فِيْهِ ذِكْرُكُمْ – اس میں تمہارا ہی ذکر ہے

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا انسانیت کے نام آخری اور کامل پیغام ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے ہدایت و رحمت کا سرچشمہ ہے۔  اس سورت(الانبیاء) کی آیت نمبر 10 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ”

یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟

یہ آیت کریمہ قرآن مجید کے مرکزی مقصد اور اس کی عالمگیر اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، اس مختصر مگر گہری تعبیر کے ذریعے اللہ تعالیٰ یہ بتا رہے ہیں کہ یہ کتاب محض تاریخ یا قصے کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ براہِ راست انسان کی زندگی، اس کے ماضی، حال اور مستقبل سے تعلق رکھتی ہے۔ قرآن ہر قاری کو متوجہ کرتا ہے کہ اس میں تمہارا ہی ذکر ہے، تمہاری ہدایت، تمہاری عزت، اور تمہاری نجات کا راستہ بیان ہوا ہے

اس آیت کے تحت مفسرین نے اس کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں: کہیں یہ نصیحت ہے، کہیں عزت و شرف کا ماخذ، کہیں انسانی کرداروں کا آئینہ اور کہیں امت کی تاریخ و تقدیر کا جامع دستور۔ ان تمام آراء کو اس ضمیمے میں جمع کر کے پیش کیا جا رہا ہے:

  1. قرآن-  نصیحت، یاد دہانی اور بیداری کا وسیلہ (اصلی اور معروف معنی) – زیادہ تر مفسرین نے یہاں ذکر  کے معروف  معنی (یاددہانی اور نصیحت کرنا) مراد لیے ہیں، ان کے لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کتاب  کوئی کہانیوں کا مجموعہ نہیں ، یہ تمہاری لیے یاد دہانی ، نصیحت وعظ اور فکر وآگاہی کا بہترین ذریعہ ہے، یہ تمہیں  بھلائی اور برائی کے فرق سے آگاہ کرتی ہے، تمہاری اصلاح کرتی ہے اور تمہیں آخرت کے عذاب سے ڈراتی ہے –
  2. قرآن – انسان کی اپنی سرگزشت اور مسائل کا حل–  ان معانی کے اعتبار سے، قرآن میں انسان کے فطری، اخلاقی، اور عملی معاملات کا تفصیلی ذکر موجود ہے:
  •  قرآن کا موضوع اور مخاطب انسان ہے  اس طرح “فِيْهِ ذِكْرُكُمْ” سے مراد ہے کہ اس میں تمہاری اپنی کہانی بیان کی گئی ہے
  • کامیابی کی ضمانت:اس میں وہ عقائد، ضابطۂ حیات، اور اخلاق بیان کیے گئے ہیں جو تمہاری کامیابی اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں
  • انسانی ساخت اور نفسیات: اس میں انسان کی فطرت، ساخت، آغاز و انجام پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں  انسان کے جذبات، خواہشات اور نفسیاتی کیفیات سے مکمل آگاہی  دی گئی ہے
  • فطری محرکات: انسان کے فطری رجحانات(Instincts and Natural Drives)  یعنی وہ بنیادی جبلتیں، رجحانات اور خواہشات  جو ہر انسان میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں، قرآن کریم  انہیں نظرانداز کرنے یا انہیں ختم کرنے کی بجائے، انہیں صحیح رخ اور تعمیری مقصد دیتے ہوئے ہدایت فراہم کرتا ہے- ہدایت کا یہ طریقہ انسان کی فطرت سے متصادم نہیں ہے، بلکہ اس کی فطرت کے عین مطابق ہے۔
  • تاریخی کرداروں کا آئینہ: یہ قرآن انسان کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں وہ اپنی شکل پہچان سکتا ہے۔اس میں گذری پہلی قوموں  اور شخصیات کی خبریں ہیں اور بعد میں آنے والوں کے احوال بھی  (فِيهِ نَبَأُ مَا كان قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ)
  • انسانی کمزوریوں اور غلطیوں کی نشاندہی :قرآن صرف اعلیٰ اوصاف نہیں بتاتا بلکہ انسان کی کمزوریاں، لغزشیں اور نفسانی دھوکے بھی واضح کرتا ہے تاکہ آدمی اپنی اصلاح کر سکے۔

3. قرآن-عزت، شرف اور دائمی شہرت کا ذریعہ (مجازی معنی):اس مفہوم کے مطابق، “فِيْهِ ذِكْرُكُمْ” کا مطلب ہے کہ قرآن تمہارے لیے عزت، فضیلت اور دائمی شہرت کا باعث ہے

  • عربوں کے لیے شرف  – قرآن مجید اہل عرب اور پوری امت مسلمہ کے لیے عزت، شرف اور شہرت کا سبب بنا۔ قرآن کی بدولت عربوں اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں مرکزیت حاصل ہوئی اور ان کا نام بلند ہوا۔ قرآن سے پہلے ان کی کوئی قابل ذکر حیثیت نہ تھی، مگر جب انہوں نے اس پیغام کو تھاما اور دنیا میں پھیلایا تو ساری انسانیت کی رہنمائی کییہ شرف اور عزت مشروط ہے۔ جب تک اہل عرب اور مسلمان اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہے، وہ دنیا پر غالب رہے؛ جب اسے چھوڑ دیا تو ان کا ذکر بھی ختم ہونے لگا اور وہ ذلت کا شکار ہوئے۔ گویا قرآن ان کی عظمت کی “بڑی دستاویز” ہے

4. قرآن-زندگی کا مکمل دستور : قرآن میں زندگی کے تمام شعبوں – عقائد، عبادات، معاشرت، معیشت اور اخلاقیات – کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس میں کوئی ایسا پہلو نہیں چھوڑا گیا جو انسان کی رہنمائی کے لیے ضروری ہو۔ یہ ایک کامل اور مکمل ضابطہ حیات ہے، یہ پہلو انسان کو دکھاتے ہیں کہ یہ کتاب  محض  ایک کتاب  نہیں بلکہ حقیقی زندگی کا نظام ہے۔

5. قرآن-اہلِ عرب اور قریش کے لیے تنبیہ: قرآن نے اپنے اولین مخاطبین پر واضح کیا کہ جس طرح پچھلی قوموں پر رسول اور کتاب بھیجے گئے تاکہ حجت قائم ہو، ویسے ہی تم پر یہ آخری رسول اور آخری کتاب آئی ہے۔اب تم پر وہی قانون لاگو ہوگا جو پہلی قوموں پر تھا: ایمان لانے والوں کے لیے فلاح اور انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت۔یہ عذر نہیں چلے گا کہ ہم ابراہیمؑ کی اولاد ہیں یا بیت اللہ کے متولی۔ اللہ کے قانون میں دو عملی نہیں۔

6. قرآن – دائمی معجزہ اور زندہ دلیل– “ذکرکم” اس معنی میں بھی ہے کہ یہ کتاب ایک زندہ اور دائمی معجزہ ہے. یہ ایک ایسی نعمت ہے جو نازل ہونے کے بعد بھی ہر نسل میں زندہ رہے گی اور انسانیت کو معقول دلیل و رہنمائی  فراہم کرتی رہے گی، برخلاف ان گذرے تمام معجزات کے جو ایک عہد تک ہی محدود رہے ہیں۔ اس کتاب کی  اخلاقی تعلیمات، نظامِ حیات اور عقیدہ میں رہنمائی  وقتی یا عارضی نہیں ہے بلکہ  تمام زمانوں کے لیےہے- اب تک  کاانسانی علم  قرآن کی سی رہنمائی، انسانی زندگی کے کسی شعبے میں پیش نہیں کر سکا ہے۔  جدید سائنس، فلسفہ، سیاسی نظام یا معاشی ماڈل کسی میں بھی  وہ توازن نہیں جو قرآن ک پیش کردہ تعلیمات میں ہے اور قرآن ہر زمانے کے انسان کو چیلنج دیتا ہے کہ اس کا نعم البدل پیش کرے

7. قرآن –  تمہارے لیے حجت و دلیل– قرآن قیامت کے دن تمہارے لیے اللہ کے حضور حجت ثابت ہوگا۔ اس کے نزول کے بعد تم یہ عذر پیش نہیں کر سکو گے کہ ہمارے پاس کوئی رہنما نہیں آیا۔ یہ کتاب تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان واضح دلیل ہے

8. قرآن –  کفار کے اعتراضات کا جواب– یہ کفار مکہ کے ان اعتراضات کا جواب بھی ہے جن میں وہ قرآن کو شاعری، جادو یا پراگندہ خواب قرار دیتے تھے۔ اس کے برعکس قرآن ایک سنجیدہ، مفید اور ہمہ گیر کتاب ہے جس کا ہر حرف حقیقت پر مبنی ہے

9. قرآن –  امت کے شرف و ذمہ داری کی یاد دہانی– “ذکرکم” اس معنی میں بھی  کہ یہ تمہیں تمہاری ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے ہی نمونہ ہدایت ہے اور قیامت تک تمہیں اس کے امین بننا ہے۔یہ ایک بڑی ذمہ داری  ہے. اپنے آپ کو اس کتاب کے آئینے میں دیکھ کر، اس پر عمل کرنا اور انسانیت کے رہنمائے بننا، امت محمدیہ کا منصب ہے۔

فِيهِ ذِكْرُكُمْ کے یہ تمام معنی اور   مفاہیم  ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے بلکہ درحقیقت ایک دوسرے کی تائید اور تکمیل کرتے ہیں۔ قرآن مجید ایک ایسی جامع کتاب ہے جس میں انسان کے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام پہلو سما گئے ہیں۔ یہ ہر فرد کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں وہ اپنی حقیقت دیکھ سکتا ہے، اپنی خامیوں اور خوبیوں کو پہچان سکتا ہے، اور اپنے لیے راہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ گویا یہ وہ کتاب ہے  جس میں تمہارا ہی ذکر ہے

  •  قرآن میں ہر انسان کی اپنی سرگزشت ہے،چاہے مومن ہو، منافق یا منکر- عام انسان سے ولی و عالم تک ہر کردار کی مثالیں موجود ہیں
  • ہر فرد اور قوم کے انجام کی خبریں، اسباب، راستے اور انجام واضح کیے گئے ہیں
  • اس میں تعلیم و تربیت اور فکری بیداری کا سامان موجود ہے
  • دین، شریعت، مکارمِ اخلاق اور زندگی کے ہر پہلو کی تعلیم ہے
  • ہر دور کے مسلمان   کے  لیے عقائد، معاملات، اخلاق اور احکام کی راہنمائی ملتی ہے۔
  • ذاتی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی، اخلاقی – ہر مشکل کا حل اس کتاب میں موجود ہے۔
  • سابقہ قوموں کی نافرمانی  و تباہی – اور ان کے اسباقِ عبرت  جا بجا موجود ہیں

نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ جو سنن الترمذي میں روایت ہوئی ہے ، اس آیتِ کریمہ کی  تفسیر کرتی ہے کہ قرآن اپنی تعلیمات، نظامِ حیات اور عقیدہ کے اعتبار سے ہر دور کے لیے زندہ چیلنج ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فتنوں کے زمانے میں نجات صرف کتاب اللہ میں ہے، کیونکہ اس میں ماضی کی خبریں، آئندہ کے حالات، اور حال کے مسائل کا عدل پر مبنی حل موجود ہے۔ یہی قرآن وہ فیصلہ کن معیار ہے جس کے مطابق بولنے والا سچا، عمل کرنے والا کامیاب، فیصلہ کرنے والا عادل اور دعوت دینے والا سیدھے راستے پر ہوتا ہے۔ اس کے معانی کبھی پرانے نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے عجائب ختم ہوتے ہیں، اسی لیے یہ ہر نئی تہذیب اور ہر ابھرتی ہوئی فکری لہر کے سامنے تازہ رہتا ہے۔ یوں قرآن کی ابدی تازگی اور ہمہ گیر ہدایت ہی وہ پہلو ہے جو اسے ہر زمانے کے نظاموں اور فلسفوں کے لیے مستقل چیلنج بنا دیتی ہے:

