•حیا کے لغوی معنی – وقار، سنجیدگی،متانت اور تر و تازگی کے ہیں۔ یہ بے شرمی، فحاشی اوربے حیائی کی ضد ہے
•اسلام کی اصطلاح میں “حیا سے مراد وہ شرم ہے جو کسی منکر (برے) کام کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی فطرت کے سامنے اورخدا کے سامنے محسوس کرتا ہے” (سید ابولاعلیٰ مودودی )
•لفظ حیا عربی میں حمزہ (ء) کے ساتھ لکھا جاتا ہے (جیسے حیاء ) اور اردو میں بغیر حمزہ کے ( حیا)
•حیاء کا مادہ ح ي ي (جو حیات کا مادہ بھی ہے)، لفظ حیاء حَيِيَ کا مصدر ہے
•حَيِيَ يَحْيَا ، حياءً شرمندہ ہونا ، عار محسوس کرنا
•شرم(Shyness)- اپنے آپ کو نہ کھولنے(express نہ کرنے) کا جذبہ ، یہ ایک طبعی اور فطری وصف ہے جو ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے حتیٰ کہ شرم بعض جانوروں اور پودوں میں بھی ہوتی ہے
•حیا – شرم کا فطری وصف نور ِ ایمانی سے منور ہو تو حیا پیدا ہوتی ہے، شرم جو فطرت ہے ، نورِ ایمانی جو ہدایت ہے ان دونوں کے تعلق سے پیدا ہونے والے جوہر کا نام حیا ہے
•شرم و حیا کی اصطلاح – شرم فارسی زبان کا لفظ ہے اور حیا عربی کا ، دونوں کے معانی قریب قریب ہیں ، یہ اصطلاح اردو اور فارسی کی ایک عامی اصطلاح ہے جو روزمرہ کی بول چال میں مستعمل ہے
•مجموعی طور پر شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے،
•حیا کی دو قسمیں – حیا کی ایک قسم نفسانی حیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کیسی درجے میں تمام نفوس میں پیدا فرمائی ، جیسا کہ لوگوں کے سامنے شرمگاہ کھولنا وغیرہ
•دوسری قسم ایمانی حیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے خوف کی بنا پر گناہوں کے ارتکاب سے رک جائے
•اس کی وضاحت اس حدیث ِ مبارکہ سے ہوتی ہے جو عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان کی ، آپ ﷺ نے فرمایا” اللہ سے حیا کرو جیسے حیا کرنے کا حق ہے ، صحابہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : حیا کا حق یہ نہیں جو تم نے سمجھا ہے ، اللہ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ تم اپنے سر ( دماغ) میں موجود تمام افکار کی حفاظت کرو اور تم پیٹ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کی حفاظت کرو اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کرو اور جسے آخرت کی چاہت ہو تو وہ دنیا کی زنیت ترک کر دے پس جس نے اس طرح کیا اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کی جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے (ترمذی)
•یہاں افکار کی حفاظت کا مطلب انسان کا اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھنا اور بطن و باطن کی حفاظت کا مطلب لقمۂ حلال کھانا اور شہوت پرستی سے اجتناب کرنا ہے
•آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتی ہے۔ مَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ ‘‘ (سنن الترمذي ) – شرم و حیا صرف جنسی معاملات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے سارے اعمال چال ڈھال، گفتگو، رہن سہن، لباس، دوسروں کے ساتھ معاملات وغیرہ میں کسی نہ کسی طرح کام کر رہی ہوتی ہے
•حیا ایک فطری صفت اور چونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے لہٰذا اسلام میں حیا کا اعلی ٰ مقام ہونا بالکل فطری امر
•حیا اور ایمان ( لازم و ملزوم کر دیئے گئے ہیں)
•آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” الحَياءُ مِنَ الإيمانِ ، حیا ایمان میں سے یعنی اس کا جز ہے “( رواه مسلم)
•نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” الإِيمانُ بضْعٌ وسَبْعُونَ شُعْبَةً، والْحَياءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإيمانِ ، ایمان کے ستر شاخیں ہیں اور حیا ان میں سے ایک ہے”( رواه مسلم) یعنی جس شخص میں ایمان ہو اس میں حیا بھی ہو
• آپﷺنے فرمایا: “حیا اور ایمان جڑواں ہیں اگر ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے إنَّ الحياءَ و الإِيمانَ قُرِنا جَميعًا ، فإذا رُفِعَ أحدُهُما رُفِعَ الآخَرُ” (بیہقی و حاکم)۔ یعنی جس میں حیا نہ رہے اس میں ایمان بھی نہیں رہتا۔
•حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حیاء ایمان کا ایک ٹکڑا ہے اور ایمان کا انجام جنت ہے اوربے حیائی ظلم ہے اور ظلم کا انجام دوزخ ہے۔ الحياءُ منَ الإيمانِ ، والإيمانُ في الجنَّةِ ، والبَذاءُ منَ الجفاءِ ، والجفاءُ في النَّارِ – (صحيح الترمذي،باب البرو الصلہ)
•حیا دین اسلام کا امتیاز- آپ ﷺ نے فرمایا “ہر دین کی ایک امتیازی علامت ہوتی ہے اور اسلام کا امتیاز حیا ہے”( إنَّ لِكُلِّ دينٍ خُلُقًا، وإنَّ خُلُقَ الإسلامِ الحياءُ- صحيح ابن ماجه)جس کے اندر حیا کا مادہ جس قدر زیادہ ہوگا اس کا اسلام اتنا ہی زیادہ کامل ہوگا اور جس کے اندر حیا کی جس قدر کمی ہوگی اس کا اسلام اتنا ہی کمزور ہوگا
•حضرت ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کلام میں حیاء اور تامل ایمان کی دو شاخیں ہیں اور بیہودہ گوئی اور بہت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں – الحياءُ و العَيُّ شُعبتانُ من الإيمانِ ، و البَذاءةُ و البَيانُ شُعبتانِ من النِّفاقِ (جامع ترمذی ، باب البر والصلة)
•حیا خیر ہی خیر ہے – آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا “اَلْحَيَاءُ کُلُّهُ خَيْرٌ حیا تو خیر ہی خیر ہے” (صحیح مسلم) اور دوسری حدیث میں فرمایا کہ ” حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتی ہے”
•عن عِمْرَانَ بْن حُصَيْنٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ: “الْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ” حیا صرف خیر اوربھلائی ہی لاتا ہے (صحیح مسلم و البخاری) گویا انسان جس قدر باحیاء ہوگا اتنا ہی اس میں خیر بڑھتا جائے گا ، خیر و صلاح کے تمام محاسن کی اصل حیا ہے ، یہ حیا کی صفت ہی ہےجو انسان کو خیر و صلاح پر ابھارتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے
•اللہ تعالیٰ حیا والا ہے اور حیا کو پسند فرماتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ – بے شک اللہ عزوجل بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے۔ حیا اور پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردے میں کرے (سنن نسائی)
•
•حضرت ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کلام میں حیاء اور تامل ایمان کی دو شاخیں ہیں اور بیہودہ گوئی اور بہت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں – الحياءُ و العَيُّ شُعبتانُ من الإيمانِ ، و البَذاءةُ و البَيانُ شُعبتانِ من النِّفاقِ (جامع ترمذی ، باب البر والصلة)
•حیا خیر ہی خیر ہے – آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا “اَلْحَيَاءُ کُلُّهُ خَيْرٌ حیا تو خیر ہی خیر ہے” (صحیح مسلم) اور دوسری حدیث میں فرمایا کہ ” حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتی ہے”
•عن عِمْرَانَ بْن حُصَيْنٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ: “الْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ” حیا صرف خیر اوربھلائی ہی لاتا ہے (صحیح مسلم و البخاری) گویا انسان جس قدر باحیاء ہوگا اتنا ہی اس میں خیر بڑھتا جائے گا ، خیر و صلاح کے تمام محاسن کی اصل حیا ہے ، یہ حیا کی صفت ہی ہےجو انسان کو خیر و صلاح پر ابھارتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے
•اللہ تعالیٰ حیا والا ہے اور حیا کو پسند فرماتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ – بے شک اللہ عزوجل بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے۔ حیا اور پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردے میں کرے (سنن نسائی)
•
•حیا او دین کا علم – انسان زندگی اور روز مرہ کے مسائل یا پھر وہ امور جنہیں عام طور پر اس لیے موضوعِ بحث اس لیے نہیں بنایا جاتا کہ وہ حیا کے خلاف ہیں ، ان دینی امور کو سیکھنے اور اپنے مسائل کا حل پوچھنےکسی اہل علم کے پاس ان سے متعلق سوال کرنا حیا کے منافی نہیں ، دین کو جاننے اور دین پر عمل کرنے کے معاملے میں شرم و حیا مانع نہیں ہونی چاہیے، ایسی باتوں کو مہذب طریقے سے مناسب الفاظ میں پوچھا جا سکتا ہے
•سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہﷺنے فرمایا : ’’ انصارِ مدینہ کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں کیونکہ ان کی “حیا” دین کی گہری سمجھ حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتی ‘‘(صحیح مسلم)
•یعنی دین کا جب کوئی مسئلہ یابات آتی ہے تو وہ ہر طرح کا سوال کرلیتی ہیں کیونکہ دین ہماری صرف ظاہری زندگی سے متعلق نہیں، ہماری چھپی ہوئی زندگی کے متعلق بھی ہے، ان معاملات میں بھی ہمیں صحیح معلومات ہونی چاہئیں ورنہ ہم دین کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے۔
•دین اسلام حق بیان کرنے میں کوئی شرم نہیں کرتا۔ آپ ﷺ کے پاس عورتیں مسائل لے کر آتیں اور سوال کرتیں تھیں تو آپ ﷺ ان کے سوالات کے جواب دیتے تھے۔ پوری امت پر رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے کہ آپ ﷺ نے ذاتی زندگی سے متعلق وہ باتیں بھی کھول کھول کر بیان فرمائیں جنہیں عام طور پر لوگ شرم وحیاء کے سہارے بیان نہیں کرتے
•بے حیائی شیطان کا ہتھیار ہے جس کے ذریعہ وہ خداکے بندوں کو برائی کا لالچ دیتا ہے اور وہ بندے جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے بآسانی شیطان کے مکر و فریب کا شکار ہوکر جہنم کے راستے پر قدم رکھ دیتے ہیں
•حیا کا وصف برائیوں کے راستے پر چلنے میں ایک آڑ ہے اور جب یہ زمین بوس ہوجاتی ہے تو پھر برائی کے راستے پر چلنا آسان ہو جاتا ہے (إذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْت )
•إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ …. اور (اللہ)فواحش ومنکرات اور بغاوت وسرکشی سے منع کرتاہے(النحل۔ ۹۰)
•شیطان نے انسانوں میں حیا کے فطری وصف کو دبانے اورختم کرنے کے لیے سینکڑوں اور ہزاروں خوشنما خرافات ایجاد کر رکھی ہیں اور ان کا چلن ہر انسانی معاشرے میں عام کرنے کی ہر دم جدو جہد میں مصروف ہے:
•معاشروں میں مرد و زن کا آزادانہ اور بے باکانہ اختلاط، فیشن کے نام پر عریانیت اوربے پردگی، ویلنٹائن ڈے کلچر، ہم جنس پرستی اور اس کا بڑھتا ہوا طوفان، جنسیات پہ مشتمل لٹریچر ، فحش فلموں اور ویڈیوز کا انتہائی افزوں رحجان، کسی چیک اور کنٹرول کے بغیر انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فورمز، آرٹ اور کلچر کے نام پر مخزن ِ اخلاق فلمیں، ڈرامے اور ٹی وی پروگرام،سال نو کی تقریبات (New year nights) ….یہ سب فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دینے کے لئے شیطان کے اہم اور کارگر ہتھیار ہیں
•اللَّهمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِن منْكَرَاتِ الأَخلاقِ، والأعْمَالِ والأَهْواءِ – اے اللہ ! میں تجھ سے بری عادتوں، برے کاموں اور بری خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں ۔(رواهُ مُسْلِمٌ، الترمذي، احمد )
•اَللَّهُمَّ إِنِي أَسْأَلُكَ الهُدَى، وَالتُّقَى، وَالعفَافَ، والغنَى – اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں۔(رواهُ الترمذي )
•اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِيْ خَشْیَتَكَ وَ ذِکْرَكَ وَاجْعَلْ هِمَّتِيْ وَ هَوَايَ فِیْمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی – اے اللہ ! میرے دل کے وساوس کو اپنے خوف اور اپنےذکر سے بدل دے، اور میری فکروں اور خواہش کو اپنی چاہت اور پسند کے کاموں میں لگادے۔(مسند الفردوس للدیلمی)
•اللَّهمَّ اهدِنِيْ لِأحْسَنِ الْأخْلَاقِ لَا يَهْدِيْ لِأحْسَنِهَا إِلَّا أنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّيْ سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّيْ سَيِّئَهَا إِلَّا أنْتَ – اے اللہ تو اخلاقِ حسنہ کی طرف میری رہنمائی فرما، صرف تو اچھے اخلاق کیطرف رہنمائی کر سکتا ہے اور مجھے برائیوں سے محفوظ فرما، صرف تو ہی برائیوں سے بچا سکتا ہے ۔(النسائي)
•اللَّهُمَّ كَمَا أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي ۔ اے اللہ جس طرح تو نے میری اچھی تخلیق فرمائی اسی طرح میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا دے(رواه ابن احمد)
•اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ، وَالْعِفَّةَ، وَالأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ اے اللہ ! میں تجھ سے صحت کا سوال کرتا ہوں، پاک دامنی، امانت ،حسنِ اخلاق اور تقدیر پہ راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں (ادب المفرد، طبرانی)
•
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر