لعنت – لَعَن کامعنی ہے کسی کو اللہ کی رحمت سے دوری کی بددعا دینا، یعنی رحمتِ الٰہی سے محروم کیے جانے کی دعا یا خبر دینا۔
- جب انسان کسی پر لعنت کرتا ہے تو وہ دراصل یہ دعا کرتا ہے کہ:اے اللہ! اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔اسی لیے لعنت بہت سخت لفظ ہے، عام گالی، ناراضی یا تنقید سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی پر لعنت فرماتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ شخص یا گروہ اللہ کی رحمت، قرب اور کرامت سے محروم قرار دیا گیا۔
- نبی ﷺ نے آپس میں ایک دوسرے پر لعنت، غضب اور جہنم کی بددعا دینے سے منع فرمایا ۔ ایک اور حدیث کے مطابق “طعن کرنے والا، لعنت بھیجنے والا، فحش گو اور بدتمیز” مومن کے اخلاق کے خلاف ہے ] لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ – جامع ترمذی [ ۔ اسی بنا پر مسلمان کو عادتاً کسی متعین شخص پر لعنت کرنے سے بچنا چاہیے، خاص طور پر زندہ افراد کے بارے میں ( اگرچہ ایک مسلمان گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے، مگر پھر بھی اس پر لعنت کرنا درست نہیں۔)
- نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کو شراب پینے کی سزا دی گئی۔ بعض صحابہؓ نے اسے لعنت کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا:
لَا تَلْعَنُوهُ، فَوَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا أَنَّهُ يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ ،
اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ صحیح بخاری
- البتہ اوصاف کی بنیاد پر – یعنی ظالموں پر، کافروں پر، منافقوں پر ، جھوٹوں پر – لعنت کرنا جائز ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کی نظیر موجود ہے
متعدد احادیث میں لعنت کرنے سے بڑی سختی سے منع فرمایا گیا ہے
- “بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی جانب پروان چڑھتی ہے اور آسمان کے دروازے اس پر بند کردئیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی جانب اترتی ہے تو اس کے لیے زمین کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر دائیں بائیں جگہ پکڑتی ہے جب کہیں کوئی گھسنے کی جگہ نہیں ملتی تو جس پر لعنت کی گئی ہے اس کی طرف جاتی ہے اگر وہ اس لعنت کا حقدار ہو ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے” (سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1500)
- “بلاشبہ بہت لعنت کرنے والے قیامت کے دن کسی کے حق میں گواہ نہ بن سکے گے اور نہ سفارش کرسکیں گے” ( صحیح مسلم)
- ” جس نے کسی مسلمان پر لعنت کی اس نے گویا اسے قتل کر دیا “
لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ ( البخاري و مسلم)
- حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “آپس میں ایک دوسرے کو اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی لعنت نہ بھیجو” (ابوداؤد ، ترمذی)
- جانوروں، بے جان چیزوں اور حالات پر لعنت کرنا بھی ممنوع ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہوا پر لعنت کرنے سے بھی منع فرمایا
اللہ نے کن لوگوں پر لعنت کی ہے ؟ (قرآن ِ کریم میں)
- ابلیس پر لعنت – ۳۸/۷۱
- کافروں پر لعنت – ۲/۸۹
- حق کو چھپانے ( کتمان ِ حق کرنے) والوں پرلعنت – ۲/۱۵۹
- جھوٹوں پرلعنت – ۳/۶۱
- مرتدین پرلعنت – ۳/۸۷
- منافقین پر لعنت – ۹/۶۸
- مسلمانوں کے قاتل پر لعنت – ۴/۹۳
- عہدشکنی کرنے والوں پرلعنت – ۵/۱۳
- پاک دامن عورتوں پرتہمت لگانے والوں پرلعنت – ۲۴/۲۳
- ظالموں پرلعنت – ۷/۴۴
- اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت اور ان کو ایذا پہنچانے والوں پر لعنت – ۳۳/۵۸
- فساد فی الارض اور قطع رحمی کرنے والے – ۴۷/۲۳
احادیث میں کن لوگوں پر لعنت کی گئی ہے
- شراب سے متعلق دس افراد پر ( کشید کرنے والا، کروانے والا ، پینے والا ، پلانے والا، اٹھانے والا ، جس کے لئے اٹھائی جائے ، بیچنے والا، خریدنے والا، اس کی قیمت کھانے والا، جس کے لئے خریدی جائے ..) ( سنن ترمذی)
- رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت ( سنن ابی داؤد)
- چور پر لعنت (صحیح البخاري)
- اغلام بازی (Homosexuality)کرنے والے پر لعنت ( مسند احمد ، سنن ابن ماجه)
- ایک دوسرے کی مشابہت کرنے والے مردوں اور عورتوں پر لعنت (صحیح البخاري)
- اپنے جسم پر مصنوعی، غیر فطری کام کروانے والی عورتوں پر لعنت (صحیح البخاري)
- حقیقی باپ کے علاوہ کسی اورکی طرف نسبت کرنے والے پر لعنت (صحیح المسلم)
- جو شخص اپنے باپ پر لعنت کرے، جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے، جو کسی بدعتی کو جگہ دی اور جو زمین کے نشانات کو مٹا دے (علیؓ– صحیح المسلم)
- سود کھانے والوں پر لعنت (حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں”رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے پر، سود دینے والے پر، اس کی دستاویز لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا یہ سب گناہ میں برابر ہیں” (صحیح المسلم)
- حدود کی زمین بدلنے والے پر لعنت – حدیث میں ہے: “اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جو زمین کی حدود بدل دے۔” (مسلم) اس سے مراد کسی کی زمین کی نشانیاں مٹا کر ہڑپ کر لینا ہے۔ یہ ظلم کی ایک صورت ہے جس پر لعنت وارد ہوئی۔
- حلالہ (تحلیل) کرنے والے اور کرانے والے پر لعنت : “اللہ تعالیٰ تحلیل کرنے والے (حلالہ) اور جس کے لیے تحلیل کیا جائے، دونوں پر لعنت کرے (لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ )”( مسند احمد ، سنن نسائی، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
یہ اس مصنوعی نکاح کے بارے میں ہے جو صرف پہلے شوہر کے لیے عورت کو حلال کرنے کی نیت سے کیا جائے۔ شریعت ایسے کھیل کو سخت ناپسند کرتی ہے۔ - اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کرنے والے پر لعنت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے۔” (صحیح مسلم) یہ شرک کی ایک قسم ہے اور اس لیے اس پر لعنت وارد ہوئی ہے۔
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر