تہذیبی ترقی میں انبیاء علیہ السلام کا کردار

  • انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زمین و فضا، پانی و ہوا، اور دھات و مٹی میں چھپے وسائل کو دریافت کرتا آیا ہے
  • مگر ہر دور میں کچھ ایسے فیصلہ کن موڑ (turning points) آئے ہیں جنہوں نے انسانی تہذیب کا رخ بدل دیا ، یہ وہ ایجادات یا انکشافات تھے جنہیں آج ہم “Groundbreaking innovations ” یا انقلاب آفریں خیالات کہتے ہیں
  • قرآنِ کریم نے ان میں سے کئی کا ذکر کیا ہے تاکہ واضح ہو کہ علم، تحقیق، اور ایجادات نہ صرف مباح ہیں بلکہ اسلامی عبادت کا ایک حصہ ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد انسانیت کی خدمت اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ہو۔
  • انسان کی حاجات پوری کرنے کے لیے قدرتی وسائل کی دریافت اور ایجادات میں انبیاء علیہ السلامنے بھی ایک اہم کردار اداکیاجن کی بنیاد پر تہذیبیں استوار ہوئیں( اگرچہ انبیاء علیہ السلام کی آمد کا بنیادی مقصد لوگوں کی ہدایت کی طرف بلانا تھا)

انبیاء کا تہذیبی کردار:

  • حضرت آدم علیہ السلام– علم الاسماء/علم و تعلیم-  (علم کے تمام شعبوں) کی تعلیم اور فکر ودانش کی بنیاد رکھی۔ “وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا” (البقرہ: 31)یعنی چیزوں کی پہچان، درجہ بندی اور نام رکھنے کا عمل – جو آج کے سائنسی علم و مشاہدے کی بنیاد ہے –  یہ انسانی تہذیب کی پہلی اینٹ تھی۔ یہی صلاحیت انسان کو علمی تفوق (intellectual superiority) عطا کرتی ہے۔
  • حضرت ادریس علیہ السلام -تحریر و حساب کے موجد – حضرت ادریسؑ کا ذکر قرآن میں نیک، صادق اور بلند درجے والے نبی کے طور پر ہوا ہے، اسلامی مؤرخین اور محدثین و مفسرین  آپ کو کو پہلی تحریر (لکھائی) کا موجد س مانتے ہیں، آپ ؑ نے نے تحریر (writing)، حساب (calculation) اور درزی گری (tailoring) کی بنیاد رکھی۔ لکھنے کی دریافت نے انسانی یادداشت کو محفوظ کرنا، علم کا منتقل ہونا، اور تہذیبوں کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔

(نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ أوّلُ مَن خَطَّ بالقَلمِ إدريسُ یعنی سب سے پہلے قلم کے ذریعے لکھنے والے حضرت ادریسؑ تھے)

  • حضرت نوح علیہ السلام – بحری ٹیکنالوجی کی بنیاد- نوح علیہ السلام نے  اللہ کی ہدایت سے بڑی کشتی بنائی، جو انسانی تاریخ میں وسیع پیمانے پر سمندری سفر کے لیے بنیاد بنی (وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا ہود: 37 )        یہ انسانی تاریخ کا پہلا واضح ریکارڈ ہے کہ انسان نے منظم جہاز سازی (shipbuilding) کی۔ یہ ایک انقلابی دریافت تھی جس نے آبی سفر(marine navigation) کی راہ ہموار کی، جو بعد میں تجارت، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد بنی اور نسبتاً بڑے جہازوں  کے ذریعےجہاز رانی کو ممکن بنایا۔
  • حضرت یوسف علیہ السلام – معاشی نظم و انتظام کے موجد- یوسف علیہ السلام نے انتظامی مہارتوں اور انسانی وسائل کے تحفظ کے اصول وضع کیے، قحط کے زمانے میں زرعی و معاشی منصوبہ بندی(economic planning) کا نظام قائم کیا، یہ تاریخ کا پہلا ریکارڈ شدہ resource management model  تھا ، جس میں منصوبہ بندی(Strategic Planning   Economic &) ، ذخیرہ اندوزی (Stockpiling)، انسانی وسائل کا نظم (Human Resource Management) ، اور بحران  کے دوران خوراک کی تقسیم (Food Security /Crisis-time Policies) کے اصول وضع کیے۔
  • حضرت داؤد علیہ السلام – صنعتی و عسکری انقلاب- اللہ نے داؤدؑ کے لیے لوہا نرم کر دیا (وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ)۔ لوہے کے استعمال کی شروعات داؤد علیہ السلام کے دور میں ہوئی، یہ ایجاد انسانی تاریخ میں Iron Age Revolution کی علامت تھی ،  جو دفاع، صنعت ، زراعت اور تعمیر میں  ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
  • حضرت سلیمان علیہ السلام –  انجینئرنگ اور ہوائی و بحری قوت – آپ نے عظیم الشان تعمیرات، انتظامیہ اور مواصلات کا بے مثال نظام قائم کیا۔

(وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ)۔

یہ اشارہ ہے آپ نے جونیویگیشن، تجارت، اور تعمیرات میں ہوا کی طاقت کو استعمال کیا۔ آپ جنوں سے محلات اور تعمیرات بناتے تھے ،یہ تعمیراتی انجینئرنگ (architectural engineering) کی ترقی کی علامت ہے۔ جسے انسانوں نے بعد میں سیکھ کر اپنایا اور انسانی تمدن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا

  • حضرت ذوالقرنین– دفاعی انجینئرنگ اور عالمی نظم – آپ نبی نہ تھے لیکن آپ کا ذکر قرآن میں ایک عادل، منصف اور صالح حکمران کے طور پر آیا ہے جنہوں نے یاجوج  ماجوج  ( کی وحشی اقوم)کے خلاف ایک مضبوط لوہے کی دیوار تعمیر کی اور لوگوں کو ان کے وحشت و بربریت سے محفوظ کیا۔ یہ انسانی تاریخ میں  دھاتیات (Metallurgy) کے بڑے پیمانے پر استعمال کی پہلی مثال ہے جسے ایک تہذیبی سنگِ میل سمجھا جا سکتا ہے، اورجو حیرت انگیز طور پر درست  سائنسی انداز میں انجام دیا گیا۔ یعنی ایک دھات پر دسری دھات کو چڑھایا گیا تاکہ تاکہ وہ زیادہ مضبوط اور پائیدار ہو جائے جسے آج کل metal layering یا metal alloying کہا جاتا ہے –  یہ بصیرت، انجینئرنگ مہارت، اور تمدنی خدمت کابہترین مرقع ہے

اسلام کا تصورِ علم و  ترقی (انبیاء کی وراثت سے جدید تہذیب تک)

  • قرآن و احادیث کی ان چند مثالوں  میں انبیاء کے ذریعے ہونے والی علمی و تکنیکی ترقی کو اس لیے بیان کیا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو کہ انبیاء علیہم السلام نے نہ صرف روحانی و اخلاقی رہنمائی کی بلکہ سائنسی، معاشی اور تمدنی بنیادیں بھی رکھیں ( اگرچہ ان کی آمد کا بنیادی مقصد انسانیت کی ہدایت تھی)
  • انسانی تہذیب  میں شامل چیزیں ( مثلاً جہاز سازی، تحریر، زراعت، معیشت، صنعت، دفاع، انجینئرنگ، حکمرانی اور اخلاق) سب دراصل ایک ہی الٰہی پیغام کی مختلف تجلیات ہیں (عَلَّمَ الإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ – العلق، اللہ نے انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا )
  • اسلامی فکر میں علم و ایجاد ایک عبادت ہے، اگر وہ انسانیت کے مفاد میں ہو،عدل و خیر پر مبنی ہو،اور غرور و فساد کے بجائے شکر و خدمت کے جذبے سے کی جائے۔
  • اسلام کا تصور علم ہرگز انفرادی مفاد کا حامی نہیں۔ جو علم یا ایجاد انسانیت کے لیے مفید ہو، اسے چھپانا خیانت کے مترادف ہے
  • علم و ایجادات کا اصل مقصد انسان کی فلاح، عدل، اور زندگی کو آسان بنانا ہے، نہ کہ ظلم، استحصال یا تباہی پھیلانا۔ جب علم/ٹیکنالوجی اخلاق  سے جدا ہو جائے تو ترقی بھی فساد میں بدل جاتی ہے اور انسانیت کے لیے تباہی لاتی ہے
  • اسلام کا یہ جامع تصورِ ترقی آج کے دور میں بھی انسانیت کے لیے راہنما اصول فراہم کرتا ہے، جہاں سائنس و ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز کارنامے اخلاقی قدروں کے بغیر تباہی کا سبب بن رہے ہیں

Check Also

لوہے کا دور اور داؤد علیہ السلام

تاریخی اعتبار سے لوہے کا دور (Iron Age) تقریباً 1200 قبل مسیح میں شروع ہوا، …