قرآن میں ” نور” کا استعمال

 

1۔ اللہ کے لیے “نور”

اللہ تعالیٰ نے خود کو “نور” کہا ہے –  یہ قرآن کا سب سے اعلیٰ اور بنیادی استعمال ہے جس سے باقی تمام انوار کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

(اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (النور: ۳۵)یہ آیت تمام قرآنی انوار کی اصل اور جڑ ہے۔ باقی تمام انوار  –  قرآن کا نور، نبی ﷺ کا نور، ایمان کا نور  – سب اسی مرکزی نور سے پھوٹتے ہیں۔ جس طرح سورج روشنی کا منبع ہے اور چاند، ستارے اور آئینے اسی سے روشن ہوتے ہیں – اسی طرح اللہ کا نور اصل ہے اور باقی سب اس کے مظاہر ہیں

2۔ قرآن کے لیے “نور”

قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ،

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ گئی ہے(المائدہ: ۱۵)

(وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ)

“اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے ایک روح وحی کی  –  ہم نے اسے نور بنا دیا جس سے ہم جسے چاہیں ہدایت دیتے ہیں۔ (الشوریٰ: ۵۲)

(وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا)

اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا  (النساء: ۱۷۴) قرآن کو “نور” کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں – یہ روشنی ہے جو حق و باطل کے درمیان فرق کرتی ہے، زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے اور دل کو منور کرتی ہے

3۔ نبی کریم ﷺ کے لیے “نور”

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (٤٥) وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا۔

اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ، بشارت دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے-(الاحزاب: ۴۵-۴۶)

(قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ)

بعض مفسرین نے اس آیت (المائدہ: ۱۵) میں “نور” سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی لی ہے اور “کتاب مبین” سے مراد قرآن۔یہاں نبی ﷺ کو “سراج” (چراغ) کہا گیا نہ کہ “شمس” (سورج)  – کیونکہ سورج کی روشنی بعض اوقات آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے، جبکہ چراغ کی روشنی گرم، قریب اور رہنما ہوتی ہے۔ آپ ﷺ کی ذات امت کے لیے ایسی ہی ہے  –  قریب، مہربان اور ہر اندھیرے میں رہنما۔

4. توریت اور انجیل کے لیے “نور”

إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ۔

بے شک ہم نے توریت نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا۔(المائدہ: ۴۴)

وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ۔

اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا۔(المائدہ: ۴۶)

یہ آیات بتاتی ہیں کہ تمام آسمانی کتابیں اپنے اصل میں نور تھیں  – نور کا یہ سلسلہ صرف قرآن سے شروع نہیں ہوا بلکہ یہ اللہ کی ہر وحی کی بنیادی خصوصیت ہے۔

5. ایمان کے لیے “نور”

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ اللہ

ایمان والوں کا ولی ہے – وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے (البقرہ: ۲۵۷)

(أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ)

کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایک نور بنا دیا جس سے وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ (الانعام: ۱۲۲)یہ آیت بہت اہم ہے – ایمان سے پہلے انسان “مردہ” ہے اور ایمان کے بعد “زندہ” اور “نور والا”۔ ایمان محض عقیدے کا نام نہیں – یہ ایک نئی زندگی اور ایک نئی روشنی ہے

6. آخرت میں مومنین کے لیے “نور”

يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم ۔

ان کا نور ان کے آگے اور دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔(الحدید: ۱۲)

يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ ۔

اس دن منافق مرد اور عورتیں مومنوں سے کہیں گے: ہمارا انتظار کرو، ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی لیں۔(الحدید: ۱۳)

دنیا میں ایمان کا نور آخرت میں قیامت کے دن مومن کے ساتھ چلے گا  – یہ نور دنیا میں کمایا جاتا ہے اور آخرت میں کام آتا ہے۔

7. منافقین اور نور کا بجھنا

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ

ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی  – پھر جب اس نے اردگرد روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور لے لیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا جہاں وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے۔ (البقرہ: ۱۷)

یہ آیت بتاتی ہے کہ نور آتا بھی ہے اور جاتا بھی ہے – جو اس کی قدر نہ کرے اللہ اسے واپس لے لیتا ہے۔

 

Check Also

قرآن مجید میں قسم/قسم اٹھانے کے لیے الفاظ

  حروفِ قسم : حروف ِ قسم  ہیں ، عربوں  میں  بطور  عادت یا تکیہ …