عن الحارِثِ الأعْوَرِ قالَ: مَرَرْتُ فِي المَسْجِدِ، فَإِذَا النّاسُ يَخُوضُونَ فِي الأَحَادِيثِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيّ، فَقلت: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، أَلاَ تَرَى النّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الأحَادِيثِ؟ قالَ: وقد فَعَلُوهَا؟ قلت: نَعَمْ، قالَ: أَمَا إِني قد سَمِعْتُ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: “أَلاَ إِنّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقلت: مَا المَخْرَجُ مِنْهَا -يَا رَسُولَ الله-؟ قالَ: كِتَابُ الله، فِيهِ نَبَأُ مَا كان قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، وَهُوَ الفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبّارٍ قَصَمَهُ الله، وَمَنْ ابَتَغَى الهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلّهُ الله، وَهُوَ حَبْلُ الله المَتِينُ، وَهُوَ الذّكْرُ الْحَكِيمُ، وَهُوَ الصّرَاطُ المُسْتَقِيمُ، هُوَ الّذِي لاَ تَزِيعُ بِهِ الأَهْوَاءُ، وَلاَ تَلْتَبِسُ بِهِ الالْسِنَةُ، وَلاَ يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلاَ يَخْلُقُ عَلى كَثْرَةِ الرّدّ، وَلاَ تَنْقَضَي عَجَائِبُهُ، هُوَ الّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتّى قالُوا: {إِنّا سَمِعْنَا قُرْآنَا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرّشْدِ فَآمَنّا بِهِ}، مَنْ قالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ”. خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ (سنن الترمذي)

 

حضرت حارث اَعور کہتے ہیں: میں مسجد میں گزرا تو دیکھا کہ لوگ باتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ میں حضرت علیؓ کے پاس گیا اور عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ لوگ بحث و گفتگو میں پڑے ہوئے ہیں؟

حضرت علیؓ نے فرمایا: کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

“آگاہ ہو جاؤ! عنقریب ایک فتنہ برپا ہوگا۔”میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہوگا؟آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی کتاب۔ اس میں تم سے پہلے والوں کی خبریں ہیں، تمہارے بعد آنے والوں کی خبر ہے، اور تمہارے درمیان کے معاملات کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ کن کلام ہے، مزاح یا کھیل نہیں۔ جس جابر نے اسے چھوڑا اللہ اسے توڑ دے گا، اور جس نے اس کے سوا ہدایت چاہے اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، یہ حکمت بھرا ذکر ہے، یہ صراطِ مستقیم ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے خواہشات بگاڑ نہیں سکتیں، نہ زبانیں اسے گڈمڈ کر سکتی ہیں، علما اس سے کبھی سیر نہیں ہوتے، بار بار دہرانے سے یہ پرانی نہیں ہوتی، اور اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ جنّات نے جب اسے سنا تو کہا: {ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے، جو سیدھی راہ دکھاتا ہے، سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔} جس نے اس کے مطابق کہا، سچ کہا؛ جس نے اس پر عمل کیا، اسے اجر ملا؛ جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا، عدل کیا؛ اور جس نے اس کی طرف دعوت دی، وہ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کیا گیا۔”پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: “اے اَعور! یہ بات اپنے پاس محفوظ رکھ لو۔” (سنن ترمذی)

قرآن کا آئینہ: حضرت احنف بن قیسؒ  کی خودشناسی کا سفر

حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ  (جو  مشہور تابعی، زہد و حلم میں مشہور اور قبیلہ بنی تمیم کے سردار تھے) کا واقعہ  اس قرآنی آیت ’’ لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ‘‘ (سورۃ الانبیاء: 10) کی تفسیر میں بیان ہوتا ہے، جس میں انہوں نے خصوصی طور پر اپنے آپ کو اس کتاب میں تلاش کیا۔ اس واقعہ سے گہرے تدبر، قرآن کے ساتھ ذاتی تعلق اور خوداحتسابی کی عظیم مثال ملتی ہے۔

یہ مکمل قصہ ایک مضمون کی صورت میں سیّدابوالحسن علی ندویؒ نے اپنی معروف تصنیف “پرانے چراغ” (حصہ سوم) میں بیان کیا ہے ، جسے ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، نومبر 2018 کی اشاعت میں استفادۂ عام کے لیے  شائع کیا گیا

Check Also

قرآن میں ” نور” کا استعمال

  1۔ اللہ کے لیے “نور” اللہ تعالیٰ نے خود کو “نور” کہا ہے –  …