قرآنِ کریم نے ہدایت کے پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے مختلف اسالیب بیان اختیار کیے ہیں مخاطبین کی نفسیات، موقع اور مقصد کے مطابق، تاکہ مخاطب کے دل پر بات اُترے اور عقل میں اُتر جائے۔ ان مختلف اسالیب کا استعمال قرآن کو ایک نہایت بلیغ، مؤثر اور جامع کتاب بناتا ہے
قرآن کریم کے چند اہم اسالیبِ بیان اور ان کا مختصر تعارف:
1. قصص (قصوں کا انداز) – قرآن میں سابقہ اقوام اور انبیاء علیہ السلام کےبہت سے تاریخی اور سبق آموز واقعات بیان ہوئے ہیں تاکہ عبرت و نصیحت کے ذریعے سے حق کی وضاحت کر دی جائے (جیسے حضرت موسیٰ، حضرت یوسف، حضرت نوح علیہم السلام اور دیگر بہت سی اقوام کے قصص)
2. الترغیب والترہیب – جسے اسلوبِ انذار و تبشیر بھی کہا جا سکتا ہے ۔ یہ رغبت دلانے اور ڈرانے کا اسلوب ہے ۔ قرآنِ کریم اللہ کی رضا و خوشنودی، اور جنت کی نعمتوں کا ذکر کرکے رغبت دلاتا ہے اور جہنم اور اس کی مختلف سزاؤں کا ذکر کرکے ڈراتا ہے تاکہ دل میں شوقِ عمل اور خوفِ گناہ پیدا ہو
3. اسلوبِ احکام (قانونی انداز)– اس سے مراد وہ اندازِ بیان ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے شریعت کے احکام و قوانین (نماز، روزہ، زکوٰۃ، نکاح، طلاق، وراثت، تجارت، حدود، قصاص وغیرہ) کو واضح، قطعی اور عملی زبان میں بیان فرمایا، تاکہ لوگ ان پر عمل کر سکیں- ساتھ ساتھ ان پر عمل نہ کرنے کے عواقب بھی بیان فرمائے، کہیں امر کے ساتھ اور کہیں نہی کے ساتھ بیان فرمایا
4. استفہام کا اسلوب – یہ وہ اسلوب ہے جس میں سوال کے ذریعے سوچ، تدبر، انکار، یا اثبات کو ابھارتا ہے۔ استفہام(سوالیہ ) اسلوب عقل و دل کو جھنجھوڑنے اور توجہ مبذول کرانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ سوالات صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ اکثر غور و فکر، جذبے، تنبیہ، حجت یا الزام کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، تاکہ انسان سوچے، سمجھے، اور حق کی طرف رجوع کر سکے۔ یہ سوالات کبھی عقلی غوروفکر کی ترغیب دینے، کبھی منکرین کو چیلنج کرنے، اور کبھی حقائق کو واضح کرنے کے لیے ہوتے ہیں
اس مقصد کے لیے جو انداز اختیار کیے گئے ہیں ان میں تحیر /تعجب(Amazement/Wonder)، انکار / رد (Denial/Refutation
) ، توبیخ و ملامت (Reproach/Reprimand)، تقریر (بات منوانا) (Persuasion/Argumentation/Elucidation)، تحدّی (چیلنج)( Challenge) شامل ہیں
اسلوب ِ استفہام کے لیے قرآنِ کریم میں جو حروف/الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں
أَ ، مَا، مَن، كَيْفَ، أَيْنَ، مَتَىٰ، كَمْ، أَلَّا، أَفَلَا، أَمْ …
شامل ہیں
5. تشبیہات و استعارات– کا اسلوب قرآن کا ایک مؤثر اور بلیغ اسلوب ہے جس کے ذریعے سے قرآن بیان و حقائق کی معنوی گہرائی، اثرانگیزی اور فہم میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ اس سے مفہوم زیادہ واضح اور مؤثر بن جاتا ہے
تشبیہ کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے اس کی صفت یا کیفیت کے اعتبار سے مشابہ قرار دینا اور استعارہ، کسی چیز کو بلا اظہارِ تشبیہ کسی اور کے معنی میں استعمال کرنا، گویا کہ وہی چیز ہو۔
6. جدال و مکالمہ(مکالماتی انداز) – یہ وہ اندازِ بیان ہے جس میں دو یا زیادہ کرداروں کے درمیان بات چیت یا مکالمہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ انداز پڑھنے والےکو خود واقعات کے درمیان لا کر کھڑا کر دیتا ہے، گویا وہ خود اس مکالمے کا حصہ ہو۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراہیمؑ کا مکالمہ، اللہ تعالیٰ اور ابلیس کا مکالمہ، جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان مکالمہ، نوحؑ اور ان کے بیٹے کا مکالمہ، انبیاء علیہ السلام اور ان کی قوموں کے درمیان مکالمے… مختلف مقامات پر آئے ہیں
یہ مکالمے دلائل و حکمت سے بھرپور گفتگو، کرداروں کا تعارف اور ان کے جذبات کی عکاسی، سبق آموز اور ذہن نشین انداز اور واقعات کو دل نشیں اور حقیقی انداز میں پیش کرنے کے لحاظ سے انتہائی مؤثر واقع ہوئے ہیں
7. اسلوبِ تکرار – میں کسی بات، پیغام یا حقیقت کو مختلف مقامات پر، مختلف پیرایوں اور الفاظ میں بار بار بیان کرنا۔ تکرار ادب کے اندر ایک خامی تصور کیا جاتاہے لیکن قرآں کریم نے اس اسلوب کو اس طرح استعمال کیا ہے کہ ہر دفعہ اس میں نیا پہلو، نئی تاکید اور نیا موقع محسوس ہوتا ہے
- اس سے بیان کردہ حقیقت دل و دماغ میں بہتر طور پر نقش ہو جاتی ہے
- نئے اسلوب میں بات کہہ کر اس میں تازہ اور نیا اثر پیدا ہو جاتاہے
- تکرار کے باعث اس بات/حقیقت کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے
- مختلف فہم و عقل کے حامل لوگوں تک بات پہنچانا اور سمجھانا آسان ہو جاتا ہے
8. بیانیہ منظر نگاری – یہ قرآن کا اسلوبِ تصویر کشی ہے ، قرآنِ حکیم کے مؤثر ترین اسالیب میں سے ایک ہےجس کے ذریعے قرآن کسی منظر، واقعے یا کیفیت کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ گویا قاری اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھ رہا ہو اور وہ قاری کے سامنے ایک جیتی جاگتی تصویر بن جائے۔
اس اسلوب کے ذریعے قیامت کے مناظر، جنت و دوزخ کے مناظر، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون( کے جادوں گروں) کا مقابلہ، فرعون کی غرقابی، طوفانِ نوح کے مناظر….. کی زبدست منظر کشی کی گئی ہے
قرآن کا یہ اسلوبِ بیان (بیانیہ منظر نگاری) قاری کو صرف سننے یا پڑھنے تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اسے منظر کا حصہ بنا دیتا ہے جس سے وہ اس منظر کے کرداروں کے الفاظ، جذبات، اور حرکات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے
9. اسلوبِ مواعظ (نصیحت آمیز خطاب) – یہ قرآن کا وہ انداز ہے جس میں انتہائی نرمی، دلسوزی، اور خیرخواہی کے ساتھ نیکی کی ترغیب اور برائی سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں رحمت، محبت اور خیرخواہی کے جذبات ہیں، جو انسان کو اپنے رب کی طرف پلٹنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
اس کے لیےقرآنِ کریم نے نرم اوردلنشین لہجہ، خیر خواہی کا جذبہ، سبق آموز انداز، دل کو جھنجھوڑنے والی نصیحت اور انجام کے طرف توجہ دلانے ے ذرائع اختیار کیے ہیں
10. اسلوبِ تدریج – قرآنِ مجید کے حکیمانہ اسالیب میں سے ایک نہایت مؤثر اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ اندازِ بیان ہے۔ کسی حکم، تعلیم، یا اصلاحی بات کو مرحلہ وار، تدریجی طریقے سے بیان کرنا، تاکہ سننے والا آہستہ آہستہ اسے سمجھ سکے، قبول کر سکے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو جائے
قرآنِ مجید کےتدریجی اصول میں انسان کی نفسیاتی و فطری صلاحیت کو مدنظر رکھا گیا ہے ، چونکہ انسان کی طبیعت میں مزاحمت اور رفتہ رفتہ تبدیلی قبول کرنا شامل ہے، اس لیے قرآن کریم بات کو یکدم نافذ کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ، فطرت کے مطابق نازل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ہدایات نہ صرف زبانی قبول ہوئیں بلکہ دلوں میں اُتر گئیں اور عملی زندگی میں نافذ ہوئیں۔
- تدریج سے قبولیت اور عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے
- یہ تربیت اور اصلاح کا ایک مؤثر طریقہ ہے
- اس سے لوگوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالے بغیر ان کی ذہن سازی کی جا سکتی ہے
- سخت احکام کی سختی کو قبول کرنے میں آسانی ہو جا تی ہے
11. اسلوبِ اقسام (قسمیں کھانا) – کسی حقیقت یا اہم بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کی قسم کھائی ہیں۔ یہ قسمیں یا تو خود اللہ کی اپنی عظمت کی ہوتی ہیں یا پھر اپنی مخلوق کی، یعنی کائنات کی اشیاء (جیسے سورج، چاند، وقت، رات، دن، وغیرہ) کی۔ ان چیزوں کو اس حقیقت پر گواہ بنا کر اس بات یا حقیقت کا وزن اور اہمیت واضح کی جاتی ہے
قسموں کا اسلوب اندازِ بیان کو دلائل، تاثیر اور حکمت سے بھر پور بنا دیتا ہے، یہ کلام میں وزن پیدا کرتا ہے، سننے والا متوجہ ہوتا ہے، دلوں کو جھنجھوڑتا ہے، باتوں کو ذہن نشین کرتا ہے اور انسان کو غور و فکر پر آمادہ کرتا ہے۔
12. اسلوبُ الامثال( مثالیں ) – کسی بات یا حقیقت کو مثال کے ذریعے واضح کرنا تاکہ وہ سمجھنے میں آسان ہو جائے اور دل و دماغ پر اثر کرے۔ قرآن کریم میں حقائق، احکام، عقائد، اور اخلاقی تعلیمات کو امثال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہوہ عام فہم بن سکیں
- کوئی گہری بات یا باطنی حقیقت، ایک زندہ مثال کے ذریعے واضح کر دی جاتی ہے۔
- مثال سے بات فوراً ذہن نشین ہو جاتی ہے (خاص کر عام انسانوں کو)
- مثالیں سننے والےکے دل میں بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں
- قرآن کی مثالیں صرف فہم کے لیے نہیں بلکہ وہ نصیحت کا پہلو بھی لیے ہوئے ہو تی ہیں۔
- امثال سے باطنی معانی کو ظاہری صورت میں دکھایا جاتا ہے جس سے مشکل بات کی تفہیم میں آسانی ہو جا تی ہے
13. اسلوبِ علمی – قرآنِ حکیم کا وہ اندازِ بیان جس میں کائناتی حقائق، قدرت کے نظام، فطرت کے اصول، اور سائنسی مشاہدات کو بیان کیا گیا ہو۔ یہ انداز انسانی عقل و علم کو مخاطب کرتا ہے اور تفکر، تدبر، اور تحقیق پر ابھارتا ہے، تاکہ انسان اللہ کی قدرت کو پہچانے اور ایمان کی راہ اختیار کرے۔
اسلوبِ علمی قرآن کا ایسا حیرت انگیز اسلوب ہے جو عقل و علم کے طالبوں کو حق کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ اسلوب قرآن کو محض دینی کتاب نہیں، بلکہ آفاقی، عقلی اورعلمی رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔
یہ اسلوب انسان کی فطرتِ جستجو کو مطمئن کرتا ہے، ایمان میں پختگی پیدا کرتا ہے، اور انسانوں کو دعوتِ فکر دیتا ہے
14. التفات(ضمیر یا خطاب کا بدل جانا)– یہ قرآن کا وہ فنی اور بلیغ اسلوب ہے جس میں ضمیر یا خطاب کا انداز اچانک بدل جاتاہے، یعنی بات ایک شخص یا صیغے (مثلاً غائب، حاضر، متکلم) میں چل رہی ہو اور درمیان میں اس کا انداز بدل دیا جائے۔جیسے غائب سے حاضر، حاضر سے متکلم، واحد سے جمع، یا اس کے برعکس۔ یہ انداز قرآن کی بلاغت، تاثیر، اور حکمت کو نمایاں کرتا ہے۔
- اچانک انداز بدل کر قاری یا سامع کی توجہ اصل بات کی طرف مرکوز کروا لی جاتی ہے
- بیان میں یکسانیت نہیں رہتی اور بیان متنوع اور جاذب ہو جاتا ہے
- التفات ایک قسم کا “ذہنی جھٹکا” ہوتا ہے جو سامع کو غور و فکر پر مجبور کرتا ہے
- التفات حاضر کی طرف لانے سے خطاب زیادہ براہِ راست اور شدید ہو جاتا ہے
15. اسلوبِ دعا و مناجات- یہ قرآن کریم کا وہ اسلوب ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے دعا، التجا، اور راز و نیاز (یعنی مناجات) کا انداز اختیار کیا گیا ہے:
- یہ اسلوب اللہ تعالیٰ سے قربت ، دل کو نرم اور اللہ کی طرف مائل کرتا ہے
- احکام کی بنیاد میں اخلاص پیدا کرتا ہے
- بندے کو اللہ کے ساتھ تعلق کا شعور دیتا ہے
- بتاتا ہے کہ ہر حکم کا مقصد قلبی تبدیلی ہے
QuranTazkeer قرآن کی تذکیر اور تدبر