قرآن کریم کی سائنسی تفسیر کیا ناممکن العمل ہے ؟

جواز کی وجوہات : قرآن کی سائنسی تفسیر کے جواز میں چند اہم نکات پیش کیے جا سکتے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ رجحان نہ صرف ممکن ہے بلکہ فکری طور پر قابلِ توجیہ بھی ہے۔ ان میں سے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں

  • قرآنی آیات میں امکانات: متعدد قرآنی آیات میں ایسے مظاہر کے حوالے موجود ہیں جو سائنسی تفسیر و تعبیر کے لیے کافی امکانات رکھتے ہیں  ( مشہور مفسر علامہ طنطاوی جوہری  کے مطابق کہ قرآن کی 750 آیات ایسی ہیں جو واضح طور پر طبعی کائنات سے متعلق ہیں)
  • تفسیر کا تنوع: جس طرح ایک قانون دان قانون سے متعلق آیات پر توجہ دیتا ہے اور ایک حیاتیات دان جنین کے ارتقائی مراحل پر، یہ دونوں دلچسپیاں اپنی جگہ اہم ہیں اور ایک کی دلچسپی کو دوسرے پر تفوق حاصل نہیں ہے
  •  الفاظ کے معنی کی متعدد تہیں: لسانی نقطۂ نظر سے یہ عین ممکن ہے کہ ایک لفظ یا بیان کے معنی کی کئی تہیں ہوں ۔ ایک تہہ ایک عہد میں بامعنی ہو جبکہ دوسری تہہ اگلے عہد میں پہلی کی نفی کیے بغیر بامعنی ہو جائے ۔ مثال کے طور پر لفظ “یَسْبَحُونَ” (تیرنا) جو ساتویں صدی کے عربوں کے لیے بھی ایک خاص معنی رکھتا تھا اور آج جدید سائنسی نظریات کی روشنی میں بھی ایک خاص معنی رکھتا ہے (سیاروں کا مدار میں گردش کرنا)
  • قرآن کا تدبر اور تفکر کی دعوت:قرآن مجید بارہا انسان کو آفاق و انفس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے

“سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّۗ” (حم السجدہ: 53)۔

یہ دعوت محض روحانی نہیں بلکہ سائنسی تفکر کو بھی مہمیز دیتی ہے، کیونکہ کائنات میں غور کرنا دراصل خالق کے نظام کو سمجھنے کی ایک راہ ہے۔ اس لحاظ سے سائنسی تدبر بھی قرآنی تدبر ہی کی ایک صورت ہے۔

قرآن کی سائنسی تفسیر پر گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل نکات نہایت اہمیت رکھتے ہیں، جو اس رجحان کی فکری نوعیت، اس کے محرکات، حدود اور امکانات کو متوازن انداز میں واضح کرتے ہیں:

  1. محرکات (Motivations): سائنسی تفسیر کی حمایت میں دو بنیادی محرکات کارفرما ہیں:
  • منفی محرک (دفاعی پہلو):یہ جذبہ اس خواہش سے پیدا ہوتا ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن اور جدید سائنس کے درمیان کوئی تضاد یا کشمکش نہیں۔ اس کا مقصد قرآن کو جدید علمی معیار کے مطابق ایک دفاعی پوزیشن میں پیش کرنا ہے
  • مثبت محرک (اعجاز القرآن):یہ تصور اس یقین پر مبنی ہے کہ قرآن میں پوشیدہ سائنسی حقائق اس کے الہامی ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ تاہم “اعجازِ قرآن” کے نام پر سائنسی توجیہات کا یہ دروازہ ماضی میں منکرین کے چیلنجز کا بھرپور جواب نہ دے سکا، اس لیے ہر دور میں اسے ازسرِ نو کھولنے کی ضرورت نہیں

2. قرآن کے علم کی نوعیت (Nature of Qur’anic Knowledge):قرآن میں موجود سائنسی اشارے کسی مخصوص زمانی یا تاریخی علم کی طرح نہیں بلکہ عمومی اور رہنمائی کے پہلو سے ہیں۔جس طرح قرآن نے تمام تاریخی واقعات کی تفصیل نہیں دی،اسی طرح مستقبل کے تمام سائنسی انکشافات کو بیان کرنے کا دعویٰ بھی قرآن کا مقصد نہیں۔ قرآن کا علم نوعی (Generic/Typological)اور اصولی ہے، تفصیلی نہیں

3۔ حوصلہ افزائی(Encouragement for Scientific Inquiry): قرآن قدرت کے مظاہر پر غور و فکر کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔یہ محض قانون یا تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ تخلیقِ کائنات کے مطالعے کے لیے ایک روحانی اور فکری تحریک بھی فراہم کرتا ہے۔ قرآن کا یہ انداز دراصل سائنسی ذہن کے فروغ کی دعوت ہے۔

4۔ عمل کی تیاری (Preparation for Action):

قرآنی دعوتِ تفکر پر سنجیدگی سے عمل کے لیے امتِ مسلمہ کو فکری، علمی اور تہذیبی سطح پر ازسرِنو تیاری درکار ہے۔    یہ تیاری صرف جدید سائنسی یا مادی علوم کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس میں اپنی مسلم علمی روایت کی گہری آگہی، اس کے فکری ڈھانچے کا شعور، اور اس روایت سے نئے علمی امکانات اخذ کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید علم کے ساتھ مکالمہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی فکری روایت سے ٹوٹ کر نہیں بلکہ اسی کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔

مفسرین جنہوں نے اپنی تفاسیر میں   مروجہ جدید علوم سے  استفادہ کیا

  • ابوالحسن علی بن الحسن المسعودی( چوتھی صدی ہجری) – آپ تاریخ و جغرافیہ میں ماہر تھے، قرآن کی تفسیر میں زمین، کائنات اور جغرافیائی حقائق کی سائنسی بنیاد پر تحقیقات شامل کرتے رہے۔ ان کے آثار میں سائنسی مباحث اور کائنات کی ساخت کے حوالے سے جدید رجحانات ملتے ہیں
  • الزمخشری   (چھٹی صدی ہجری) – آپ نے اپنی تفسیر کشاف میں بلاغت، محاورات، الفاظ کی لسانی معلومات اور کلامی علوم سے نہ صرف استفادہ کیا بلکہ اس کو اس کاملیت سے بیان کیا کہ تفسیر میں  معانی اور بلاغت کا ایک حوالہ  (reference)ہے
  • امام ابو حامد الغزالی  ( ساتویں صدی ہجری) – آپ کی تفسیر میں  طبیعیات، فلسفہ، ریاضی، طب اور اس وقت کے جدید علوم کے حوالے سے علمی مباحث اور سائنسی اشارات ملتے ہیں
  • امام فخر الدین رازی ( ساتویں صدی ہجری) – آپ کی تفسیرکبیر (المعروف “مفاتیح الغیب”) میں کائنات، طبیعات، انسان کے تخلیقی مراحل پر فلسفیانہ و “علمی” استدلال، طب، ریاضی اور اس وقت کے جدید علوم کے حوالے سے علمی مباحث اور سائنسی اشارات ملتے ہیں
  • بیضاوی ( ساتویں صدی ہجری) – آپ کی تفسیر “انوار التنزیل وأسرار التأویل” اعلیٰ درجے کا علمی و فقہی مجموعہ ہے جو قرآنی علوم، لغت، نہج النحو، اصول التفسیر، اور اس زمانے کے علمی علوم کے امتزاج پر مبنی ہے۔
  • امام ابن کثیر ( آٹھویں صدی ہجری) آپ کی تفسیر قرآن مجید کا ایک معتبر و معروف ماخذ ہے جو محدثین و مفسرین کی روایات، احادیث، اقوال صحابہ، تابعین اور تاریخی قصص کے ساتھ قرآن کی تشریح کرتی ہے۔اس کے علاوہ طب، فلکیات، تاریخی ، جغرافیائی، لغوی ، نحوی علوم  سے بھی خوب استفادہ کیا تفسیر میں۔
  • ابن خلدون( آٹھویں/نویں صدی ہجری) – آپ  اگرچہ مفسرِ قرآن نہیں ہیں لیکن  آپ کا شمار  دورِ متوسط  کے نمایاں اہل ِ علم میں ہوتا ہے ۔ قرآن کے “سننِ تکوینی” (قوانینِ فطرت) اور “سننِ تاریخی” (قوانینِ عمرانیات) کے باہمی تعلق پر گفتگو کی۔ آپ کے نزدیک قرآن میں فطرت اور معاشرت دونوں کے وہ بنیادی اصول بیان ہیں جو عقلِ انسانی کے مشاہدے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ان کا یہ طرزِ فکر سائنسی شعورِ قرآنی کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔
  • شاہ ولی اللہ دہلوی( بارہویں صدی ہجری) – آپ نے اپنے رسالے الفوز الکبیر فی اصول التفسیر اور اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں قرآن کے نظمِ تکوین اور انسانی عقل کے ربط پر زور دیا۔ آپ نے اپنی تفسیر میں عقلی و نقلی علوم کا حسین امتزاج پیش کیا اور مختلف علوم مثل فلسفہ، تصوف اور معاشرتی علوم سے استفادہ کیا تاہم یہ واضح کیا کہ قرآن میں موجود طبیعی، حیاتی، اور سماجی اشارات عقل کو حرکت دینے کے لیے ہیں، نہ کہ تفصیلی علمی بیان کے لیے۔ان کے نزدیک ” آیاتِ آفاق و انفس” کا مقصد یہی ہے کہ انسان فطرت کا مشاہدہ کرے اور خالق کی حکمت تک پہنچے
  • شیخ طنطاوی جوہری (تیرہویں صدی ہجری – 19ویں صدی عیسوی)- آپ  نے اپنی تفسیر  “الجواهر فی تفسیر القرآن” میں جدید سائنسی علوم کو نمایاں طور پر شامل کیا اور قرآن کی آیات کی سائنسی تشریحات پیش کیں،  آپ کو سائنسی تفسیر کا اولین نمایاں نمائندہ سمجھا جاتا ہے ،  انہوں نے قرآن کی تقریباً ہر آیت میں سائنسی مظاہر تلاش کرنے کی کوشش کی اور تقریباً سات سو آیات کو جدید سائنس کے مختلف شعبوں کے اصولوں اور دریافتوں کے ساتھ بیان کیا۔ وہ سائنسی تفسیر کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں، بلکہ اس کا وجوب (واجب ہونا) بھی بیان کرتے ہیں.
  • شیخ محمد عبده  اور رشید رضا (20ویں صدی عیسوی)-ان دونوں نے تفسیر المنار میں قرآن کے عقلی و تجربی پہلو پر زور دیا۔ ان کے نزدیک قرآن فطرت کے مشاہدے اور عقل کے استعمال کی دعوت دیتا ہے، لہٰذا سائنسی دریافتیں اگر قرآن کے بیان سے ہم آہنگ ہوں تو یہ تائیدِ ایمان کا باعث بن سکتی ہیں البتہ وہ “طنطاوی طرز” کی مبالغہ آمیز سائنسی تاویلات کے قائل نہیں تھے
  • ڈاکٹر محمد اقبال (20ویں صدی عیسوی) – آپ اگرچہ مفسرِ قرآن نہیں تھے لیکن اپنے مشہورِ زمانہ مقالے” تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ(The Reconstruction of Religious Thought in Islam)” میں انھوں نے قرآن کی آیات کو سائنس اور فلسفۂ جدید کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کے نزدیک قرآن “تفکر” کی کتاب ہے، اور جدید علم اس تفکر کو وسعت دینے کا ذریعہ ہے۔
  • سید ابو الاعلیٰ مودودی(20ویں صدی عیسوی)- آپ نے اس بحث کے  ضمن میں ایک خاص توازن کی نمائندگی کی ہے ۔ آپ قرآن اور جدید علم کے تعلق کو تسلیم کرتے ہیں، مگر “سائنسی تفسیر” کی انتہاؤں سے پرہیز کرتے ہیں، آپ نے قرآن کو عقلی، فطری اور عملی کتابِ ہدایت کے طور پر پیش کیا۔آپ کے نزدیک قرآن:

“نہ تو سائنس کی کتاب ہے، نہ فلسفہ کی، بلکہ وہ کتابِ ہدایت ہے – مگر اس کی ہدایت فطرتِ انسانی اور کائناتِ الٰہی دونوں کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔”

آپ  نےان مفسرین (مثلاً طنطاوی جوہری وغیرہ) پر تنقید کی جو ہر سائنسی دریافت کو قرآن میں تلاش کرنے لگے۔ان کے نزدیک “یہ رویہ قرآن کو ایک وقتی، تغیر پذیر علم کے تابع بنا دیتا ہے، حالانکہ قرآن کا مقصود انسان کو ہدایت دینا ہے، سائنس پڑھانا نہیں” لیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ جہاں قرآن فطرت کی نشانیوں کا ذکر کرتا ہے، وہاں وہ عقل کو دعوت دیتا ہے کہ کائنات کے نظام پر غور کرے، اور یہی غور و فکر جدید سائنسی شعور کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے ۔  گویا آپ سائنس کے ساتھ مکالمہ کے قائل ہیں، تابعیت کے نہیں۔

  • ان کے علاوہ جدید مفسرین(اور علماء) جنہوں نے اپنی تفاسیر میں جدید علوم اور سائنس سے استفادہ کیا یا اس کے قائل ہیں ان میں علامہ عبدالرحمن الکواکبی، سید قطب شہید، پیر کرم شاہ  الازہری، عبدالماجد دریاآبادی، ڈاکٹر مصطفٰی محمود (مصر)، شیخ عبدالمجید الزندانی (یمن) ، ڈاکٹر طاہر القادری، ڈاکٹر اسرار احمد، علامہ محمد اسد، ڈاکٹر زغلول النجار، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، ڈاکٹر مورس بکائے، ڈاکٹر طارق رمضان  شامل ہیں
  • حوالہ جات و مزید کتب برائے مطالعہ
  • قرآن کی سائنسی تفسیر(Scientific Exegesis of the Qur’an)  –  ڈاکٹر  ظفر اسحاق انصاری
  • قرآنی آیات کی سائنسی تشریح – خطرات اور تدارک ۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
  • قرآن کی سائنسی تفسیر – علامہ اسید الحق قادری بدایونی
  • قرآن کریم کے فقہی اور سائنسی مضامین – خورشید حسن قاسمی
  • قرآن پاک کے نئے سائنسی معجزات – ڈاکٹر سلطان بشیر محمود
  • تفسیر قرآن میں سائنس سے استفادہ – غلام حقانی
  • جدید سائنسی ایجادات اور مسلمان سائنسدانوں کا حصہ – سید حسین نصر
  • اسلام اور سائنس میں تضاد کا تحقیقی جائزہ – محمد ذوالقرنین ، راؤ فرحان علی
  • Quranic Scientific Tafsir: Is it Feasible?  By Professor Mustansar Mir
  • The Bible, the Qur’an and Science  – Dr. Maurice Bucaille
  • The Significance of Scientific Interpretation in Da’wah and Its Impact in the Modern Era (Analytical Study) – Sadaqat Hussain, Dr. Amjad Hayat

Check Also

اسماءِ حسنیٰ

اسماء حسنی ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں:اللہ تعالیٰ کے بہترین نام۔ یہ …