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو
قرآنِ کریم میں متعدد آیات ہیں جو سلام کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں :
-
وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ… ﴿سورة الزمر، ٧٣﴾،
تو داروغہ جنت ان سے کہے گا ۔تم پر سلام ہو ،تم بہت اچھے رہے ۔اب اس میں ہمیشہ کے لیئے داخل ہو جاؤ
-
وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ… ﴿سورة الأعراف، ۴۶﴾،
تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو
-
دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ… ﴿سورة يونس، ۱۰﴾،
جب وہ ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بے ساختہ کہیں گے “سبحان اللہ “اور آپس میں ان کی دعا “سلام ” ہو گی
-
يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴿سورة النحل، ۳۴﴾
وہ السلام علیکم کہیں گے کہ داخل ہو جاؤ جنت میں…
-
تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيمًا … ﴿سورة يالأحزاب، ۴۴﴾،
جس روز وہ ان سے ملیں گے ان کا تحفہ (اللہ کی طرف سے ) سلام ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
-
فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ… ﴿سورة النور، ۶۱﴾،
جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعا ئے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فر مائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ
-
وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ﴿٢٣﴾ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴿٢٤﴾… ﴿سورة الرعد﴾،
ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گےاور اُن سے کہیں گے کہ “تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو” پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!
-
وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ ﴿سورة الزمر،۷۳﴾،
اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ “سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے”
-
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ ﴿٢٤﴾ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ ﴿٢٥﴾﴿سورة الذاريات﴾
کیا ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے؟ جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے اُس نے کہا “آپ لوگوں کو بھی سلام ہے
سلام کی اہمیت و فضیلت ( احادیث مبارکہ میں)
- حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان سے فرمایا کہ ان فرشتوں کے پاس جاؤ اور انھیں سلام کرو اور سنو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہاری اولاد کے سلام کا جواب ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے السلام علیکم کہا فرشتوں نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ کہا ( صحیح بخاری: 6227)
- حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔کیا میں تم کو ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو۔ اپنے درمیان سلا م کو عام کرو۔ (سنن ابی داؤد: 5193)
-
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! الرَّجُلاَنِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ؟ فَقَالَ: “أَوْلاَهُمَا بِاللهِ”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے (سنن ابی داود )
- عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ تَدْخُلُوا الجَنَّة حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُوا، أَوَلاَ أَدُلُّكُم عَلَى شَيءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُم؟ أَفْشُوا السَّلاَم بَينَكُم
آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ گے اور اس وقت تک مومن نہ ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو گے، کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤ ں کہ جس ہر عمل کرنے سے تم باہم محبت کرنے لگو :یہ کے سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ (مسلم)
- حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : ” بڑا بخیل وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں بخل کرے۔”( طبرانی ، معجم کبیر)
- حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : “ سلام” اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا ہے ، اس لئے تم آپس میں “ سلام” کو عام کرو ، کیوں کہ مسلمان آدمی جب کسی مجلس میں جاتا ہے اور اہل مجلس کو سلام کرتا ہے تو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا ایک بلند مقام حاصل ہوجاتا ہے ، کیوں کہ اس نے سب کو “ سلام” (یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد دلائی) اگر مجلس والوں نے اس کے “ سلام” کا جواب نہ دیا تو ایسے لوگ اس کے “ سلام” جواب دیں گے جو اس مجلس والوں سے بہتر ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق فرشتے)۔(مسند بزار ، معجم کبیر )
- حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگو! خداوند رحمن کی عبادت کرو اور بندگانِ خدا کو کھانا کھلاؤ (محتاج اور مسکین بندوں کو بطور صدقہ کے اور دوستوں عزیزوں اور اللہ کے نیک بندوں کو بطور ہدیہ، اخلاص اورمحبت کے کھانا کھلایا جائے، جو لوگوں کو جوڑنے اور باہم محبت والفت پیداکرنے کا بہترین وسیلہ ہے) اور سلام کو پھیلاؤ تو تم پوری سلامتی کے ساتھ جنت میں پہنچ جاؤگے(سنن ابی داود و الترمذی )
- آپ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے، پھر کچھ دیر بعد دیوار، درخت یا پتھر درمیان میں حائل ہوجائے تو پھر دوبارہ سلام کرے، یعنی جتنی بار ملاقات ہواتنی بار سلام کرتا رہے(سنن ابی داود )
سلام کے آداب
- سلام کرنا سنت ہے ، مگر اس کا جواب دینا واجب ہے
- سلام جمع کے صیغے کے ساتھ کیا جائے اور جوان بھی جمع کے صیغے کے ساتھ چاہے سلام کرنے والا اور جواب دینے والا فردِ واحد ہوں
- آپس میں ملاقات کے وقت بات چیت اور گفتگو سے قبل سلام کریں ( اس کا اطلاق ٹیلی فون اور آن لائن گفتگو پر بھی)،
ٹیلی فون پر ہیلو کی بجائے سلام کہنا مسنون ضمرے میں آئے گا ، یہ احسن ہے اور باعث اجر ہو گا ، تاہم اگر پہلے سے معلوم ہو کہ فون کرنے والا غیر مسلم ہے تو سلام (greeting) کا کوئی دوسرا مروجہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے
- اپنے مکتوبات( خطوط، پیغامات، ای میل) کا آغاز بھی سلام سے کریں،( نبی اکرم ﷺ نے جو خطوط لکھے ان کا آغاز سلام سے کیا)
- گھر میں داخل ہوں تو پہلے سلام کریں (نبی کریم ﷺ جب رات کو اپنے گھر میں داخل ہوتے تو اس طرح سلام کرتے کہ جاگنے والا سن لے اور جو سویا ہوا ہو وہ نہ جاگے)
- کسی کے گھر جائیں تو پہلے سلام کریں اور پھر اجازت طلب کریں (جب آپ ﷺ کسی دروازے پر تشریف لے جاتے تھے تو دروازے کے بالمقابل کھڑے نہ ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے تھے اور السلام علیکم کہتے تھے)
- کسی بڑے مجمع میں جائیں تو اتنت زور سے سلام کریں کہ سب سن لیں یا دوسری اور تیسری بار سلام کریں ( سب تک سلام پہنچانے کے لیے (جب لوگ زیادہ ہوتے اور ایک بار میں سلام نہیں پہنچ پاتا تو تین بار سلام کہتے تھے۔ جب آپ کو خیال ہوتا کہ پہلی اور دوسری بار نہیں سُنا تو سہ بار سلام کرتے تھے)
- سلام میں پہل کریں ( نبی اکرم ﷺ جس سے ملتے پہلے آپ ؐ سلام کرتے)
- سلام کا اضافے کے ساتھ جواب دیں، ( السلام علیکم کے جواب میں و علیکم السلام ورحمۃ اﷲ و برکاۃ کہیں)
- سلام اتنی بلند آواز سے کرے کہ سلام کیے جانے والے کو بآسانی آواز پہنچ جائے
- عزیز، دوست، چھوٹے، بڑے، جانے پہچانے اور انجانے سب کو سلام کریں -( البخاری)
- چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے -( البخاری)
- سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے -( البخاری)
- پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے -( البخاری)
- چھوٹا بڑے کو سلام کرے -( البخاری)
- اگر کوئی غائب شخص سلام پہنچائے تو اس طرح جواب دے، وعلیك وعلیه السلام ورحمة اللّٰه وبرکاتة -( الترمذی)
- جب کسی کی ملاقات سے فارغ ہوکر رخصت ہونے لگے تو سلام وداع کرے، یہ بھی سنت ہے -( الترمذی)
- اگر سلام کرنے والی ایک جماعت ہوتو صرف ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے؛ البتہ تمام کا سلام کرنا افضل ہے
- دو گروہوں کا آپس میں ملاقات ہوتو ان میں سے کسی ایک کا سلام کرنا اور دوسرے کا جواب دینا کافی گا
- اگر کسی شخص کو سلام کرنا ہو جو بہرا ہو تو ہاتھ سے اشارہ بھی کریں اور زبان سے لفظ سلام بھی کہیں
کن لوگوں کو سلام نہیں کرنا چاہئے
- نماز پڑھتے ہوئے شخص کو
- خطبہ دیتے ہوئے شخص کو
- قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے شخص کو
- اذان دیتے ہوئے شخص کو
- اقامت کہتے ہوئے شخص کو
- قرآن و احادیث اوردینی کتابوں کا درس دیتے ہوئے شخص کو
- قضائے حاجت ، وضوء اور استنجاءکرتے ہوئے شخص کو
- جو برہنہ حالت میں ہو
- جو کھانا کھا رہا ہو
متفرقات
- آج کل عرب ممالک میں صباح النور اور مساء النور کے الفاظ ملاقات کے وقت مستعمل ہیں ، یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے ، ملاقات کے وقت السلام علیکم…. کے مسنون الفاظ سے ہی سلام کریں
- ہر مسلمان سے ملاقات کے وقت سلام کرنا سنت ہے لیکن کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا واجب ہے۔ عام طور پر معاشرہ میں یہ عادت نظر آتی ہے کہ جب ہم کسی کو سلام کریں السلام علیکم، تو جواب میں دوسرا شخص بھی یہی کہتا ہے السلام علیکم، اس طرح کرنے سے دوسرے شخص کے ذمہ سے واجب ادا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس نے بھی پہلے شخص کے انداز میں سلام کر دیا حالانکہ اسے سلام کا جواب دینا چاہیے تھا یعنی وعلیکم السلام۔
- اس کو لکھنے میں بعض اوقات غلطی کی جاتی ہے ، اسلام علیکم اور بعض اوقات السلام و علیکم لکھا جا تا ہے جو صحیح نہیں ہیں اس کی درست املاء السلام علیکم ہے
- اس کو ادا کرنے میں بھی بعض لوگ غلطی کرتے ہیں ، اسام علیکم ، سام علیکم اور سلاما لیکم یہ سب صحیح ادائے تلفظ نہیں ہیں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ صیح طریقے سے ادا کیا جانا چاہیے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر