- والدین کے حقوق، ان حقوق کو کہا جاتا ہے جو والدین کی نسبت اولاد پر واجب ہیں۔ ان حقوق کی رعایت کرنااللہ تعالٰ کے اہم احکامات میں سے ہیں اور حقوق اللہ کے بعد اولاد پر سب سے زیادہ حق ان کے والدین کا ہوتا ہے۔
- اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اپنی عبادت و بندگی کے متصل بعد انسان کو والدین کیلئے حُسن سلوک کا حکم دیا ہے، امام قرطبی ؒ کے بقول ( سورۃ بنی اسرائیل آیت ۲۳ میں ) اللہ تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب کیا ہے اور سورۃ لقمان (آیت نمبر۔ 14) میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے
- اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ومالک اور رب کائنات ہے، کائنات اور اس میں تمام موجودات کا ضرورتوں کو پوار کرنے والا جبکہ انسان کی پیدائش اور اس کی پرورش کا سبب اس کے والدین کو بنایا
- دینِ اسلام میں والدین کیساتھ حُسن سلوک کی شدید تاکید کی گئی ہے (اور ان سے بد سلوکی کرنے سے منع کیا گیا ہے) ۔ قرآنِ مجید میں کم از کم 15 مقامات پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بلاواسطہ یا بالواسطہ تاکید آئی ہے اوربیشتر اللہ کی عبادت کے ذکر کےساتھ جڑ کر ۔ قرآن ِ مجید میں ان مقامات پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر آیا ہے، سورۃ البقرۃ ( 83,215) سورۃ النساء (36)، سورۃ الانعام (151)، سورۃ بنی اسرائیل(-24 23)، سورۃ لقمان(14-15)، سورۃ الاحقاف ( 15)، سورۃ مریم (14,31,32)، سورۃ عنکبوت(8 )، سورۃ نوح(28 )،
- والدین کے حقوق کی رعایت نہ کرنا اور ان کی نافرمانی کرنے کو حرام اور گناہان کبیرہ قرار دیا گیا ہے
- اسلام نے والدین کو جو حقوق دیئے ہیں ،ان کو دو حصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے، (۱) اخلاقی حقوق، (۲) قانونی حقوق
1.اخلاقی حقوق:
- اخلاقی حقوق میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو اداکرکے آدمی ایک اچھا انسان اور اچھا مسلمان کہلوا سکتا ہے، اس میں اس میں تین چیزیں شامل ہیں : (۱)حسن سلوک، (۲) اطاعت، (۳) نماز میں دُعا
-
اطاعت اور حسن سلوک کے بارے میں بے شمار قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ مذکور ہیں ( جن آگے سلائیڈز میں آئیں گی)، اس سلسلے کی مشہور ترین حدیثِ مبارکہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ” ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: تیری ماں ، پوچھاگیا پھر کون؟ فرمایا:تیری ماں ، پوچھا گیا پھر کون؟فرمایا: تیری ماں ، پوچھا گیا پھر کون؟ فرمایا:تیرا باپ “
-
(سأل رجل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: (يا رَسولَ اللَّهِ، مَن أحَقُّ النَّاسِ بحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قالَ: أُمُّكَ قالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قالَ: ثُمَّ أُمُّكَ قالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قالَ: ثُمَّ أُمُّكَ قالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قالَ: ثُمَّ أبُوكَ . رواه البخاري)
- والدین کی خدمت،حُسنِ سلوک اور اطاعت، جہاد سے بھی اولیٰ ہے :” ایک شخص نے نبی کریم ﷺسے کہا: میں جہاد کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: تمہارے والدین ہیں ؟ جواب ملا، ہاں حیات ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: ان کی خدمت میں جہاد کرو۔” (عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ – صحيح البخاري)
- عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ ، أَنَّ جَاهِمَةَ رضي الله عنه جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ . فَقَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟ قَالَ نَعَمْ . قَالَ: ( فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا-صحيح النسائي
- عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ ، أَنَّ جَاهِمَةَ رضي الله عنه جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ . فَقَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟ قَالَ نَعَمْ . قَالَ: فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا -صحيح النسائي – حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ (میرے والدمحترم) حضرت جاہمہؓ ، نبی (ﷺ) کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میرا ارادہ جنگ کو جانے کا ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : ” تیری والدہ ہے ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : ’ اس کے پاس ہی رہ (اور خدمت کر) ۔ جنت اس کے پاؤں تلے ہے
- حضور ﷺ نے نے حُسن سلوک کے دائرے کو حقیقی والدین سے بڑھا کر رضاعی والدین تک وسیع کیاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ نبی اکرم ﷺتشریف فرما تھے کہ ان کی رضاعی والدہ تشریف لائیں تو آپؐ نے چادربچھا دی اور اس پراُنہیں بٹھایا (صحیح ابن حبان)
2.قانونی حقوق:
- قانونی حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جن کی ادائیگی اولاد پر لازم ہے اوراس میں کوتاہی قانوناً جرم ہے۔ اسلام ان حقوق کے تعین اورادائیگی کاپورا اہتمام کرتاہے، اس میں اس میں تین چیزیں شامل ہیں : (۱) میراث (۲) نفقہ (۳) والدین کی نافرمانی کی حرمت
میراث
- میراث کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے : وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ… ( 4/11) اور ماں باپ، دونوں میں سے ہرایک کے لیے میت کے ترکہ میں سے چھٹا چھٹا حصہ ہے
نفقہ
- نفقہ کے بارے میں قرآنِ مجید میں ہے: يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍۢ فَلِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ – ”لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ کیاچیز خرچ کریں ؟ آپ بتا دیں کہ جوکچھ مال تم کو خرچ کرنا ہو، ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں کااور باپ کے بچوں کا، محتاجوں کا اور مسافر کا – (2/215 )
- حضرت عمروؓ بن العاص سے مروی ہے کہ” ایک شخص نے آنحضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیاکہ میرے پاس مال ہے اور صاحب ِاولادہوں اورمیرا باپ حاجت مند ہے۔آپﷺفرمایا: تم بھی اپنے باپ کا مال ہو اور تمہاری متاع بھی- (ابن ماجہ:2291 ) – جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُکَ لِأَبِيکَ
- عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول ﷺکے پاس آیا اور کہا: میرا والد میرے مال کا محتاج ہے تو آپؐ نے فرمایا: تم اور تمہارا مال، تمہارے والد کا ہے پھر آپؐ نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ- (ابن ماجہ- 0229) – عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدِ اجْتَاحَ مَالِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ، وَمَالُكَ لِأَبِيكَ
- والدین کمانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اولاد پر نان ونفقہ کا انتظام فرض ہے جس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے
- والدین کی نافرمانی
- نبی کریمﷺ نے والدین کی نافرمانی کرنے اور انہیں اذیت و تکلیف پہنچانے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر